السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: كراهية من كره القران، والتمتع، والبيان أن جميع ذلك جائز وإن كنا اخترنا الإفراد باب: حجِ قران اور حجِ تمتع کو ناپسند کرنے والوں کی کراہت کا بیان اور اس بات کی وضاحت کہ یہ سب جائز ہے اگرچہ ہم نے حجِ افراد کو ہی اختیار کیا ہے۔
حدیث نمبر: 8879
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطَّبَرَانِيُّ بِهَا، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُسْلِمٍ الْقُرِّيِّ، قَالَ: " سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ، فَرَخَّصَ فِيهَا، وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنْهَا، فَقَالَ: هَذِهِ أُمُّ ابْنِ الزُّبَيْرِ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِيهَا، فَادْخُلُوا عَلَيْهَا فَاسْأَلُوهَا، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ ضَخْمَةٌ عَمْيَاءُ، فَقَالَتْ: قَدْ رَخَّصَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ.حافظ ثناء اللہ
مسلم قرّی فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے حجِ تمتع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے رخصت دی اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اس سے منع کرتے تھے تو انہوں نے کہا: ”یہ ابن زبیر کی ماں بتاتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی رخصت دی ہے۔ تم ان کے پاس جا کر پوچھ لو۔“ کہتے ہیں کہ ہم گئے تو وہ ایک موٹی سی نابینا خاتون تھیں۔ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے اس کی رخصت دی ہے۔“