السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في كنايات الطلاق التي لا يقع الطلاق بها إلا أن يريد بمخرج الكلام منه الطلاق باب: طلاق کے ان کنایہ (مبہم) الفاظ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان جن سے طلاق اس وقت تک واقع نہیں ہوتی جب تک کہ کلام ادا کرنے والا اس سے طلاق کا ارادہ نہ کرے۔
حدیث نمبر: 15012
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، أنا مَنْصُورٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِامْرَأَتِهِ: حَبْلُكِ ⦗٥٦٣⦘ عَلَى غَارِبِكِ قَالَ ذَلِكَ مِرَارًا فَأَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاسْتَحْلَفَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ مَا الَّذِي أَرَدْتَ بِقَوْلِكَ؟ قَالَ: أَرَدْتُ الطَّلَاقَ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا قَالَ الشَّيْخُ: وَكَأَنَّهُ إِنَّمَا اسْتَحْلَفَهُ عَلَى إِرَادَةِ التَّأْكِيدِ بِالتَّكْرِيرِ دُونَ الِاسْتِئْنَافِ وَكَأَنَّهُ أَقَرَّ فَقَالَ أَرَدْتُ بِكُلِّ مَرَّةٍ إِحْدَاثَ طَلَاقٍ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا: «حَبْلُكِ عَلَىٰ غَارِبِكِ» اس نے بار بار یہ الفاظ کہے تو پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ انہوں نے رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان اس سے قسم کا مطالبہ کیا کہ تیرا اس قول سے کیا ارادہ تھا؟ اس نے کہا: میں نے طلاق کا ارادہ کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے درمیان تفریق کروا دی۔
شیخ فرماتے ہیں: قسم کا مطالبہ اس سے صرف تاکید کی غرض سے تھا کہ وہ اقرار کر لے کہ میں نے ہر مرتبہ طلاق کا ہی ارادہ کیا تھا تو پھر ان دونوں کے درمیان تفریق ڈلوا دی۔