السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: كراهية من كره القران، والتمتع، والبيان أن جميع ذلك جائز وإن كنا اخترنا الإفراد باب: حجِ قران اور حجِ تمتع کو ناپسند کرنے والوں کی کراہت کا بیان اور اس بات کی وضاحت کہ یہ سب جائز ہے اگرچہ ہم نے حجِ افراد کو ہی اختیار کیا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: رُوَيْدَكَ بِبَعْضِ فُتْيَاكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدَكَ، حَتَّى لَقِيَهُ بَعْدُ، فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ وَأَصْحَابُهُ، وَلَكِنِّي كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا مُعَرِّسِينَ بِهِنَّ تَحْتَ الْأَرَاكِ ثُمَّ يَرْجِعُونَ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ ".سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حجِ تمتع کا فتویٰ دیا کرتے تھے، تو ایک شخص نے ان سے کہا: اپنے بعض فتووں میں ذرا ٹھہر جائیں، کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ امیر المؤمنین نے آپ کے بعد مناسک میں کیا نیا حکم جاری کیا ہے، یہاں تک کہ بعد میں ان کی (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے) ملاقات ہوئی تو انہوں نے ان سے پوچھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”مجھے معلوم ہے کہ نبی ﷺ نے اور آپ کے صحابہ نے ایسا کیا ہے، لیکن مجھے یہ ناپسند ہوا کہ لوگ پیلو کے درختوں کے نیچے اپنی بیویوں کے ساتھ رات گزاریں اور پھر (حج کے لیے) اس حال میں روانہ ہوں کہ ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو۔“