السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: كراهية من كره القران، والتمتع، والبيان أن جميع ذلك جائز وإن كنا اخترنا الإفراد باب: حجِ قران اور حجِ تمتع کو ناپسند کرنے والوں کی کراہت کا بیان اور اس بات کی وضاحت کہ یہ سب جائز ہے اگرچہ ہم نے حجِ افراد کو ہی اختیار کیا ہے۔
حدیث نمبر: 8883
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: قُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ: إِنِّي أَهُمُّ أَنْ أَجْمَعَ الْعُمْرَةَ وَالْحَجَّ فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ: وَلَكِنْ أَبَاكَ لَمْ يَكُنْ يَهُمُّ بِذَلِكَ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ مَرَّ بِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالرَّبَذَةِ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَتْ لَنَا خَاصَّةً دُونَكُمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ جَرِيرٍ.حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن شعثاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ اور ابراہیم تیمی رحمہ اللہ سے کہا کہ میں حج و عمرہ کو جمع کرنا چاہتا ہوں تو نخعی رحمہ اللہ نے کہا: لیکن آپ کے والد اس کا ارادہ نہیں رکھتے اور تیمی رحمہ اللہ نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ربذہ میں سے گزرے تو انہوں نے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ صرف ہمارے لیے رخصت تھی، تمہارے لیے نہیں۔