❮
❯
حدیث نمبر: 8874
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، حدَّثَنِي اللَّيْثُ، حدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَتُّعِهِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، وَتَمَتُّعِ النَّاسِ مَعَهُ بِمِثْلِ الَّذِي أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لِسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ: فَلِمَ تَنْهَانِي عَنِ التَّمَتُّعِ وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَعَلَهُ النَّاسُ مَعَهُ؟، قَالَ سَالِمٌ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِنَّ أَتَمَّ لِلْعُمْرَةِ أَنْ تُفْرِدُوهَا مِنْ أَشْهُرِ الْحَجِّ، الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ شَوَّالٌ، وَذُو الْقَعْدَةِ، وَذُو الْحِجَّةِ، فَأَخْلِصُوا فِيهِنَّ الْحَجَّ، وَاعْتَمِرُوا فِيمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الشُّهُورِ " ⦗٣٠⦘ وَأَرَادَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِذَلِكَ تَمَامَ الْعُمْرَةِ؛ لِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ} [البقرة: ١٩٦]، وَذَلِكَ أَنَّ الْعُمْرَةَ أَنْ يَتَمَتَّعَ فِيهَا الْمَرْءُ بِالْحَجِّ، وَلَا تَتِمُّ إِلَّا أَنْ يُهْدِيَ صَاحِبُهَا هَدْيًا، أَوْ يَصُومَ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَأَنَّ الْعُمْرَةَ فِي غَيْرِ أَشْهُرِ الْحَجِّ تَتِمُّ بِغَيْرِ هَدْيٍ وَلَا صِيَامٍ، فَأَرَادَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالَّذِي أَمَرَ بِهِ مِنْ تَرْكِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ تَمَامَ الْعُمْرَةِ الَّتِي أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا، وَأَرَادَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَيْضًا أَنْ يُزَارَ الْبَيْتُ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّتَيْنِ، وَكَرِهَ أَنْ يَتَمَتَّعَ النَّاسُ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَيَلْزَمَ ذَلِكَ النَّاسَ، فَلَا يَأْتُوا الْبَيْتَ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً فِي السَّنَةِ، فَاشْتَدَّ الْأَئِمَّةُ فِي التَّمَتُّعِ حَتَّى رَأَى النَّاسُ أَنَّ الْأَئِمَّةَ يَرَوْنَ ذَلِكَ حَرَامًا، وَلَعَمْرِي مَا رَأَى ذَلِكَ الْأَئِمَّةُ حَرَامًا وَلَكِنَّهُمُ اتَّبَعُوا مَا أَمَرَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ؛ احْتِسَابًا لِلْخَيْرِ.
حافظ ثناء اللہ

ابن شہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے کہا کہ نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں رسول اللہ ﷺ کے عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر تمتع کرنے اور آپ ﷺ کے ساتھ لوگوں کے تمتع کرنے کے بارے میں بتایا، بالکل اسی طرح جیسے مجھے سالم بن عبداللہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا تھا۔ تو میں نے سالم بن عبداللہ سے کہا: پھر آپ مجھے تمتع سے کیوں منع کرتے ہیں حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے اسے کیا ہے اور لوگوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ کیا ہے؟ سالم نے کہا: مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عمرہ کا زیادہ کامل طریقہ یہ ہے کہ تم اسے حج کے مہینوں سے الگ رکھو، حج کے مہینے معلوم ہیں: شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ، تو ان میں خالص حج کرو اور ان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں عمرہ کرو۔“
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اس سے مراد عمرہ کو مکمل کرنا تھا، اللہ عزوجل کے اس فرمان کی وجہ سے: ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾ [سورة البقرة: 196] ”اور حج و عمرہ اللہ کے لیے پورا کرو“، اور وہ اس لیے کہ جس عمرہ میں آدمی حج کے ساتھ تمتع کرے وہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک کہ وہ قربانی نہ کرے، یا اگر قربانی نہ پائے تو تین روزے حج میں اور سات اپنے گھر واپس جا کر رکھے، اور حج کے مہینوں کے علاوہ عمرہ قربانی اور روزوں کے بغیر مکمل ہو جاتا ہے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حج کے ساتھ عمرہ کا تمتع ترک کرنے کا جو حکم دیا اس سے ان کی مراد اس عمرہ کو مکمل کرنا تھا جس کا اللہ عزوجل نے حکم دیا ہے، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ بھی چاہتے تھے کہ بیت اللہ کی زیارت ہر سال دو مرتبہ کی جائے، اور انہیں یہ ناپسند تھا کہ لوگ حج کے ساتھ عمرہ کا تمتع کریں اور یہی لوگوں کا معمول بن جائے، پھر وہ سال میں صرف ایک ہی مرتبہ بیت اللہ آئیں۔ پھر حکمرانوں نے تمتع کے معاملے میں سختی کی یہاں تک کہ لوگ یہ سمجھنے لگے کہ حکمران اسے حرام سمجھتے ہیں، حالانکہ میری عمر کی قسم! حکمرانوں نے اسے حرام نہیں سمجھا، بلکہ انہوں نے ثواب کی امید میں اس معاملے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حکم کی پیروی کی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8874