السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في كنايات الطلاق التي لا يقع الطلاق بها إلا أن يريد بمخرج الكلام منه الطلاق باب: طلاق کے ان کنایہ (مبہم) الفاظ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان جن سے طلاق اس وقت تک واقع نہیں ہوتی جب تک کہ کلام ادا کرنے والا اس سے طلاق کا ارادہ نہ کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّهُ كُتِبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنَ الْعِرَاقِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِامْرَأَتِهِ: حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ فَكَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى عَامِلِهِ أَنْ مُرْهُ أَنْ يُوَافِيَنِي فِي الْمَوْسِمِ فَبَيْنَمَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ لَقِيَهُ الرَّجُلُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الَّذِي أَمَرْتَ أَنْ يُجْلَبَ عَلَيْكَ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ بِرَبِّ هَذِهِ الْبَنِيَّةِ هَلْ أَرَدْتَ بِقَوْلِكَ حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ الطَّلَاقَ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: لَوِ اسْتَحْلَفْتَنِي فِي غَيْرِ هَذَا الْمَكَانِ مَا صَدَقْتُكَ أَرَدْتُ الْفِرَاقَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " هُوَ مَا أَرَدْتَ " ⦗٥٦٣⦘.امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو عراق سے ایک خط لکھا گیا کہ ایک شخص نے اپنی عورت سے یہ الفاظ کہے ہیں: «حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ»، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عامل کو لکھا کہ اسے حکم دیں کہ وہ حج کے موقع پر مجھ سے ملاقات کرے، تو اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے طواف کرتے وقت ملاقات کی اور سلام کہا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں وہ ہوں جس کو آپ نے حاضر ہونے کا کہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تجھے اس عمارت کے رب کی قسم! تیرا اس قول «حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ» سے کیا ارادہ تھا؟ کیا طلاق کا قصد تھا؟ تو اس شخص نے کہا: اگر اس جگہ کے علاوہ آپ میرے اوپر قسم ڈالتے تو میں آپ کو سچ نہ بتاتا، میں نے فراق ہی کا ارادہ کیا ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ویسے ہی ہے جیسے تو نے ارادہ کیا ہے۔