کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: عمرہ کر کے حجِ تمتع کرنے والے کی قربانی اور اس کے روزے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، حدَّثَنِي اللَّيْثُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنِ بْنِ مُهَاجِرٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، ⦗٣٤⦘ حدَّثَنِي عَقِيلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَالَ لِلنَّاسِ: " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ مَنْ شَيْءٍ حُرِّمَ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ، ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ شُعَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک طویل حدیث بیان کی، اس میں یہ بھی تھا کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ پہنچے تو انہوں نے لوگوں کو کہا: ”جو شخص قربانی لے کر آیا ہے وہ حج پورا کرنے سے پہلے کسی چیز سے حلال نہ ہو جو حرام ہے اور جس کے پاس قربانی نہیں ہے وہ بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کرے، بال کٹوائے اور حلال ہوجائے، پھر حج کا تلبیہ کہے اور قربانی دے اور جس کو قربانی نہیں ملتی وہ تین دن حج کے ایام میں روزے رکھے اور سات گھر جا کر۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8888
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1606»
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ وَاصِلٍ، حدَّثَنِي أَبِي، حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: قَالَ أَبُو كَامِلٍ: ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ، عَنْ مُتْعَةِ الْحَاجِّ، فَقَالَ: أَهَلَّ الْمُهَاجِرُونَ، وَالْأَنْصَارُ، وَأَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأَهْلَلْنَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْعَلُوا إِهْلَالَكُمْ بِالْحَجِّ عُمْرَةً إِلَّا مَنْ قَلَّدَ الْهَدْيَ " وَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَتَيْنَا النِّسَاءَ وَلَبِسْنَا الثِّيَابَ، وَقَالَ: " مَنْ قَلَّدَ الْهَدْيَ فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ " ثُمَّ أَمَرَنَا عَشِيَّةَ التَّرْوِيَةِ أَنْ نُهِلَّ بِالْحَجِّ فَإِذَا فَرَغْنَا مِنَ الْمَنَاسِكِ جِئْنَا فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَدْ تَمَّ حَجُّنَا وَعَلَيْنَا الْهَدْيُ كَمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى {فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ} [البقرة: ١٩٦] إِلَى أَمْصَارِكُمْ، وَالشَّاةُ تُجْزِئُ فَجَمَعُوا نُسُكَيْنِ فِي عَامٍ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّ اللهَ أَنْزَلَهُ فِي كِتَابِهِ وَسَنَّهُ نَبِيُّهُ وَأَبَاحَهُ غَيْرُ أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} [البقرة: ١٩٦] وَأَشْهُرُ الْحَجِّ الَّتِي ذَكَرَ اللهُ: شَوَّالٌ، وَذُو الْقَعْدَةِ، وَذُو الْحِجَّةِ فمَنْ تَمَتَّعَ فِي هَذِهِ الْأَشْهُرِ فَعَلَيْهِ دَمٌ أَوْ صَوْمٌ وَالرَّفَثُ: الْجِمَاعُ، وَالْفُسُوقُ: الْمَعَاصِي، وَالْجِدَالُ: الْمِرَاءُ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ هَكَذَا وَقَدْ:.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے حجِ تمتع کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ مہاجرین و انصار اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نے حجۃ الوداع کے موقع پر تلبیہ کہا اور ہم نے بھی کہا، جب ہم مکہ پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے حج کے تلبیہ کو عمرہ سے بدل دو، سوائے اس شخص کے جو قربانی لے کر آیا ہے۔“ تو ہم نے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا، عورتوں کے پاس آئے اور کپڑے پہنے اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قربانی کو قلادہ ڈالا ہے وہ حلال نہ ہو حتیٰ کہ قربانی اپنے ٹھکانے لگ جائے۔“ پھر ہمیں ترویہ کی رات حکم دیا کہ ہم حج کا تلبیہ کہیں، تو جب ہم مناسک سے فارغ ہوئے تو ہم نے آکر بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا اور ہمارا حج مکمل ہو گیا اور ہمارے ذمہ قربانی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ﴾ [سورة البقرة: 196] ”جو قربانی بھی میسر آئے وہ دو اور جو قربانی نہیں پاتا تو وہ تین دن حج میں اور سات گھر جا کر روزہ رکھے“ اپنے شہروں میں، اور بکری بھی کفایت کر جائے گی، تو انہوں نے اس سال دونوں کام کیے، حج بھی اور عمرہ بھی۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی کتاب میں نازل کیا ہے اور اپنے نبی کی سنت میں بھی اور اہل مکہ کے علاوہ سب نے اس کو حلال جانا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ [سورة البقرة: 196] ”یہ اس کے لیے ہے جس کا گھر مسجد حرام کے قریب نہیں“ اور حج کے مہینے جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے: شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ ہیں، جو ان دنوں تمتع کرتا ہے اس پر قربانی یا روزے فرض ہیں اور «الرَّفَثُ» کا معنی ”جماع“ ہے، «الْفُسُوقُ» ”گناہ“، «الْجِدَالُ» ”جھگڑے“ کو کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8889
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1497»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْقَاسِمُ الْمُطَرِّزُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلَ مَعْنَاهُ بِطُولِهِ. قَالَ الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ: هَكَذَا قَالَ الْقَاسِمُ عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8890
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حدَّثَنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، ⦗٣٥⦘ وَعَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فِي حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمْرِهِ إِيَّاهُمْ بِالْإِحْلَالِ بِالْعُمْرَةِ وَخُطْبَتِهِ وَقَوْلِهِ: " وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ وَلَحلَلْتُ كَمَا حَلُّوا فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَمَنْ وَجَدَ هَدْيًا فَلْيَنْحَرْ " قَالَ: فَكُنَّا نَنْحَرُ الْجَزُورَ عَنْ سَبْعَةٍ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے حج، آپ کے لوگوں کو عمرہ کر کے حلال ہونے کا کہنے اور خطبہ اور آپ کے فرمان: ”اگر مجھے اس بات کا علم پہلے ہو جاتا جس کا بعد میں ہوا ہے تو میں قربانی نہ لاتا اور لوگوں کی طرح حلال ہو جاتا، تو جس کے پاس قربانی نہیں ہے وہ تین دن حج میں اور سات دن گھر جا کر روزے رکھے اور جس کے پاس قربانی دستیاب ہو وہ نحر کرے۔“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ہم ایک اونٹ سات افراد کی طرف سے نحر کرتے تھے اور ساری حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8891
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ ابن خزيمه 2936۔ حاكم 647»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: مَنِ اعْتَمَرَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ فِي شَوَّالٍ، أَوْ ذِي الْقَعْدَةِ، أَوْ ذِي الْحِجَّةِ فَقَدِ اسْتَمْتَعَ وَوَجَبَ عَلَيْهِ الْهَدْيُ، وَالصِّيَامُ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا وَرَوَيْنَا فِي الْبَابِ قَبْلَهُ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ فِي الْمُتْعَةِ: إِنَّهَا لَا تَتِمُّ إِلَّا أَنْ يُهْدِيَ صَاحِبُهَا هَدْيًا، أَوْ يَصُومَ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَأَنَّ الْعُمْرَةَ فِي غَيْرِ أَشْهُرِ الْحَجِّ تَتِمُّ بِغَيْرِ هَدْيٍ وَلَا صِيَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس نے حج کے مہینوں، یعنی شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ میں عمرہ کیا تو وہ متمتع ہو گیا اور اس پر قربانی واجب ہے، اگر نہ ملے تو روزے رکھے۔
اس سے پہلے باب میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بات جو انہوں نے تمتع کے بارے میں کہی وہ ہم نے بیان کر دی کہ وہ متمتع نہیں ہو گا مگر یہ کہ قربانی کرے، اگر قربانی نہیں ہے تو روزہ رکھے، تین روزے حج میں اور سات جب گھر واپس لوٹے۔ عمرہ حج کے مہینوں کے علاوہ بغیر قربانی اور روزے کے مکمل ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8892
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مالك 450»