حدیث نمبر: 1158
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا أبو عمر، أخبرنا هَمَّام، حدثنا هشام بن عُروة، حدثني أبي، أنَّ عائشة حدثته: أنَّ رسول الله ﷺ كان يُوتِر بخَمْس رَكَعاتٍ، ولا يَجلِسُ إلّا في الخامسة، ولا يُسلِّم إلا في الخامسة (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1145 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے، آپ ﷺ صرف پانچویں رکعت میں بیٹھتے تھے اور صرف پانچویں ہی میں سلام پھیرتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الوتر / حدیث: 1158
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو بكر بن إسحاق: اسمه أحمد، ومحمد بن أيوب: هو ابن يحيى بن الضُّريس، وأبو عمر: هو الحَوضي، واسمه حفص بن عمر بن الحارث بن سخبرة، وهمام: هو ابن يحيى بن دينار العوذي-» [ترقيم الرساله 1158] [ترقيم الشركة 1149] [ترقيم العلميه 1145]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. أبو بكر بن إسحاق: اسمه أحمد، ومحمد بن أيوب: هو ابن يحيى بن الضُّريس، وأبو عمر: هو الحَوضي، واسمه حفص بن عمر بن الحارث بن سخبرة، وهمام: هو ابن يحيى بن دينار العوذي.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ ابوبکر بن اسحاق، محمد بن ایوب اور ہمام بن یحییٰ اس کے ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 41/ (24921) عن عفان عن همام بن يحيى، بهذا الإسناد. ولفظه: أنَّ رسول الله ﷺ كان يرقد، فإذا استيقظ تسوّك ثم توضأ، ثم صلى ثمان ركعات يجلس في كل ركعتين، فيسلم، ثم يوتر بخمس ركعات لا يجلس إلّا في الحاجة، ولا يسلِّم إلّا في الخامسة.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (24921/41) نے عفان عن ہمام کی سند سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ آٹھ رکعت پڑھتے (دو دو کر کے) پھر پانچ رکعت وتر پڑھتے اور صرف پانچویں کے آخر میں بیٹھتے اور سلام پھیرتے۔
وأخرجه أحمد 40/ (24239) و (24357) و 42/ (25286) و (25702) و 43/ (25936)

و (26358)، ومسلم (737) (123)، وأبو داود (1338)، والترمذي (459)، والنسائي (420) و (434) و (1411) و (1424)، وابن حبان (2437 - 2440) من طرق عن هشام بن عروة، به. زاد بعضهم في أوله: كان يصلى من الليل ثلاث عشرة ركعة يوتر بخمس … إلى آخره. وزاد الترمذي في آخره: فإذا أذَّن المؤذن قام فصلى ركعتين خفيفتين.

حوالہ / مصدر: اسے احمد، مسلم (737/123)، ابوداؤد، ترمذی اور ابن حبان نے ہشام بن عروہ کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے آخر میں فجر کی دو سنتوں کا ذکر بھی کیا ہے۔
وأخرج أحمد 43/ (26358)، وأبو داود (1359) من طريق محمد بن جعفر بن الزبير، عن عروة، عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة بركعتين بعد الفجر، قبل الصبح إحدى عشرة ركعة من الليل، ست منهن مثنى مثنى، ويوتر بخمس لا يقعد فيهن.
حوالہ / مصدر: اسے احمد اور ابوداؤد (1359) نے محمد بن جعفر عن عروہ کی سند سے روایت کیا کہ آپ ﷺ رات کی 11 رکعتیں پڑھتے جن میں 5 رکعت وتر (مسلسل) ہوتے۔
قال الترمذي: وقد رأى بعض أهل العلم من أصحاب النبي ﷺ وغيرهم الوتر بخمس، وقالوا: لا يجلس في شيء منهن إلّا في آخرهن.
مجموعی اصول / قاعدہ: امام ترمذی کے مطابق بعض صحابہ کا یہی مسلک تھا کہ پانچ رکعت وتر میں صرف آخر میں بیٹھا جائے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1158 سے ماخوذ ہے۔