السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: كراهية من كره القران، والتمتع، والبيان أن جميع ذلك جائز وإن كنا اخترنا الإفراد باب: حجِ قران اور حجِ تمتع کو ناپسند کرنے والوں کی کراہت کا بیان اور اس بات کی وضاحت کہ یہ سب جائز ہے اگرچہ ہم نے حجِ افراد کو ہی اختیار کیا ہے۔
حدیث نمبر: 8873
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " ثُمَّ يَرُوحُوا بِالْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ "، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: وَأَصْحَابُهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند سے بھی اسی طرح منقول ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: ”پھر وہ حج کے لیے اس حال میں روانہ ہوں کہ ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو“ اور اس میں ”اور آپ کے صحابہ“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔