حدیث نمبر: 15005
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ كَعْبٍ، قَائِدَ كَعْبٍ حِينَ عَمِيَ مِنْ بَنِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ وَأَنَّ رَسُولَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ " فَقُلْتُ: أُطَلِّقُهَا أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ بِهَا؟ فَقَالَ: لَا بَلِ اعْتَزِلْهَا فَلَا تَقْرَبَنَّهَا، وَأَرْسَلَ إِلَى صَاحِبَيَّ بِمِثْلِ ذَلِكَ، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَهْلِكِ فَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللهُ هَذَا الْأَمْرَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ اللَّيْثِ. فَفِي هَذَا مَعَ الْأَوَّلِ كَالدَّلَالَةِ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ الْحَقِي بِأَهْلِكِ كِنَايَةٌ إِنْ أَرَادَ بِهِ الطَّلَاقَ كَانَ طَلَاقًا، وَإِنْ لَمْ يُرِدْهُ لَا يَكُونُ طَلَاقًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنا قصہ بیان کرتے ہیں، جس وقت وہ غزوہ تبوک میں نبی ﷺ سے پیچھے رہ گئے۔ یہ ایک لمبی حدیث ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کا قاصد آیا، اس نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ آپ اپنی بیوی سے جدا رہیں۔“ میں نے کہا کہ میں اس کو طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: ”اس سے الگ رہنا ہے، قریب نہیں جانا۔“ اور آپ ﷺ نے میرے دو ساتھیوں کی جانب بھی کسی کو بھیجا تو میں نے اپنی بیوی سے کہا: ”اپنے گھر چلی جاؤ، ان کے پاس رہنا یہاں تک کہ اللہ اس معاملے کا فیصلہ فرما دے۔“
«الْحَقِي بِأَهْلِكِ» ”اپنے گھر چلی جاؤ“ یہ ایسے الفاظ ہیں جو طلاق سے کنایہ ہیں، اگر اس سے طلاق مراد لی جائے تو طلاق ہو جائے گی اور اگر طلاق کا ارادہ نہ ہو تو طلاق واقع نہ ہو گی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15005
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»