السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: كراهية من كره القران، والتمتع، والبيان أن جميع ذلك جائز وإن كنا اخترنا الإفراد باب: حجِ قران اور حجِ تمتع کو ناپسند کرنے والوں کی کراہت کا بیان اور اس بات کی وضاحت کہ یہ سب جائز ہے اگرچہ ہم نے حجِ افراد کو ہی اختیار کیا ہے۔
حدیث نمبر: 8884
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُنَادِي، ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي الْحَجِّ لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: إِنَّمَا كَانَتْ مُتْعَةُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةً رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ فَسْخَهُمُ الْحَجَّ بِالْعُمْرَةِ وَهُوَ أَنَّ بَعْضَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ هَدْيٌ فَأَمَرَهُمْ ⦗٣٣⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْعَلُوهُ عُمْرَةً؛ لِيَنْقُضَ، وَاللهُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ عَادَتَهُمْ فِي تَحْرِيمِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، وَهَذَا لَا يَجُوزُ الْيَوْمَ وَقَدْ مَضَى فِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَفِي رِوَايَةِ مُرَقَّعٍ الْأُسَيِّدِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ مَا دَلَّ عَلَى ذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حجِ تمتع کی رخصت صرف اصحابِ محمد ﷺ کے لیے ہی تھی۔
(ب) صحیح مسلم میں ابوبکر بن ابی شیبہ سے روایت ہے، ان کی مراد «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے“ ان کا حج کو عمرہ کے ساتھ فسخ کرنا ہے اور وہ اس حال میں کہ بعض صحابہ نے حج کا تلبیہ پکارا اور ان کے پاس قربانی نہیں تھی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ ”وہ اس کو عمرہ بنا لیں“ تاکہ وہ ختم ہو جائے «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے“، اس وجہ سے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ حرام ہے۔
(ج) یہ آج بھی جائز نہیں۔