السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: كراهية من كره القران، والتمتع، والبيان أن جميع ذلك جائز وإن كنا اخترنا الإفراد باب: حجِ قران اور حجِ تمتع کو ناپسند کرنے والوں کی کراہت کا بیان اور اس بات کی وضاحت کہ یہ سب جائز ہے اگرچہ ہم نے حجِ افراد کو ہی اختیار کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَرْضِ قَوْمِي، فَلَمَّا حَضَرَ الْحَجُّ حَجَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَجَجْتُ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ نَازِلٌ بِالْأَبْطَحِ فَقَالَ لِي: " بِمَ أَهْلَلْتَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ؟ " قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ بِحَجٍّ كَحَجِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَحْسَنْتَ "، ثُمَّ قَالَ لِي: " هَلْ سُقْتَ هَدْيًا؟ "، قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَاذْهَبْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَاسْعَ ⦗٢٩⦘ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ احْلِلْ "، قَالَ: فَذَهَبْتُ، فَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي، فَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِي، فَغَسَلَتْ رَأْسِي بِالسِّدْرِ وَفَلَّتْهُ، ثُمَّ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ، فَلَمْ أَزَلْ أُفْتِي النَّاسَ بِالَّذِي أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى مَاتَ، وَزَمَنَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ وَالْمَقَامِ أُفْتِي النَّاسَ بِالَّذِي أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَنِي رَجُلٌ فَسَارَّنِي، فَقَالَ: لَا تَعْجَلْ بِفُتْيَاكَ، فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ أَحْدَثَ فِي الْمَنَاسِكِ، يَعْنِي فَقُلْتُ: أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ بِشَيْءٍ فَلْيَتَّئِدْ، فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ فَبِهِ فَأْتَمُّوا، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ أُحْدِثَ فِي الْمَنَاسِكِ؟، قَالَ: نَعَمْ، أَنْ نَأْخُذَ بِسُنَّةِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَحْلِلْ حَتَّى نَحَرَ الْهَدْيَ، وَأَنْ نَأْخُذَ بِكِتَابِ رَبِّنَا فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَغَيْرِهِ عَنْ قَيْسٍ.سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے اپنی قوم کی طرف بھیجا، جب حج کا موقع آیا تو آپ ﷺ نے بھی حج کیا اور میں نے بھی، جب میں پہنچا تو آپ ﷺ ”ابطح“ نامی جگہ پر تھے، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو نے کیسے تلبیہ کہا تھا؟“ میں نے عرض کیا: اس طرح «لَبَّيْكَ بِحَجٍّ كَحَجِّ رَسُولِ اللهِ ﷺ» ”رسول اللہ ﷺ کے حج کی طرح کا حج کرنے کے لیے حاضر ہوں“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے اچھا کیا“، پھر مجھ سے پوچھا: ”کیا تو قربانی ساتھ لایا ہے؟“ میں نے عرض کیا کہ نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر تو جا اور بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر اور پھر حلال ہو جا“، وہ فرماتے ہیں کہ میں گیا اور جیسے مجھے حکم دیا گیا تھا، میں نے ویسے ہی کر لیا، پھر میں اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس گیا، اس نے میرا سر بیری کے پتوں کے ساتھ دھویا اور اس کی کنگھی کی، پھر میں نے یومِ ترویہ کو حج کا احرام باندھا، پس میں رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور میں لوگوں کو وہی فتویٰ دیتا رہا جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے دیا تھا، اس دوران کہ میں حجرِ اسود یا مقامِ ابراہیم کے پاس لوگوں کو یہی فتویٰ دے رہا تھا کہ اچانک ایک شخص آیا اور آہستہ سے مجھے کہنے لگا کہ اپنے فتوے میں جلدی نہ کریں، امیر المؤمنین نے کچھ تبدیلی کی ہے (یعنی مناسکِ حج میں)، تو میں نے اعلان کیا: اے لوگو! ہم نے جس کو جس چیز کے بارے میں بھی فتویٰ دیا ہے وہ صبر کرے، امیر المؤمنین تشریف لا رہے ہیں، لہٰذا انہی کی اقتدا کرو، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو میں ان کے پاس گیا اور پوچھا کہ کیا آپ نے مناسک میں کچھ نیا کام کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں! ہم اپنے نبی ﷺ کی سنت کو لیتے ہیں، آپ ﷺ قربانی کرنے سے پہلے حلال نہیں ہوئے اور اگر قرآن کو لیں تو وہ ہمیں ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾ [سورة البقرة: 196] (حج و عمرہ) پورا کرنے کو کہتا ہے۔