السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: كراهية من كره القران، والتمتع، والبيان أن جميع ذلك جائز وإن كنا اخترنا الإفراد باب: حجِ قران اور حجِ تمتع کو ناپسند کرنے والوں کی کراہت کا بیان اور اس بات کی وضاحت کہ یہ سب جائز ہے اگرچہ ہم نے حجِ افراد کو ہی اختیار کیا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَصْرَةَ، يَقُولُ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ: إنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ، وَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَأْمُرُ بِهَا، قَالَ جَابِرٌ: عَلَى يَدِي دَارَ الْحَدِيثُ، تَمَتَّعْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ كَانَ يُحِلُّ لِنَبِيِّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَا يَشَاءُ، وَإنَّ الْقُرْآنَ قَدْ نُزِّلَ مَنَازِلَهُ، فَافْصِلُوا حَجَّكُمْ مِنْ عُمْرَتِكُمْ، وَأَبِتُّوا نِكَاحَ هَذِهِ النِّسَاءِ، لَا أُوتَى بِرَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً إِلَى أَجَلٍ إِلَّا رَجَمْتُهُ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ وَرَوَاهُ هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ: فَإِنَّهُ أَتَمُّ لِحَجِّكُمْ، وَأَتَمُّ لِعُمْرَتِكُمْ، وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ النَّهْيَ عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ كَانَ عَلَى الْوَجْهِ الَّذِي بَيَّنَهُ فِي الْحَدِيثِ قَبْلَهُ.ابونضرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہا کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما تمتع سے منع کرتے ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کا حکم دیتے ہیں تو جابر رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ بات میرے سامنے گھومتی رہی ہے۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے دور میں تمتع کیا اور جب عمر رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: اللہ اپنے نبی کے لیے جو چاہے حلال کرتا ہے اور قرآن اپنی جگہ اترتا ہے، تم حج کو عمرہ سے علیحدہ کرو اور عورتوں کے ساتھ متعہ کو ختم کر دو۔ اگر کوئی بھی ایسا شخص لایا گیا جس نے کسی عورت سے ایک مقررہ مدت کے لیے نکاح کیا تو میں اس کو رجم ہی کروں گا۔