کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إن الله وملائكته حتى النملة في جحرها وحتى الحوت في البحر ليصلون على معلم الناس الخير»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے، حتیٰ کہ اپنے بلوں میں موجود چیونٹیاں اور سمندر میں مچھلیاں بھی اس شخص پر رحمت بھیجتی ہیں جو لوگوں کو بھلائی سکھاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1838
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب الضياء] عن أبي أمامة. صحيح الترغيب ٧٨: ت.
«إن الله وملائكته يصلون على الصف الأول»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے پہلی صف والوں پر رحمت نازل فرماتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1839
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د هـ ك] عن البراء [هـ] عن عبد الرحمن بن عوف [طب] عن النعمان بن بشير [البزار] عن جابر. المشكاة ١١٠١، صحيح أبي داود ٦٧٠، صحيح الترغيب ٤٩٠، ٤٩٢، ٤٩٣.
«إن الله وملائكته يصلون على الصف الأول سووا صفوفكم وحاذوا بين مناكبكم ولينوا في أيدي إخوانكم وسدوا الخلل فإن الشيطان يدخل فيما بينكم مثل الحذف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے پہلی صف والوں پر رحمت نازل فرماتے ہیں، تم اپنی صفوں کو سیدھا رکھو، اپنے کندھوں کو برابر رکھو، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہو جاؤ، اور خالی جگہوں کو پر کرو، کیونکہ شیطان تمہارے درمیان کالے رنگ کے چھوٹے بھیڑ بکری کے بچوں کی طرح داخل ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1840
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب] عن أبي أمامة. صحيح الترغيب ٤٩٣.
«إن الله وملائكته يصلون على الصف المقدم والمؤذن يغفر له مد صوته ويصدقه من سمعه من رطب ويابس وله مثل أجر من صلى معه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اگلی صف والوں پر رحمت نازل فرماتے ہیں، اور مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے (اس کی برکت سے) اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اور جو بھی خشک و تر چیز اس کی آواز سنتی ہے وہ اس کی تصدیق کرتی ہے، اور اس (مؤذن) کے لیے ان تمام لوگوں کے اجر کے برابر ثواب ہے جو اس کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1841
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن الضياء] عن البراء. صحيح الترغيب ٢٣٠.
«إن الله وملائكته يصلون على الصفوف المقدمة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اگلی صفوں والوں پر رحمت نازل فرماتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1842
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن البراء. صحيح الترغيب ٤٩٣: الطيالسي، حم، د، الدارمي – ابن ماجه - ابن خزيمة، ك.
«إن الله تعالى وملائكته يصلون على الذين يصلون الصفوف ومن سد فرجة رفعه الله بها درجة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ان لوگوں پر رحمت نازل فرماتے ہیں جو صفوں کو ملاتے ہیں، اور جو شخص صف میں موجود خالی جگہ کو پر کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1843
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم هـ حب ك] عن عائشة. صحيح أبي داود ٦٨٠، صحيح الترغيب ٥٠١.
«إن الله تعالى وملائكته يصلون على المتسحرين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں پر رحمت نازل فرماتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1844
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حب طس حل] عن ابن عمر. صحيح الترغيب ١٠٥٨، الصحيحة ١٦٥٤.
«إن الله هو: الحكم وإليه الحكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی حکم (فیصلہ کرنے والا) ہے اور اسی کی طرف فیصلہ (کا اختیار) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1845
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن ك حب] عن هانئ بن يزيد. الإرواء ٢٦٨٢، المشكاة ٤٧٦٦.
«إن الله تعالى هو: الخالق القابض الباسط الرازق المسعر وإني لأرجو أن ألقى الله ولا يطلبني أحد بمظلمة ظلمتها إياه في دم ولا مال»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی پیدا کرنے والا، تنگی کرنے والا، کشادگی کرنے والا، رزق دینے والا اور نرخ (قیمتیں) مقرر کرنے والا ہے، اور میں یہ امید رکھتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملوں کہ تم میں سے کوئی بھی مجھ سے کسی جانی یا مالی زیادتی کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1846
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ت هـ حب هق] عن أنس. الروض النضير ٤٠٥، غاية المرام ٣٢٣.
"إن الله هو: السلام فإذا قعد أحدكم في الصلاة فليقل: التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين فإنكم إذا قلتموها أصابت كل عبد لله صالح في السماء والأرض أشهد أن لا إله إلا
الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله ثم ليتخير من المسألة ما شاء"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی سلامتی دینے والا ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو اسے یہ کہنا چاہیے: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ» (تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلامتی ہو)، کیونکہ جب تم یہ کہو گے تو یہ آسمان اور زمین میں موجود اللہ کے ہر نیک بندے تک پہنچ جائے گا، پھر وہ کہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں)، پھر اس کے بعد وہ جو دعا چاہے مانگ لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1847
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن ابن مسعود. الإرواء ٣٣٦.
«إن الله تعالى لا يجمع أمتي على ضلالة ويد الله على الجماعة.... ٢»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ میری امت کو کبھی کسی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا، اور جماعت پر اللہ کا ہاتھ (یعنی اس کی مدد) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1848
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن ابن عمر. المشكاة ١٧٣، السنة ٨٠، طب، ك، هق في [الأسماء] .
«إن الله لا يحب العقوق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ والدین کی نافرمانی کو پسند نہیں فرماتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1849
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن ابن عمرو. الصحيحة ١٦٥٥: د، ن ك هق مالك عن رجل ضمري.
«إن الله لا يحب كل فاحش متفحش»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کسی بے حیا اور فحش گوئی کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1850
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم] عن أسامة بن زيد. الإرواء ٢١٣٣: خد – عائشة. ك – أبي هريرة.
«إن الله تعالى لا يرضى لعبده المؤمن إذا ذهب بصفيه من أهل الأرض فصبر واحتسب بثواب دون الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے لیے اس بات پر راضی نہیں ہوتا کہ جب وہ زمین والوں میں سے اس کے کسی عزیز (پسندیدہ شخص) کو اٹھا لے، اور وہ اس پر صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے، تو اسے جنت سے کم کوئی ثواب دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1851
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ن] عن ابن عمرو. أحكام الجنائز ٢٣.
«إن الله تعالى لا يستحي من الحق لا تأتوا النساء في أدبارهن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ حق بات بیان کرنے سے نہیں شرماتا، تم عورتوں کے پاس ان کی پچھلی شرمگاہوں (دبر) سے نہ جاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1852
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن هـ] عن خزيمة بن ثابت. آداب الزفاف ٢٧، الإرواء ٢٠٠٥.
"إن الله تعالى لا يظلم المؤمن حسنة يعطى عليها في الدنيا ويثاب عليها في الآخرة وأما الكافر فيطعم بحسناته في الدنيا حتى إذا أفضى إلى الآخرة لم تكن له حسنة يعطى بها خيرا"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کسی مومن پر ایک نیکی کا بھی ظلم نہیں کرتا، اسے اس نیکی کا بدلہ دنیا میں بھی دیا جاتا ہے اور آخرت میں بھی اس پر ثواب دیا جائے گا۔ بہرحال کافر، تو اسے اس کی نیکیوں کے بدلے دنیا ہی میں کھلا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کے پاس کوئی ایسی نیکی نہیں ہوگی جس کے بدلے اسے کوئی بھلائی دی جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1853
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أنس. مختصر مسلم ٦٠.
«إن الله تعالى لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعه من العباد ولكن يقبض العلم بقبض العلماء حتى إذا لم يبق عالما اتخذ الناس رءوساء جهالا فسئلوا فأفتوا بغير علم فضلوا وأضلوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اسے بندوں (کے سینوں) سے کھینچ لے، بلکہ وہ علم کو علماء کو اٹھا کر (وفات دے کر) قبض کرے گا، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے، پھر ان سے سوالات کیے جائیں گے تو وہ علم کے بغیر فتوے دیں گے، جس سے وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1854
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث حم ق ت هـ" عن ابن عمرو. الروض ٥٧٩، مختصر مسلم ١٨٥٨.
«إن الله لا يقبل صلاة بغير طهور ولا صدقة من غلول»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ طہارت (پاکی) کے بغیر کوئی نماز قبول نہیں کرتا، اور نہ ہی خیانت کے مال سے کوئی صدقہ قبول فرماتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1855
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ن هـ حب] عن والد أبي المليح. صحيح أبي داود ٥٣: الطيالسي، أبو عوانة، طص.
«إن الله تعالى لا يقبل من العمل إلا ما كان له خالصا وابتغي به وجهه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کوئی عمل قبول نہیں فرماتا سوائے اس کے جو خالص اسی کے لیے ہو اور اس کے ذریعے صرف اسی کی رضا چاہی گئی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1856
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ن] عن أبي أمامة. أحكام الجنائز ٥٣، الصحيحة ٥٢.
«إن الله لا يقدس أمة لا يأخذ الضعيف حقه من القوي وهو غير متعتع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس امت کو پاکیزہ نہیں کرتا جس میں کمزور شخص طاقتور سے اپنا حق بغیر کسی خوف اور ہچکچاہٹ کے نہ لے سکے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1857
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هق] عن أبي سفيان بن الحارث. المشكاة ٣٠٠٤.
«إن الله تعالى لا يقدس أمة لا يعطون الضعيف منهم حقه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس امت کو پاکیزہ نہیں کرتا جو اپنے کمزوروں کو ان کا حق نہ دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1858
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن مسعود. المشكاة ٣٠٠٤.
«إن الله لا يمل حتى تملوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ (اجر دینے سے) نہیں اکتاتا یہاں تک کہ تم (عمل کرنے سے) اکتا جاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1859
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار] عن أبي هريرة. خ – تهجد، م – صلاة المسافرين – عائشة.
«إن الله تعالى لا ينام ولا ينبغي له أن ينام يخفض القسط ويرفعه ويرفع إليه عمل الليل قبل عمل النهار وعمل النهار قبل عمل الليل حجابه النور لو كشفه لأحرقت سبحات وجهه ما انتهى إليه بصره من خلقه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نہیں سوتا اور نہ ہی سونا اس کے شایانِ شان ہے۔ وہ ترازو (انصاف یا رزق) کو جھکاتا اور بلند کرتا ہے۔ رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس کی طرف اٹھایا جاتا ہے۔ اس کا حجاب (پردہ) نور ہے۔ اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کی تجلیاں اس کی مخلوق میں سے وہاں تک سب کو جلا ڈالیں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1860
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م هـ] عن أبي موسى. مختصر مسلم ٨٥.
«إن الله لا ينزع العلم منكم بعدما أعطاكموه انتزاعا ولكن يقبض العلماء بعلمهم ويبقى جهال فيسألون فيفتون فيضلون ويضلون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہیں علم عطا کرنے کے بعد اسے تم سے کھینچ کر نہیں نکالے گا، بلکہ وہ علماء کو ان کے علم سمیت قبض کر لے گا (وفات دے دے گا)، اور جاہل لوگ باقی رہ جائیں گے، پھر ان سے سوالات کیے جائیں گے تو وہ فتوے دیں گے، جس سے وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1861
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طس] عن أبي هريرة١. مجمع الزوائد ١/٢٠١خ: اعتصام – ابن عمرو وزاد: فيفتون [برأيهم] .
«إن الله تعالى لا ينظر إلى صوركم وأموالكم ولكن إنما ينظر إلى قلوبكم وأعمالكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تو تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1862
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م هـ] عن أبي هريرة. غاية المرام ٤١٥، مختصر مسلم ١٧٧٦.
«إن الله تعالى لا ينظر إلى مسبل إزاره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف (رحمت کی نگاہ سے) نہیں دیکھتا جو (تکبر سے) اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1863
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن] عن ابن عباس. الصحيحة ١٦٥٦: حم –أبي هريرة.
«إن الله تعالى لا ينظر إلى من يجر إزاره بطرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف (رحمت کی نگاہ سے) نہیں دیکھتا جو تکبر و غرور سے اپنا تہبند (یا لباس) زمین پر گھسیٹتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1864
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٣٥٩.
«إن الله يؤيد حسان بروح القدس ما نافح عن رسول الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جبرائیل امین (روح القدس) کے ذریعے حسان (بن ثابت رضی اللہ عنہ) کی مدد فرماتا ہے جب تک کہ وہ اللہ کے رسول کا دفاع کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1865
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت] عن عائشة. الصحيحة ١٦٥٧: ك، ع.
«إن الله تعالى يؤيد هذا الدين بأقوام لا خلاق لهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس دین کی مدد ایسے لوگوں کے ذریعے بھی فرماتا ہے جن کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1866
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن حب] عن أنس [حم طب] عن أبي بكرة. الروض ٣٨، الصحيحة ١٦٤٩: حل، الضياء – أنس.
«إن الله يباهي بأهل عرفات أهل السماء فيقول لهم: انظروا إلى عبادي هؤلاء جاءوني شعثا غبرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ میدانِ عرفات والوں پر آسمان والوں (فرشتوں) کے سامنے فخر فرماتا ہے اور ان سے کہتا ہے: میرے ان بندوں کی طرف دیکھو، یہ میرے پاس پراگندہ حال اور غبار آلود آئے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1867
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حب ك هق] عن أبي هريرة. الترغيب ٢/١٢٨: حم، ابن خزيمة، حل.
«إن الله تعالى يباهي ملائكته عشية عرفة بأهل عرفة يقول: انظروا إلى عبادي أتوني شعثا غبرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ یومِ عرفہ کی شام کو میدانِ عرفات والوں کے سبب اپنے فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے اور کہتا ہے: میرے ان بندوں کی طرف دیکھو، یہ میرے پاس پراگندہ حال اور غبار آلود آئے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1868
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب] عن ابن عمرو. تخريج الترغيب ٢/٢٢٨.
«إن الله تعالى يبتلي العبد فيما أعطاه فإن رضي بما قسم الله له بورك له فيه ووسعه وإن لم يرض لم يبارك له ولم يزد على ما كتب له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ بندے کو جو کچھ عطا فرماتا ہے اس میں اسے آزماتا ہے، پس اگر وہ اللہ کی تقسیم پر راضی ہو جائے تو اس کے لیے اس میں برکت دی جاتی ہے اور وسعت پیدا کر دی جاتی ہے، اور اگر وہ راضی نہ ہو تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں دی جاتی اور اس کے مقدر سے زیادہ اسے کچھ نہیں ملتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1869
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ابن قانع هب] عن رجل من بني سليم. الصحيحة ١٦٥٨.
«إن الله تعالى يبتلي عبده المؤمن بالسقم حتى يكفر عنه كل ذنب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو بیماری میں مبتلا کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس کے تمام گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1870
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن جبير بن مطعم [ك] عن أبي هريرة. الترغيب ٤/١٥٣.
«إن الله تعالى يبسط يده بالليل ليتوب مسيء النهار ويبسط يده بالنهار ليتوب مسيء الليل حتى تطلع الشمس من مغربها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ رات کے وقت اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن میں گناہ کرنے والا توبہ کر لے، اور دن کے وقت اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کر لے، (اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا) یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1871
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي موسى. مختصر مسلم ١٩٢١.
«إن الله يبعث الأيام يوم القيامة على هيئتها ويبعث الجمعة زهراء منيرة لأهلها فيحفون بها كالعروس تهدى إلى كريمها تضيء لهم يمشون في ضوءها ألوانهم كالثلج بياضا رياحهم تسطع كالمسك يخوضون في جبال الكافور ينظر إليهم الثقلان ما يطرقون تعجبا حتى يدخلوا الجنة لا يخالطهم أحد إلا المؤذنون المحتسبون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دنوں کو ان کی اصل حالت پر اٹھائے گا، اور جمعہ کے دن کو اس کے والوں کے لیے ایک روشن اور چمک دار صورت میں اٹھائے گا۔ وہ لوگ اس (جمعہ) کے گرد اس طرح جمع ہوں گے جیسے دلہن کو اس کے معزز دولہا کے پاس بھیجا جاتا ہے۔ وہ (دن) ان کے لیے روشنی کرے گا اور وہ اس کی روشنی میں چلیں گے، ان کے رنگ برف کی طرح سفید ہوں گے، ان کی خوشبو کستوری کی طرح مہک رہی ہوگی، وہ کافور کے پہاڑوں میں چل رہے ہوں گے، جن و انس انہیں تعجب سے دیکھ رہے ہوں گے اور اپنی نظریں نہیں ہٹا سکیں گے یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ ان کے ساتھ کوئی اور شامل نہیں ہوگا سوائے ان مؤذنوں کے جو ثواب کی نیت سے اذان دیتے تھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1872
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك هب] عن أبي موسى. الصحيحة ٧٠٦.
«إن الله تعالى يبعث ريحا من اليمن ألين من الحرير فلا تدع أحدا في قلبه مثقال حبة من إيمان إلا قبضته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ یمن کی طرف سے ایک ہوا بھیجے گا جو ریشم سے بھی زیادہ نرم ہوگی، پس وہ کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑے گی جس کے دل میں ایک دانے کے برابر بھی ایمان ہو، مگر اس کی روح قبض کر لے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1873
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٦٥٩: مختصر مسلم ٢٠٢١، تخ، السراج.
«إن الله تعالى يبعث لهذه الأمة على رأس كل مائة سنة من يجدد لها دينها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس امت کے لیے ہر صدی کے سرے پر کسی ایسے شخص (یا جماعت) کو بھیجے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید کرے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1874
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك هق في المعرفة] عن أبي هريرة. الصحيحة ٥٩٩.
«إن الله تعالى يبغض البليغ من الرجال الذي يتخلل بلسانه تخلل البقرة بلسانها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان لفاظ (چرب زبان) مردوں کو ناپسند فرماتا ہے جو (گفتگو میں تصنع اور بناوٹ کے لیے) اپنی زبان کو اس طرح گھماتے ہیں جس طرح گائے (چارہ کھاتے وقت) اپنی زبان گھماتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1875
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ت] عن ابن عمرو. الصحيحة ٨٨٠.
«إن الله تعالى يبغض السائل الملحف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ چمٹ کر (اصرار کے ساتھ) مانگنے والے کو ناپسند فرماتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1876
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حل] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٣٢٠.
«إن الله تعالى يبغض الفاحش المتفحش»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ بے حیا اور فحش گوئی کرنے والے کو ناپسند فرماتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1877
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أسامة بن زيد. الإرواء ٢١٩٢، الصحيحة ٨٧٦: حب، حم عن ابن عمرو.