أخبرني أبو علي الحسين بن عليٍّ الحافظ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب ومحمد بن إسحاق، قالا: حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا الأوزاعيُّ، حدثني الزُّهري، عن عطاء بن يزيد اللَّيثي، عن أبي أيوب الأنصاري، قال: قال رسول الله ﷺ: "الوِترُ حقٌّ، فمن شاء فليوتِرْ بخمسٍ، ومن شاء فليوتِرْ بثلاث، ومن شاء فليوتِرْ بواحدة" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد تابعه محمد بن الوليد الزُّبيدي وسفيان بن عيينة وسفيان بن حسين ومعمر ابن راشد ومحمد بن إسحاق وبكر بن وائلٍ على رفعه. أما حديث الزُّبيدي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1128 - على شرطهما_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ الزُّبَيْدِيِّ
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد تابعه محمد بن الوليد الزُّبيدي وسفيان بن عيينة وسفيان بن حسين ومعمر ابن راشد ومحمد بن إسحاق وبكر بن وائلٍ على رفعه. أما حديث الزُّبيدي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1128 - على شرطهما_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ الزُّبَيْدِيِّ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وتر برحق ہے، پس جو چاہے پانچ رکعت وتر پڑھے، اور جو چاہے تین پڑھے، اور جو چاہے ایک رکعت پڑھے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور محمد بن ولید زبیدی، سفیان بن عیینہ، سفیان بن حسین، معمر بن راشد، محمد بن اسحاق اور بکر بن وائل نے اسے مرفوع روایت کرنے میں ان کی متابعت کی ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور محمد بن ولید زبیدی، سفیان بن عیینہ، سفیان بن حسین، معمر بن راشد، محمد بن اسحاق اور بکر بن وائل نے اسے مرفوع روایت کرنے میں ان کی متابعت کی ہے۔
فأخبرَناه أبو سهل أحمد بن محمد بن زياد النَّحْويُّ ببغداد، حدثنا عبد الكريم بن الهيثم، حدثنا محمد بن عيسى بن الطَّباع، حدثنا يزيد بن يوسف الحِمْيري، حدثنا محمد بن الوليد الزُّبيدي، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد، عن أبي أيوب قال: قال رسول الله ﷺ: "الوتر خمسٌ، أو ثلاثٌ، أو واحدةٌ" (1). وأما حديث سفيان بن عُيينة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وتر پانچ، یا تین، یا ایک (رکعت) ہے۔“
فحدثناه أبو بكر محمد بن إسماعيل بن العباس المُستَمْلي، حدثني أبي، حدثنا محمد بن حسَّان الأزرق، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن الزُّهري، عن عطاء بن يزيد، عن أبي أيوب قال: قال رسول الله ﷺ: "الوِترُ حقٌّ، فمن شاء أوتَرَ بثلاث، ومن شاء أوتَرَ بخَمس، ومن أحبَّ أن يُوتِرَ بواحدةٍ فليُوتِرْ بواحدة" (2). وأما حديث سفيان بن حسين:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وتر برحق ہے، پس جو چاہے تین رکعت وتر پڑھے، جو چاہے پانچ پڑھے، اور جو ایک رکعت وتر پڑھنا پسند کرے وہ ایک ہی پڑھے۔“
فأخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المَحْبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سفيان بن حسين، عن الزُّهري، عن عطاء بن يزيد، عن أبي أيوب قال: قال رسول الله ﷺ: "أوتِرْ بخَمْسٍ، فإن لم تستطع فبثلاثٍ، فإن لم تستطع فبواحدةٍ، فإن لم تستطع فأَوْمِ إيماءً" (1). وأما حديث معمر:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ رکعت وتر پڑھو، اگر نہ کر سکو تو تین، اگر نہ کر سکو تو ایک، اور اگر (وہ بھی) نہ کر سکو تو پھر اشارے سے (وتر) ادا کر لو۔“
فحدَّثَناه أبو عليٍّ الحافظ، حدثنا جعفر بن أحمد بن نصر، حدثنا يحيى بن الوَرْد، حدثنا أبي، حدثنا عديُّ بن الفَضْل، عن مَعمَر، عن ابن شهاب، عن عطاء بن يزيد، عن أبي أيوب، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "الوِترُ حقٌّ"، فذكره بنحوه (2). وأما حديث محمد بن إسحاق:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1132 - عدي تركوه_x000D_ وَأَمَّا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1132 - عدي تركوه_x000D_ وَأَمَّا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وتر برحق ہے“، پھر راوی نے مذکورہ بالا حدیث کی طرح (تعداد کا) ذکر کیا۔
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن خالد بن خَلِيّ، حدثنا أحمد بن خالد الوَهْبيّ، حدثنا محمد بن إسحاق، عن الزُّهري، عن عطاء بن يزيد، عن أبي أيوب قال: الوترُ حقٌّ. فذكره موقوفًا على أبي أيوب (1). وأما حديث بكر بن وائل:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: وتر برحق ہے، پھر راوی نے پچھلی حدیث کی طرح ذکر کیا (مگر یہ روایت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے)۔
فحدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرحمن بن المبارك، حدثنا قُريش بن حَيّان، عن بَكْر بن وائل، عن الزُّهري، عن عطاء بن يزيد، عن أبي أيوب قال: قال رسول الله ﷺ: "الوتر حقٌّ"، فذكره بنحوه (2). قال الحاكم: لستُ أشكُّ أنَّ الشيخين تركا هذا الحديث لتوقيف بعض أصحاب الزُّهري إياه، هذا مما لا يُعلِّل مثلَ هذا الحديث، والله أعلم.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وتر برحق ہے“، پھر راوی نے سابقہ مفہوم کی طرح حدیث ذکر کی۔
امام حاکم فرماتے ہیں: مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ شیخین نے اس حدیث کو صرف اس لیے چھوڑا ہے کیونکہ امام زہری کے بعض شاگردوں نے اسے موقوف بیان کیا ہے، حالانکہ یہ ایسی بات نہیں ہے جو اس جیسی حدیث میں کوئی علمی علت یا کمزوری پیدا کرے، واللہ اعلم۔
امام حاکم فرماتے ہیں: مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ شیخین نے اس حدیث کو صرف اس لیے چھوڑا ہے کیونکہ امام زہری کے بعض شاگردوں نے اسے موقوف بیان کیا ہے، حالانکہ یہ ایسی بات نہیں ہے جو اس جیسی حدیث میں کوئی علمی علت یا کمزوری پیدا کرے، واللہ اعلم۔
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا حاتم بن سالم البصري، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن خالد الحذَّاء، عن أبي قِلابة، عن أم الدَّرداء، عن أبي الدَّرداء قال: رُبَّما رأيتُ النبي ﷺ يوتِرُ وقد قام الناسُ لصلاة الصبح (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1135 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1135 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بسا اوقات میں نے نبی کریم ﷺ کو وتر پڑھتے ہوئے دیکھا جبکہ لوگ صبح (فجر) کی نماز کے لیے کھڑے ہو چکے ہوتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا عبد الباقي بن قانع الحافظ، حدثنا زياد بن الخليل التُّستَري، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزامي، حدثنا محمد بن فُلَيح، عن أبيه، عن هلال بن علي، عن عبد الرحمن بن أبي عَمْرة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا أصبَحَ أحدُكم ولم يُوتِر فليُوتِر" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1136 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1136 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی صبح (فجر کے وقت) بیدار ہو اور اس نے وتر نہ پڑھے ہوں، تو اسے چاہیے کہ وہ وتر پڑھ لے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا طاهر بن عمرو بن الرَّبيع بن طارق. وأخبرنا أبو يحيى أحمد بن محمد السَّمَرْقَندي، حدثنا أبو عبد الله محمد بن نصر، حدثنا طاهر بن عمرو بن الرَّبيع بن طارق، حدثنا أبي، حدثنا الليث، عن يزيد بن أبي حبيب، عن عِرَاك بن مالك، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "لا تُوتِروا بثلاثٍ تَشبَّهوا بصلاة المغرب، ولكن أوتِرُوا بخمسٍ، أو بسبعٍ، أو بتسعٍ، أو بإحدى عشْرةَ ركعة، أو أكثرَ من ذلك" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صرف تین رکعت وتر نہ پڑھا کرو کہ اس سے (وتر کی) مشابہت نمازِ مغرب سے ہو جائے، بلکہ پانچ، سات، نو، گیارہ رکعت یا اس سے بھی زیادہ وتر پڑھا کرو۔“
حدَّثَناه أبو عليٍّ الحافظ، أخبرنا عبد الله بن سليمان، حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثنا سليمان بن بلال، عن صالح بن كَيْسان، عن عبد الله بن الفَضْل، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن وعبد الرحمن الأعرج، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال: "لا تُوتِروا بثلاثٍ ولا تَشبَّهوا بصلاة المغرب، أوتِروا بخمسٍ، أو بسَبعٍ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1138 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1138 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین رکعت وتر نہ پڑھا کرو اور اس طرح نمازِ مغرب کے ساتھ مشابہت نہ کرو، بلکہ پانچ یا سات رکعت وتر پڑھا کرو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا الحسن بن عليِّ بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا سعيدٌ، عن قتادة، عن زُرَارةَ بن أَوفى، عن سعد بن هشام، عن عائشة قالت: كان النبي ﷺ لا يُسلِّم في الركعتين الأُولَيَينِ من الوتر (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شواهد، فمنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1139 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شواهد، فمنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1139 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ وتر کی پہلی دو رکعتوں کے بعد سلام نہیں پھیرتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کے شواہد بھی موجود ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کے شواہد بھی موجود ہیں۔
ما أخبرَناه أبو نصر أحمد بن سَهْل الفقيه ببُخارى، حدثنا صالح بن محمد بن حَبِيب الحافظ، حدثنا شَيبان بن أبي شَيبة، حدثنا أبان، عن قتادة، عن زُرَارة بن أَوفى، عن سعد بن هشام، عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يُوتِر بثلاثٍ لا يقعدُ إلا في آخرِهنَّ (1). وهذا وِترُ أمير المؤمنين عمرَ بن الخطاب ﵁، وعنه أخذه أهلُ المدينة:
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور صرف ان کے آخر میں قعدہ فرماتے تھے۔ اور یہی امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا وتر ہے اور اہل مدینہ نے انہی سے اسے اخذ کیا ہے۔
أخبرنا أحمد بن محمد بن صالح السَّمَرقَنديُّ، حدثنا أبو عبد الله محمد بن نَصْر، حدثنا أبو جعفر الدَّارِمي، حدثنا حَبّان بن هلال، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا حَبيبٌ المعلِّم، قال: قيل للحسن: إنَّ ابن عمر كان يُسلِّم في الركعتين من الوِتْر، فقال: كان عمرُ أفقَهَ منه، كان ينهضُ في الثالثة بالتكبير (1).
حافظ طلحہ بابر
حبیب معلم کہتے ہیں کہ امام حسن بصری سے کہا گیا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما وتر کی دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیتے تھے، تو انہوں نے فرمایا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان سے زیادہ فقیہ تھے، وہ تیسری رکعت کے لیے تکبیر کہتے ہوئے کھڑے ہو جاتے تھے۔
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا مسلم بن إبراهيم وسليمانُ بن حرب، قالا: حدثنا جرير بن حازم، عن قيس بن سعد، عن عطاء: أنه كان يُوتِر بثلاثٍ لا يجلس فيهنَّ ولا يتشهدُ إلّا في آخرِهنَّ (2).
حافظ طلحہ بابر
عطاء رحمہ اللہ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ تین رکعت وتر پڑھتے تھے، ان میں (درمیان میں) نہیں بیٹھتے تھے اور نہ ہی تشہد پڑھتے تھے سوائے ان کے آخر میں۔
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا سعيد بن عُفَير، حدثنا يحيى بن أيوب، عن يحيى بن سعيد، عن عَمْرةَ بنت عبد الرحمن، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ كان يقرأ في الركعتين التي يُوتِر بعدهما بـ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ و ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾، ويقرأ في الوتر بـ ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ و ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ و ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ (3). تابعه سعيدُ بن أبي مريم عن يحيى بن أيوب:
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان دو رکعتوں میں جن کے بعد آپ ﷺ وتر پڑھتے تھے، ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ اور ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ پڑھتے تھے، اور وتر کی رکعت میں ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾، ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ کی تلاوت فرماتے تھے۔ سعید بن ابی مریم نے بھی یحییٰ بن ایوب سے اس کی متابعت کی ہے۔
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا أبو إسماعيل السُّلَمي. وحدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني؛ قالا: حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا يحيى بن أيوب، عن يحيى بن سعيد، عن عَمْرةَ، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ كان يُوتِر بثلاثٍ، يقرأ في الركعة الأولى بـ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾، وفي الثانية: ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾، وفي الثالثة: ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ و ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ و ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وسعيد بن عُفَير إمام أهل مصر بلا مدافَعة، وقد أتى بالحديث مفسَّرًا مصلَّحًا دالًّا على أنَّ الركعة التي هي الوتر بائنةٌ غيرُ الركعتين اللتين قبلها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1144 - رواته ثقات عنه وهو على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وسعيد بن عُفَير إمام أهل مصر بلا مدافَعة، وقد أتى بالحديث مفسَّرًا مصلَّحًا دالًّا على أنَّ الركعة التي هي الوتر بائنةٌ غيرُ الركعتين اللتين قبلها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1144 - رواته ثقات عنه وهو على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تین رکعت وتر پڑھتے تھے، پہلی رکعت میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾، دوسری میں ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ اور تیسری میں ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾، ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ پڑھتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور سعید بن عفیر بلا مقابلہ اہل مصر کے امام ہیں، وہ اس حدیث کو ایسی واضح تفصیل کے ساتھ لائے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ رکعت جو وتر ہے، اپنے سے پہلے والی دو رکعتوں سے جدا اور ممتاز ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور سعید بن عفیر بلا مقابلہ اہل مصر کے امام ہیں، وہ اس حدیث کو ایسی واضح تفصیل کے ساتھ لائے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ رکعت جو وتر ہے، اپنے سے پہلے والی دو رکعتوں سے جدا اور ممتاز ہے۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا أبو عمر، أخبرنا هَمَّام، حدثنا هشام بن عُروة، حدثني أبي، أنَّ عائشة حدثته: أنَّ رسول الله ﷺ كان يُوتِر بخَمْس رَكَعاتٍ، ولا يَجلِسُ إلّا في الخامسة، ولا يُسلِّم إلا في الخامسة (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1145 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1145 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے، آپ ﷺ صرف پانچویں رکعت میں بیٹھتے تھے اور صرف پانچویں ہی میں سلام پھیرتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامِريّ، حدثنا زيد بن الحُباب، حدثنا أبو المُنِيب عُبيد الله بن عبد الله، حدثني عبد الله بن بُرَيدة، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: "الوِترُ حقٌّ، فمن لم يُوتِرْ فليس مِنَّا" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وتر برحق ہے، پس جس نے وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“
أخبرَناه الحسن بن حَلِيم المروزي، أخبرنا أبو المُوجِّه، حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا الفضل بن موسى، حدثنا عُبيد الله (2) بن عبد الله العَتَكي، فذكره بنحوه (3).
هذا حديث صحيح، وأبو المُنِيب العَتَكي مروزيٌّ ثقة يُجمَع حديثه، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1147 - قال البخاري عنده مناكير
هذا حديث صحيح، وأبو المُنِيب العَتَكي مروزيٌّ ثقة يُجمَع حديثه، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1147 - قال البخاري عنده مناكير
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وتر برحق ہے، پس جو وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“
یہ حدیث صحیح ہے، اور ابومنیب عتکی مروزی ثقہ راوی ہیں جن کی حدیث جمع کی جاتی ہے، تاہم شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح ہے، اور ابومنیب عتکی مروزی ثقہ راوی ہیں جن کی حدیث جمع کی جاتی ہے، تاہم شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا عليُّ بن حَمْشاذَ العدلُ، حدثنا أبو المثنَّى، حدثنا أبو الوليد الطيالسي. وأخبرنا أحمد بن سَهْل الفقيه ببُخارى، حدثنا قيس بن أُنيف، حدثنا قُتيبةُ بن سعيد؛ قالا: حدثنا الليث بن سعد، عن يزيد بن أبي حبيب، عن عبد الله بن راشد الزَّوْفي، عن عبد الله بن أبي مُرَّة الزَّوفي، عن خارجة بن حُذَافة العَدَوي، قال: خرج علينا رسول الله ﷺ فقال: "إنَّ الله قد أمدَّكم بصلاةٍ هي خيرٌ لكم من حُمْر النَّعَم، وهي الوِترُ، فجعلها لكم فيما بين صلاةِ العِشاء إلى صلاة الفجر" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، رواته مَدنيُّون ومِصريُّون، ولم يتركاه إلّا لما قدمتُ ذكره من تفرد التابعي عن الصحابي (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1148 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، رواته مَدنيُّون ومِصريُّون، ولم يتركاه إلّا لما قدمتُ ذكره من تفرد التابعي عن الصحابي (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1148 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا خارجہ بن حذافہ عدوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری ایک ایسی نماز کے ساتھ مدد فرمائی ہے جو تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے، اور وہ وتر ہے، پس اللہ نے اسے تمہارے لیے نمازِ عشاء سے لے کر فجر تک (کے وقت) میں رکھا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس کے راوی مدنی اور مصری ہیں، اور ان دونوں نے اسے صرف اس وجہ سے چھوڑا ہے جس کا میں نے پہلے ذکر کیا کہ تابعی کا صحابی سے روایت کرنے میں تفرد ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس کے راوی مدنی اور مصری ہیں، اور ان دونوں نے اسے صرف اس وجہ سے چھوڑا ہے جس کا میں نے پہلے ذکر کیا کہ تابعی کا صحابی سے روایت کرنے میں تفرد ہے۔
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حدثنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن عمرو بن مُرّة، عن يحيى بن الجزار، عن أم سلمة قالت: كان النبي ﷺ يُوتِر بثلاثَ عشْرةَ، فلما كَبِرَ وضَعُفَ أوتَرَ بسَبع (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد صحَّ وِترُ النبي ﷺ بثلاثَ عشرةَ، وإحدى عشرةَ، وتسعٍ وسبعٍ وخمسٍ وثلاثٍ وواحدةٍ، وأصحُّها وِترُه ﷺ بركعة واحدة (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1149 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد صحَّ وِترُ النبي ﷺ بثلاثَ عشرةَ، وإحدى عشرةَ، وتسعٍ وسبعٍ وخمسٍ وثلاثٍ وواحدةٍ، وأصحُّها وِترُه ﷺ بركعة واحدة (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1149 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ تیرہ رکعت وتر پڑھا کرتے تھے، پھر جب آپ ﷺ عمر رسیدہ ہو گئے اور کمزوری محسوس کی تو سات رکعت وتر پڑھنے لگے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور نبی کریم ﷺ کا وتر تیرہ، گیارہ، نو، سات، پانچ، تین اور ایک رکعت کے ساتھ ثابت ہے، اور ان میں سب سے صحیح آپ ﷺ کا ایک رکعت کے ساتھ وتر پڑھنا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور نبی کریم ﷺ کا وتر تیرہ، گیارہ، نو، سات، پانچ، تین اور ایک رکعت کے ساتھ ثابت ہے، اور ان میں سب سے صحیح آپ ﷺ کا ایک رکعت کے ساتھ وتر پڑھنا ہے۔
أخبرنا أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد، عن هشام بن عمرو الفَزَاري - قال الدارمي: وهو أقدمُ شيخٍ لحماد بن سَلَمة - عن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن علي بن أبي طالب: أنَّ رسول الله ﷺ كان يقول في آخر وِترِه: "اللهم إني أعوذُ برِضاكَ من سَخَطِك، وبمعافاتك من عُقوبتِك، وأعوذُ بكَ منك، لا أُحصِي ثناءً عليك، أنت كما أثنيتَ على نفسك" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. آخر كتاب الوتر [من كتاب صلاة التطوع]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1150 - صحيح_x000D_ مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. آخر كتاب الوتر [من كتاب صلاة التطوع]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1150 - صحيح_x000D_ مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے وتر کے آخر میں یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» ”(اے اللہ!) میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ مانگتا ہوں، اور تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ مانگتا ہوں، اور میں تجھ سے تیری ہی پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف کا احاطہ نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسا تو نے خود اپنی تعریف فرمائی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [کتاب الوتر کا اختتام - کتاب صلاۃ التطوع کا آغاز]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [کتاب الوتر کا اختتام - کتاب صلاۃ التطوع کا آغاز]