السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في كنايات الطلاق التي لا يقع الطلاق بها إلا أن يريد بمخرج الكلام منه الطلاق باب: طلاق کے ان کنایہ (مبہم) الفاظ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان جن سے طلاق اس وقت تک واقع نہیں ہوتی جب تک کہ کلام ادا کرنے والا اس سے طلاق کا ارادہ نہ کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ أنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ أنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، نا غَسَّانُ بْنُ مُضَرَ، نا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْحَلَالِ الْعَتَكِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّهُ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَافِ مَعَنَا الْمَوْسِمَ فَأَتَاهُ الرَّجُلُ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَقَالَ تَرَى ذَلِكَ الْأَصْلَعَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ اذْهَبْ إِلَيْهِ فَسَلْهُ ثُمَّ ارْجِعْ فَأَخْبِرْنِي بِمَا رَجَعَ إِلَيْكَ، قَالَ: فَذَهَبَ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ مَنْ بَعَثَكَ إِلِيَّ؟ فَقَالَ: أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: إِنَّهُ قَالَ لِامْرَأَتِهِ حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ، فَقَالَ: اسْتَقْبِلِ الْبَيْتَ وَاحْلِفْ بِاللهِ مَا أَرَدْتَ طَلَاقًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَأَنَا أَحْلِفُ بِاللهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا الطَّلَاقَ، فَقَالَ: " بَانَتْ مِنْكَ امْرَأَتُكَ ".ابوحلال عتکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جس نے اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے تھے: «حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ»۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حج کے موقع پر ہمیں ملنا۔“ تو اس شخص نے بیت اللہ کے اندر اپنا قصہ سنایا تو انہوں نے فرمایا: ”آپ اس اصلع کو دیکھتے ہیں جو بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے، ان سے جا کر سوال کرو، پھر واپس آکر مجھے بتانا۔“ جب وہ شخص ان کی طرف گیا تو وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”آپ کو کس نے میری طرف بھیجا ہے؟“ تو اس شخص نے کہا: ”امیر المؤمنین نے کہ اس نے اپنی بیوی سے کہا ہے: «حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ»۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ بیت اللہ کی طرف منہ کر کے اللہ کی قسم اٹھائیں کہ آپ نے طلاق کا ارادہ نہیں کیا؟“ تو اس شخص نے کہا: ”میں نے تو اللہ کی قسم! طلاق کا ارادہ کیا تھا۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تیری بیوی تجھ سے جدا ہوگئی۔“