کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: حجِ قران اور حجِ تمتع کو ناپسند کرنے والوں کی کراہت کا بیان اور اس بات کی وضاحت کہ یہ سب جائز ہے اگرچہ ہم نے حجِ افراد کو ہی اختیار کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عِيسَى الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْقَاسِمِ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ " أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَشَهِدَ عِنْدَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ يَنْهَى عَنِ الْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک شخص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے اس بات کی گواہی دی کہ اس نے رسول اللہ ﷺ سے آپ کی اس بیماری میں جس میں آپ فوت ہوئے تھے سنا کہ آپ ”حج سے پہلے عمرہ کرنے سے منع فرما رہے تھے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ، وَاسْمُهُ حيَوَانُ بْنُ خَالِدٍ أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَالَ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صَفَفِ النُّمُورِ، قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: " وَأَنَا أَشْهَدُ " قَالَ: " أَتَعْلَمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صَفَفِ النُّمُورِ؟ "، قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ قَالَ: " وَأَنَا أَشْهَدُ "، قَالَ: " أَتَعْلَمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا؟ "، قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: " أَتَعْلَمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُقْرَنَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؟ "، قَالُوا: اللهُمَّ لَا، قَالَ: وَاللهِ إِنَّهَا لَمَعَهُنَّ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْأَشْعَثُ بْنُ بَرَّازٍ عَنْ قَتَادَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فِي حَدِيثِهِ وَلَكِنَّكُمْ نَسِيتُمْ وَرَوَاهُ مَطَرٌ الْوَرَّاقُ عَنْ أَبِي شَيْخٍ فِي مُتْعَةِ الْحَجِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کو کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ”سونا پہننے سے منع فرمایا الا کہ وہ کاٹا گیا ہو“، انہوں نے کہا: جی ہاں، فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ نبی ﷺ نے ”حج و عمرہ کو ملانے سے منع کیا ہے“، وہ کہنے لگے: نہیں تو فرمایا: اللہ کی قسم! یہ بھی ان کے ساتھ (ممنوع) ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: " تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَزَلَ فِيهِ الْقُرْآنُ، فَلْيَقُلْ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمتع کیا اور اس بارے میں قرآن بھی نازل ہوا، تو اب جو چاہے اپنی مرضی سے کچھ کہتا رہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَرْضِ قَوْمِي، فَلَمَّا حَضَرَ الْحَجُّ حَجَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَجَجْتُ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ نَازِلٌ بِالْأَبْطَحِ فَقَالَ لِي: " بِمَ أَهْلَلْتَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ؟ " قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ بِحَجٍّ كَحَجِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَحْسَنْتَ "، ثُمَّ قَالَ لِي: " هَلْ سُقْتَ هَدْيًا؟ "، قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَاذْهَبْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَاسْعَ ⦗٢٩⦘ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ احْلِلْ "، قَالَ: فَذَهَبْتُ، فَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي، فَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِي، فَغَسَلَتْ رَأْسِي بِالسِّدْرِ وَفَلَّتْهُ، ثُمَّ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ، فَلَمْ أَزَلْ أُفْتِي النَّاسَ بِالَّذِي أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى مَاتَ، وَزَمَنَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ وَالْمَقَامِ أُفْتِي النَّاسَ بِالَّذِي أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَنِي رَجُلٌ فَسَارَّنِي، فَقَالَ: لَا تَعْجَلْ بِفُتْيَاكَ، فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ أَحْدَثَ فِي الْمَنَاسِكِ، يَعْنِي فَقُلْتُ: أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ بِشَيْءٍ فَلْيَتَّئِدْ، فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ فَبِهِ فَأْتَمُّوا، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ أُحْدِثَ فِي الْمَنَاسِكِ؟، قَالَ: نَعَمْ، أَنْ نَأْخُذَ بِسُنَّةِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَحْلِلْ حَتَّى نَحَرَ الْهَدْيَ، وَأَنْ نَأْخُذَ بِكِتَابِ رَبِّنَا فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَغَيْرِهِ عَنْ قَيْسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے اپنی قوم کی طرف بھیجا، جب حج کا موقع آیا تو آپ ﷺ نے بھی حج کیا اور میں نے بھی، جب میں پہنچا تو آپ ﷺ ”ابطح“ نامی جگہ پر تھے، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو نے کیسے تلبیہ کہا تھا؟“ میں نے عرض کیا: اس طرح «لَبَّيْكَ بِحَجٍّ كَحَجِّ رَسُولِ اللهِ ﷺ» ”رسول اللہ ﷺ کے حج کی طرح کا حج کرنے کے لیے حاضر ہوں“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے اچھا کیا“، پھر مجھ سے پوچھا: ”کیا تو قربانی ساتھ لایا ہے؟“ میں نے عرض کیا کہ نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر تو جا اور بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر اور پھر حلال ہو جا“، وہ فرماتے ہیں کہ میں گیا اور جیسے مجھے حکم دیا گیا تھا، میں نے ویسے ہی کر لیا، پھر میں اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس گیا، اس نے میرا سر بیری کے پتوں کے ساتھ دھویا اور اس کی کنگھی کی، پھر میں نے یومِ ترویہ کو حج کا احرام باندھا، پس میں رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور میں لوگوں کو وہی فتویٰ دیتا رہا جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے دیا تھا، اس دوران کہ میں حجرِ اسود یا مقامِ ابراہیم کے پاس لوگوں کو یہی فتویٰ دے رہا تھا کہ اچانک ایک شخص آیا اور آہستہ سے مجھے کہنے لگا کہ اپنے فتوے میں جلدی نہ کریں، امیر المؤمنین نے کچھ تبدیلی کی ہے (یعنی مناسکِ حج میں)، تو میں نے اعلان کیا: اے لوگو! ہم نے جس کو جس چیز کے بارے میں بھی فتویٰ دیا ہے وہ صبر کرے، امیر المؤمنین تشریف لا رہے ہیں، لہٰذا انہی کی اقتدا کرو، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو میں ان کے پاس گیا اور پوچھا کہ کیا آپ نے مناسک میں کچھ نیا کام کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں! ہم اپنے نبی ﷺ کی سنت کو لیتے ہیں، آپ ﷺ قربانی کرنے سے پہلے حلال نہیں ہوئے اور اگر قرآن کو لیں تو وہ ہمیں ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾ [سورة البقرة: 196] (حج و عمرہ) پورا کرنے کو کہتا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: رُوَيْدَكَ بِبَعْضِ فُتْيَاكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدَكَ، حَتَّى لَقِيَهُ بَعْدُ، فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ وَأَصْحَابُهُ، وَلَكِنِّي كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا مُعَرِّسِينَ بِهِنَّ تَحْتَ الْأَرَاكِ ثُمَّ يَرْجِعُونَ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " ثُمَّ يَرُوحُوا بِالْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ "، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: وَأَصْحَابُهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
حافظ ثناء اللہ
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، حدَّثَنِي اللَّيْثُ، حدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَتُّعِهِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، وَتَمَتُّعِ النَّاسِ مَعَهُ بِمِثْلِ الَّذِي أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لِسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ: فَلِمَ تَنْهَانِي عَنِ التَّمَتُّعِ وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَعَلَهُ النَّاسُ مَعَهُ؟، قَالَ سَالِمٌ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِنَّ أَتَمَّ لِلْعُمْرَةِ أَنْ تُفْرِدُوهَا مِنْ أَشْهُرِ الْحَجِّ، الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ شَوَّالٌ، وَذُو الْقَعْدَةِ، وَذُو الْحِجَّةِ، فَأَخْلِصُوا فِيهِنَّ الْحَجَّ، وَاعْتَمِرُوا فِيمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الشُّهُورِ " ⦗٣٠⦘ وَأَرَادَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِذَلِكَ تَمَامَ الْعُمْرَةِ؛ لِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ} [البقرة: ١٩٦]، وَذَلِكَ أَنَّ الْعُمْرَةَ أَنْ يَتَمَتَّعَ فِيهَا الْمَرْءُ بِالْحَجِّ، وَلَا تَتِمُّ إِلَّا أَنْ يُهْدِيَ صَاحِبُهَا هَدْيًا، أَوْ يَصُومَ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَأَنَّ الْعُمْرَةَ فِي غَيْرِ أَشْهُرِ الْحَجِّ تَتِمُّ بِغَيْرِ هَدْيٍ وَلَا صِيَامٍ، فَأَرَادَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالَّذِي أَمَرَ بِهِ مِنْ تَرْكِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ تَمَامَ الْعُمْرَةِ الَّتِي أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا، وَأَرَادَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَيْضًا أَنْ يُزَارَ الْبَيْتُ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّتَيْنِ، وَكَرِهَ أَنْ يَتَمَتَّعَ النَّاسُ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَيَلْزَمَ ذَلِكَ النَّاسَ، فَلَا يَأْتُوا الْبَيْتَ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً فِي السَّنَةِ، فَاشْتَدَّ الْأَئِمَّةُ فِي التَّمَتُّعِ حَتَّى رَأَى النَّاسُ أَنَّ الْأَئِمَّةَ يَرَوْنَ ذَلِكَ حَرَامًا، وَلَعَمْرِي مَا رَأَى ذَلِكَ الْأَئِمَّةُ حَرَامًا وَلَكِنَّهُمُ اتَّبَعُوا مَا أَمَرَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ؛ احْتِسَابًا لِلْخَيْرِ.
حافظ ثناء اللہ
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ، فَأَمَرَ بِهَا، فَقِيلَ لَهُ إِنَّكَ تُخَالِفُ أَبَاكَ، قَالَ: " إِنَّ أَبِي لَمْ يَقُلِ الَّذِي تَقُولُونَ، إِنَّمَا قَالَ: أَفْرِدُوا الْعُمْرَةَ مِنَ الْحَجِّ، أَيْ أَنَّ الْعُمْرَةَ لَا تَتِمُّ فِي شُهُورِ الْحَجِّ إِلَّا بِهَدْيٍ، وَأَرَادَ أَنْ يُزَارَ الْبَيْتُ فِي غَيْرِ شُهُورِ الْحَجِّ، فَجَعَلْتُمُوهَا أَنْتُمْ حَرَامًا، وَعَاقَبْتُمُ النَّاسَ عَلَيْهَا، وَقَدْ أَحَلَّهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَعَمِلَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ: فَإِذَا أَكْثَرُوا عَلَيْهِ، قَالَ: " أَفَكِتَابُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ أَمْ عُمَرُ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
سالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حج تمتع کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے تمتع کرنے کا حکم دیا، تو انہیں کہا گیا کہ آپ اپنے والد کی مخالفت کر رہے ہیں، تو انہوں نے کہا: میرے والد گرامی نے وہ بات نہیں کہی جو تم کہتے ہو، انہوں نے تو عمرہ کو حج سے علیحدہ کرنے کا کہا ہے، یعنی عمرہ حج کے مہینوں میں قربانی کے بغیر پورا نہیں ہوتا اور یہ چاہا تھا کہ لوگ حج کے مہینوں کے علاوہ بھی بیت اللہ کی زیارت کو آئیں اور تم نے تو اس کو حرام قرار دے دیا ہے اور لوگوں کو سزا دینا شروع کر دی ہے حالانکہ اس کو اللہ نے حلال کیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اس پر عمل کیا ہے، تو جب لوگوں نے زیادہ اعتراضات شروع کیے تو وہ کہنے لگے: کیا اتباع کرنے کی زیادہ حق دار کتاب اللہ یا عمر رضی اللہ عنہ؟
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطَّبَرَانِيُّ بِهَا، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، ثنا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يُفْتِي بِالَّذِي أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي التَّمَتُّعِ، وَسَنَّ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ نَاسٌ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: كَيْفَ تُخَالِفُ أَبَاكَ، وَقَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ؟ فَيَقُولُ لَهُمْ عَبْدُ اللهِ: " وَيْلَكُمْ أَلَا تَتَّقُونَ اللهَ؟، أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ يَبْتَغِي فِيهِ الْخَيْرَ، وَيَلْتَمِسُ فِيهِ تَمَامَ الْعُمْرَةِ، فَلِمَ تُحَرِّمُونَ وَقَدْ أَحَلَّهُ اللهُ، وَعَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، أَفَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعُوا سُنَّتَهُ أَوْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟، إِنَّ عُمَرَ لَمْ يَقُلْ لَكَ: إِنَّ عُمْرَةً فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ حَرَامٌ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: إِنَّ أَتَمَّ الْعُمْرَةِ أَنْ تُفْرِدُوهَا مِنْ أَشْهُرِ الْحَجِّ ".
حافظ ثناء اللہ
سالم فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما لوگوں کو وہ فتویٰ دیتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے تمتع کی رخصت کا دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی سنت بھی ہے، تو لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ اپنے والد کی مخالفت کیسے کرتے ہیں حالاں کہ وہ تو اس سے منع کرتے ہیں؟ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: تمہارا ستیاناس! تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ہو؟ کیا تم سمجھتے نہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیا تھا تو بھلائی اور عمرہ کو مکمل کرنے کی غرض سے، اور تم اس کو حرام کیوں قرار دیتے ہو جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حلال قرار دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اس پر عمل کیا ہے، کیا رسول اللہ ﷺ کی سنت کی اتباع زیادہ ضروری ہے یا عمر رضی اللہ عنہ کی؟ عمر رضی اللہ عنہ نے حج کے مہینوں میں عمرہ کو حرام نہیں کہا، بلکہ انھوں نے یہ کہا ہے کہ عمرہ زیادہ بہتر طور سے مکمل اس وقت ہو گا، جب تم اس کو حج کے مہینوں کے علاوہ انجام دو گے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الظَّفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْعَلَوِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ⦗٣١⦘ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَنَهَيْتَ عَنِ الْمُتْعَةِ؟، قَالَ: لَا، وَلَكِنِّي أَرَدْتُ كَثْرَةَ زِيَارَةِ الْبَيْتِ، قَالَ: فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَنْ أَفْرَدَ الْحَجَّ فَحَسَنٌ، وَمَنْ تَمَتَّعَ فَقَدْ أَخَذَ بِكِتَابِ اللهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے تمتع سے منع کیا ہے؟ کہنے لگے کہ نہیں، بلکہ میں نے تو یہ چاہا ہے کہ بیت اللہ کی زیارت زیادہ ہو، تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو اکیلا حج کرے تو یہ اچھا کام ہے اور جو تمتع کرلے تو وہ کتاب و سنت کی پیروی کرنے والا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَصْرَةَ، يَقُولُ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ: إنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ، وَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَأْمُرُ بِهَا، قَالَ جَابِرٌ: عَلَى يَدِي دَارَ الْحَدِيثُ، تَمَتَّعْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ كَانَ يُحِلُّ لِنَبِيِّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَا يَشَاءُ، وَإنَّ الْقُرْآنَ قَدْ نُزِّلَ مَنَازِلَهُ، فَافْصِلُوا حَجَّكُمْ مِنْ عُمْرَتِكُمْ، وَأَبِتُّوا نِكَاحَ هَذِهِ النِّسَاءِ، لَا أُوتَى بِرَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً إِلَى أَجَلٍ إِلَّا رَجَمْتُهُ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ وَرَوَاهُ هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ: فَإِنَّهُ أَتَمُّ لِحَجِّكُمْ، وَأَتَمُّ لِعُمْرَتِكُمْ، وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ النَّهْيَ عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ كَانَ عَلَى الْوَجْهِ الَّذِي بَيَّنَهُ فِي الْحَدِيثِ قَبْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابونضرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہا کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما تمتع سے منع کرتے ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کا حکم دیتے ہیں تو جابر رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ بات میرے سامنے گھومتی رہی ہے۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے دور میں تمتع کیا اور جب عمر رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: اللہ اپنے نبی کے لیے جو چاہے حلال کرتا ہے اور قرآن اپنی جگہ اترتا ہے، تم حج کو عمرہ سے علیحدہ کرو اور عورتوں کے ساتھ متعہ کو ختم کر دو۔ اگر کوئی بھی ایسا شخص لایا گیا جس نے کسی عورت سے ایک مقررہ مدت کے لیے نکاح کیا تو میں اس کو رجم ہی کروں گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطَّبَرَانِيُّ بِهَا، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُسْلِمٍ الْقُرِّيِّ، قَالَ: " سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ، فَرَخَّصَ فِيهَا، وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنْهَا، فَقَالَ: هَذِهِ أُمُّ ابْنِ الزُّبَيْرِ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِيهَا، فَادْخُلُوا عَلَيْهَا فَاسْأَلُوهَا، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ ضَخْمَةٌ عَمْيَاءُ، فَقَالَتْ: قَدْ رَخَّصَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ.
حافظ ثناء اللہ
مسلم قرّی فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے حجِ تمتع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے رخصت دی اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اس سے منع کرتے تھے تو انہوں نے کہا: ”یہ ابن زبیر کی ماں بتاتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی رخصت دی ہے۔ تم ان کے پاس جا کر پوچھ لو۔“ کہتے ہیں کہ ہم گئے تو وہ ایک موٹی سی نابینا خاتون تھیں۔ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے اس کی رخصت دی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ وَعَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَعُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُمَا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا، قَالَ: " لَبَّيْكَ عَمْرَةً وَحَجَّةً مَعًا "، قَالَ: فَقَالَ عُثْمَانُ: " تَرَانِي أَنْهَى النَّاسَ عَنْ شَيْءٍ وَتَفْعَلُهُ أَنْتَ؟ "، قَالَ: فَقَالَ: " لَمْ أَكُنْ لِأَدَعَ سُنَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
مروان بن حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عثمان اور علی رضی اللہ عنہما سے مکہ اور مدینہ کے درمیان سنا، عثمان رضی اللہ عنہ متعہ کرنے سے منع کر رہے تھے کہ حج و عمرہ جمع نہ کیا جائے، تو جب علی رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا تو انہوں نے حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ کہنا شروع کر دیا، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایک کام سے منع کرتا ہوں اور آپ وہ کرتے ہیں، تو کہنے لگے: میں رسول اللہ ﷺ کی سنت کو لوگوں میں سے کسی کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑوں گا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، وَأَبُو زَكَرِيَّا ⦗٣٢⦘ يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي قَالَا: أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: اجْتَمَعَ عَلِيٌّ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِعُسْفَانَ وَكَانَ عُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: مَا تُرِيدُ إِلَى أَمْرٍ فَعَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنْهَى عَنْهُ؟، قَالَ: دَعْنَا مِنْكَ قَالَ: إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدَعَكَ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما عسفان نامی جگہ پر جمع ہوئے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حجِ تمتع کرنے سے منع کرتے تھے، تو انہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا آپ ایسے کام سے منع کرنا چاہتے ہیں، جسے رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے؟“ تو وہ کہنے لگے: ”آپ ہمیں چھوڑ دیں۔“ تو انہوں نے فرمایا: ”میں آپ کو نہیں چھوڑ سکتا۔“ اور حجِ تمتع کا تلبیہ کہنا شروع کر دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ، حدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ شَقِيقٍ: كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْمُرُ بِهَا فَقَالَ عُثْمَانُ لِعَلِيٍّ كَلِمَةً ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ: لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّا قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَجَلْ وَلَكِنَّا كُنَّا خَائِفِينَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ تمتع سے منع کرتے تھے اور علی رضی اللہ عنہ اس کا حکم دیتے تھے، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کو کوئی بات کہی تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کو معلوم ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمتع کیا ہے؟ وہ کہنے لگے: ہاں! لیکن ہم ڈرنے والے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: قُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ: إِنِّي أَهُمُّ أَنْ أَجْمَعَ الْعُمْرَةَ وَالْحَجَّ فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ: وَلَكِنْ أَبَاكَ لَمْ يَكُنْ يَهُمُّ بِذَلِكَ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ مَرَّ بِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالرَّبَذَةِ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَتْ لَنَا خَاصَّةً دُونَكُمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ جَرِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن شعثاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ اور ابراہیم تیمی رحمہ اللہ سے کہا کہ میں حج و عمرہ کو جمع کرنا چاہتا ہوں تو نخعی رحمہ اللہ نے کہا: لیکن آپ کے والد اس کا ارادہ نہیں رکھتے اور تیمی رحمہ اللہ نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ربذہ میں سے گزرے تو انہوں نے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ صرف ہمارے لیے رخصت تھی، تمہارے لیے نہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُنَادِي، ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي الْحَجِّ لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: إِنَّمَا كَانَتْ مُتْعَةُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةً رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ فَسْخَهُمُ الْحَجَّ بِالْعُمْرَةِ وَهُوَ أَنَّ بَعْضَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ هَدْيٌ فَأَمَرَهُمْ ⦗٣٣⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْعَلُوهُ عُمْرَةً؛ لِيَنْقُضَ، وَاللهُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ عَادَتَهُمْ فِي تَحْرِيمِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، وَهَذَا لَا يَجُوزُ الْيَوْمَ وَقَدْ مَضَى فِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَفِي رِوَايَةِ مُرَقَّعٍ الْأُسَيِّدِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ مَا دَلَّ عَلَى ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حجِ تمتع کی رخصت صرف اصحابِ محمد ﷺ کے لیے ہی تھی۔
(ب) صحیح مسلم میں ابوبکر بن ابی شیبہ سے روایت ہے، ان کی مراد «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے“ ان کا حج کو عمرہ کے ساتھ فسخ کرنا ہے اور وہ اس حال میں کہ بعض صحابہ نے حج کا تلبیہ پکارا اور ان کے پاس قربانی نہیں تھی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ ”وہ اس کو عمرہ بنا لیں“ تاکہ وہ ختم ہو جائے «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے“، اس وجہ سے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ حرام ہے۔
(ج) یہ آج بھی جائز نہیں۔
(ب) صحیح مسلم میں ابوبکر بن ابی شیبہ سے روایت ہے، ان کی مراد «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے“ ان کا حج کو عمرہ کے ساتھ فسخ کرنا ہے اور وہ اس حال میں کہ بعض صحابہ نے حج کا تلبیہ پکارا اور ان کے پاس قربانی نہیں تھی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ ”وہ اس کو عمرہ بنا لیں“ تاکہ وہ ختم ہو جائے «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے“، اس وجہ سے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ حرام ہے۔
(ج) یہ آج بھی جائز نہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَنَّادٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ الْأَسْوَدِ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ فِيمَنْ حَجَّ ثُمَّ فَسَخَهَا بِعُمْرَةٍ: لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ إِلَّا لِلرَّكْبِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ اس شخص کے بارے میں فرماتے تھے جو حج کی نیت کرے اور بعد میں اس کو عمرہ کے ساتھ فسخ کرنا چاہے اور یہ صرف ان لوگوں کے لیے تھا جو آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ: الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ لَيْسَ فِيهَا عُمْرَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ﴿حج کے مہینے معلوم ہیں﴾ [سورة البقرة: 197]، ان میں عمرہ نہیں ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ فَقُلْتُ: إِنَّ امْرَأَةً مِنَّا أَرَادَتْ أَنْ تَضُمَّ مَعَ حَجِّهَا عُمْرَةً فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ} [البقرة: ١٩٧] فَلَا أَرَى هَذِهِ إِلَّا أَشْهُرَ الْحَجِّ وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ الصَّبِيِّ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّهُمَا كَرِهَا ذَلِكَ حَتَّى بَيَّنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَوَازَهَا، وَكَرَاهِيَةُ مَنْ كَرِهَ ذَلِكَ أَظُنُّهَا عَلَى الْوَجْهِ الَّذِي رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ فَقَدْ رُوِيَ عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: نُسُكَانِ أُحِبُّ أَنْ يَكُونَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا شَعَثٌ وَسَفَرٌ، فَثَبَتَ بِالسُّنَّةِ الثَّابِتَةِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَوَازُ التَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ وَالْإِفْرَادِ، وَثَبَتَ بِمُضِيِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ مُفْرَدٍ ثُمَّ بِاخْتِلَافِ الصَّدْرِ الْأَوَّلِ فِي كَرَاهِيَةِ التَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ دُونَ الْإِفْرَادِ كَوْنُ إِفْرَادِ الْحَجِّ عَنِ الْعُمْرَةِ أَفْضَلُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ ہم میں سے ایک عورت حج کے ساتھ عمرہ کو ملانا چاہتی ہے تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ﴾ [سورة البقرة: 197] ”حج کے مہینے معلوم ہیں“ اور میں تو ان کو ہی حج کے مہینے سمجھتا ہوں۔
(ب) زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ اسے ناپسند کرتے تھے، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے جواز کا بیان ہے، کراہت کی وجہ وہ روایت ہے جو ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ دو قربانیاں مجھے ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے پسند ہیں، چونکہ ان دونوں کے لیے ہی سفر اور مشقت ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے تمتع، قران اور افراد کا جواز ثابت ہے، پیچھے رسول اللہ ﷺ کے حجِ افراد کے بارے میں گزر چکا ہے، شروع میں تمتع اور قران کی کراہیت کا اختلاف گزر چکا ہے۔ حجِ افراد عمرہ سے افضل ہے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”واللہ اعلم“
(ب) زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ اسے ناپسند کرتے تھے، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے جواز کا بیان ہے، کراہت کی وجہ وہ روایت ہے جو ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ دو قربانیاں مجھے ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے پسند ہیں، چونکہ ان دونوں کے لیے ہی سفر اور مشقت ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے تمتع، قران اور افراد کا جواز ثابت ہے، پیچھے رسول اللہ ﷺ کے حجِ افراد کے بارے میں گزر چکا ہے، شروع میں تمتع اور قران کی کراہیت کا اختلاف گزر چکا ہے۔ حجِ افراد عمرہ سے افضل ہے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”واللہ اعلم“