السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في كنايات الطلاق التي لا يقع الطلاق بها إلا أن يريد بمخرج الكلام منه الطلاق باب: طلاق کے ان کنایہ (مبہم) الفاظ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان جن سے طلاق اس وقت تک واقع نہیں ہوتی جب تک کہ کلام ادا کرنے والا اس سے طلاق کا ارادہ نہ کرے۔
حدیث نمبر: 15006
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ أَبُو عُتْبَةَ، نا بَقِيَّةُ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " اعْتَدِّي "، فَجَعَلَهَا تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً وَهُوَ أَمْلَكُ بِهَا.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”تو عدت گزار“ آپ ﷺ نے اس کو ایک طلاق دے دی۔ آپ ﷺ اس کے مالک ہیں۔