السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في كنايات الطلاق التي لا يقع الطلاق بها إلا أن يريد بمخرج الكلام منه الطلاق باب: طلاق کے ان کنایہ (مبہم) الفاظ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان جن سے طلاق اس وقت تک واقع نہیں ہوتی جب تک کہ کلام ادا کرنے والا اس سے طلاق کا ارادہ نہ کرے۔
حدیث نمبر: 15004
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، نا حَامِدُ بْنُ آدَمَ بْنِ مُسْلِمٍ الْأَزْدِيُّ، نا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَذَكَرَهُ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ.حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ذئب رحمہ اللہ زہری رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے اہل سے جا ملو“ گویا کہ آپ ﷺ نے اس کو طلاق دی۔