❮
❯
حدیث نمبر: 8887
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ فَقُلْتُ: إِنَّ امْرَأَةً مِنَّا أَرَادَتْ أَنْ تَضُمَّ مَعَ حَجِّهَا عُمْرَةً فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ} [البقرة: ١٩٧] فَلَا أَرَى هَذِهِ إِلَّا أَشْهُرَ الْحَجِّ وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ الصَّبِيِّ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّهُمَا كَرِهَا ذَلِكَ حَتَّى بَيَّنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَوَازَهَا، وَكَرَاهِيَةُ مَنْ كَرِهَ ذَلِكَ أَظُنُّهَا عَلَى الْوَجْهِ الَّذِي رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ فَقَدْ رُوِيَ عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: نُسُكَانِ أُحِبُّ أَنْ يَكُونَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا شَعَثٌ وَسَفَرٌ، فَثَبَتَ بِالسُّنَّةِ الثَّابِتَةِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَوَازُ التَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ وَالْإِفْرَادِ، وَثَبَتَ بِمُضِيِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ مُفْرَدٍ ثُمَّ بِاخْتِلَافِ الصَّدْرِ الْأَوَّلِ فِي كَرَاهِيَةِ التَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ دُونَ الْإِفْرَادِ كَوْنُ إِفْرَادِ الْحَجِّ عَنِ الْعُمْرَةِ أَفْضَلُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

(الف) طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ ہم میں سے ایک عورت حج کے ساتھ عمرہ کو ملانا چاہتی ہے تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ﴾ [سورة البقرة: 197] ”حج کے مہینے معلوم ہیں“ اور میں تو ان کو ہی حج کے مہینے سمجھتا ہوں۔
(ب) زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ اسے ناپسند کرتے تھے، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے جواز کا بیان ہے، کراہت کی وجہ وہ روایت ہے جو ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ یہ دو عبادتیں (حج اور عمرہ) ہیں، مجھے پسند ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے لیے الگ پراگندہ حالی اور الگ سفر ہو۔ رسول اللہ ﷺ سے تمتع، قران اور افراد کا جواز ثابت ہے، پیچھے رسول اللہ ﷺ کے حجِ افراد کے بارے میں گزر چکا ہے، شروع میں تمتع اور قران کی کراہیت کا اختلاف گزر چکا ہے۔ حج کو عمرہ سے الگ کر کے (افراد) ادا کرنا افضل ہے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”واللہ اعلم“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8887
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»