حدیث نمبر: 8875
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ، فَأَمَرَ بِهَا، فَقِيلَ لَهُ إِنَّكَ تُخَالِفُ أَبَاكَ، قَالَ: " إِنَّ أَبِي لَمْ يَقُلِ الَّذِي تَقُولُونَ، إِنَّمَا قَالَ: أَفْرِدُوا الْعُمْرَةَ مِنَ الْحَجِّ، أَيْ أَنَّ الْعُمْرَةَ لَا تَتِمُّ فِي شُهُورِ الْحَجِّ إِلَّا بِهَدْيٍ، وَأَرَادَ أَنْ يُزَارَ الْبَيْتُ فِي غَيْرِ شُهُورِ الْحَجِّ، فَجَعَلْتُمُوهَا أَنْتُمْ حَرَامًا، وَعَاقَبْتُمُ النَّاسَ عَلَيْهَا، وَقَدْ أَحَلَّهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَعَمِلَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ: فَإِذَا أَكْثَرُوا عَلَيْهِ، قَالَ: " أَفَكِتَابُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ أَمْ عُمَرُ؟ ".
حافظ ثناء اللہ

سالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حج تمتع کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے تمتع کرنے کا حکم دیا، تو انہیں کہا گیا کہ آپ اپنے والد کی مخالفت کر رہے ہیں، تو انہوں نے کہا: میرے والد گرامی نے وہ بات نہیں کہی جو تم کہتے ہو، انہوں نے تو عمرہ کو حج سے علیحدہ کرنے کا کہا ہے، یعنی عمرہ حج کے مہینوں میں قربانی کے بغیر پورا نہیں ہوتا اور یہ چاہا تھا کہ لوگ حج کے مہینوں کے علاوہ بھی بیت اللہ کی زیارت کو آئیں اور تم نے تو اس کو حرام قرار دے دیا ہے اور لوگوں کو سزا دینا شروع کر دی ہے حالانکہ اس کو اللہ نے حلال کیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اس پر عمل کیا ہے، تو جب لوگوں نے زیادہ اعتراضات شروع کیے تو وہ کہنے لگے: کیا اتباع کرنے کی زیادہ حق دار کتاب اللہ یا عمر رضی اللہ عنہ؟

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8875
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ امالي الصحابه 142۔ تذكرة الفاظ 3/ 8005»