حدیث نمبر: 15007
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ حَنْطَبٍ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ ثُمَّ أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ قَالَ: فَقَرَأَ {وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا} [النساء: ٦٦] مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ: " أَمْسِكْ عَلَيْكَ امْرَأَتَكَ فَإِنَّ الْوَاحِدَةَ تُبِتُّ " ⦗٥٦٢⦘.
حافظ ثناء اللہ

محمد بن عباد بن جعفر فرماتے ہیں کہ مطلب بن حنطب نے مجھے بیان کیا کہ اس نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دے دیں، پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آکر تذکرہ کیا تو انہوں نے پوچھا: کس چیز نے آپ کو اس پر ابھارا تھا؟ کہتے ہیں: میں نے یہ کام کر لیا اور پھر اس آیت کی تلاوت کی: ﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا﴾ [سورة النساء: 66] ”اگر وہ کریں جس کی ان کو نصیحت کی گئی تو ان کے لیے بہتر ہو اور زیادہ تر ثابت رکھنا۔“ کس چیز نے آپ کو اس پر ابھارا؟ کہتے ہیں: میں نے یہ کام کر دیا۔ فرماتے ہیں: اپنی بیوی کو روک لو؛ کیونکہ وہ ایک طلاق کی وجہ سے جدا ہو گئی تھی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15007
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»