حدیث نمبر: 1143
فحدثناه أبو بكر محمد بن إسماعيل بن العباس المُستَمْلي، حدثني أبي، حدثنا محمد بن حسَّان الأزرق، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن الزُّهري، عن عطاء بن يزيد، عن أبي أيوب قال: قال رسول الله ﷺ: "الوِترُ حقٌّ، فمن شاء أوتَرَ بثلاث، ومن شاء أوتَرَ بخَمس، ومن أحبَّ أن يُوتِرَ بواحدةٍ فليُوتِرْ بواحدة" (2). وأما حديث سفيان بن حسين:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وتر برحق ہے، پس جو چاہے تین رکعت وتر پڑھے، جو چاہے پانچ پڑھے، اور جو ایک رکعت وتر پڑھنا پسند کرے وہ ایک ہی پڑھے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح، لكن اختلف على سفيان بن عيينة في رفعه ووقفه، فرفعه محمد بن حسان الأزرق هنا، ووقفه غيره كما سيأتي.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے، مگر سفیان بن عیینہ پر اس کے مرفوع یا موقوف ہونے میں اختلاف ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 2/ 195، وأخرجه النسائي (1406) عن الحارث بن مسكين، والطبراني في "الكبير" (3966) من طريق إبراهيم بن محمد، ثلاثتهم (ابن أبي شيبة والحارث وإبراهيم) عن سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد، عن أبي أيوب من قوله، ولم يرفعه. قال النسائي: والموقوف أولى بالصواب.
درجۂ حدیث: ابن ابی شیبہ (195/2)، نسائی اور طبرانی نے اسے سفیان بن عیینہ سے حضرت ابوایوب پر "موقوف" روایت کیا ہے۔ نسائی کے نزدیک یہی صواب ہے۔
وزاد الدارقطني في "العلل" (1005) وقفه عن الحميدي وقتيبة وسعيد بن منصور عن سفيان.
وانظر (1141).
حوالہ / مصدر: دارقطنی نے بھی الحمیدی اور قتیبہ سے اس کے موقوف ہونے کا ذکر کیا ہے۔ (نمبر 1141)
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے، مگر سفیان بن عیینہ پر اس کے مرفوع یا موقوف ہونے میں اختلاف ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 2/ 195، وأخرجه النسائي (1406) عن الحارث بن مسكين، والطبراني في "الكبير" (3966) من طريق إبراهيم بن محمد، ثلاثتهم (ابن أبي شيبة والحارث وإبراهيم) عن سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد، عن أبي أيوب من قوله، ولم يرفعه. قال النسائي: والموقوف أولى بالصواب.
درجۂ حدیث: ابن ابی شیبہ (195/2)، نسائی اور طبرانی نے اسے سفیان بن عیینہ سے حضرت ابوایوب پر "موقوف" روایت کیا ہے۔ نسائی کے نزدیک یہی صواب ہے۔
وزاد الدارقطني في "العلل" (1005) وقفه عن الحميدي وقتيبة وسعيد بن منصور عن سفيان.
وانظر (1141).
حوالہ / مصدر: دارقطنی نے بھی الحمیدی اور قتیبہ سے اس کے موقوف ہونے کا ذکر کیا ہے۔ (نمبر 1141)
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1143 سے ماخوذ ہے۔