السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في كنايات الطلاق التي لا يقع الطلاق بها إلا أن يريد بمخرج الكلام منه الطلاق باب: طلاق کے ان کنایہ (مبہم) الفاظ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان جن سے طلاق اس وقت تک واقع نہیں ہوتی جب تک کہ کلام ادا کرنے والا اس سے طلاق کا ارادہ نہ کرے۔
حدیث نمبر: 15013
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي كِتَابِ الْقَدِيمِ وَذَكَرَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رُفِعَ إِلَيْهِ رَجُلٌ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ فَقَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: انْظُرْ بَيْنَهُمَا فَذَكَرَ مَعْنَى مَا رَوَيْنَا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَأَمْضَاهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثَلَاثًا قَالَ: وَذُكِرَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلُهُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا لَا يُخَالِفُ رِوَايَةَ مَالِكٍ وَكَأَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَعَلَهَا وَاحِدَةً كَمَا قَالَ فِي الْبَتَّةِ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَعَلَهَا ثَلَاثًا وَاللهُ أَعْلَمُ، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُمَا جَمِيعًا جَعَلَاهَا ثَلَاثًا لِتَكْرِيرِهِ اللَّفْظَ فِي الْمَدْخُولِ بِهَا ثَلَاثًا، وَإِرَادَتِهِ بِكُلِّ مَرَّةٍ إِحْدَاثَ طَلَاقٍ كَمَا قُلْنَا فِي رِوَايَةِ مَنْصُورٍ عَنْ عَطَاءٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کو لایا گیا، جس نے اپنی بیوی سے «حَبْلُكِ عَلَىٰ غَارِبِكِ» کے الفاظ کہے تھے، تو انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ان کے درمیان فیصلہ کیجیے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تین طلاق کا فیصلہ کر دیا۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ مالک کی روایت کے مخالف ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ایک شمار کیا تھا جیسے بتہ میں تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو تین شمار کیا ہے اور ممکن ہے سب نے ان کو تین ہی قرار دیا ہو مدخول بہا کے لیے۔