السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: كراهية من كره القران، والتمتع، والبيان أن جميع ذلك جائز وإن كنا اخترنا الإفراد باب: حجِ قران اور حجِ تمتع کو ناپسند کرنے والوں کی کراہت کا بیان اور اس بات کی وضاحت کہ یہ سب جائز ہے اگرچہ ہم نے حجِ افراد کو ہی اختیار کیا ہے۔
حدیث نمبر: 8880
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ وَعَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَعُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُمَا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا، قَالَ: " لَبَّيْكَ عَمْرَةً وَحَجَّةً مَعًا "، قَالَ: فَقَالَ عُثْمَانُ: " تَرَانِي أَنْهَى النَّاسَ عَنْ شَيْءٍ وَتَفْعَلُهُ أَنْتَ؟ "، قَالَ: فَقَالَ: " لَمْ أَكُنْ لِأَدَعَ سُنَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
مروان بن حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عثمان اور علی رضی اللہ عنہما سے مکہ اور مدینہ کے درمیان سنا، عثمان رضی اللہ عنہ متعہ کرنے سے منع کر رہے تھے کہ حج و عمرہ جمع نہ کیا جائے، تو جب علی رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا تو انہوں نے حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ کہنا شروع کر دیا، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایک کام سے منع کرتا ہوں اور آپ وہ کرتے ہیں، تو کہنے لگے: میں رسول اللہ ﷺ کی سنت کو لوگوں میں سے کسی کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑوں گا۔