حدیث نمبر: 1153
ما أخبرَناه أبو نصر أحمد بن سَهْل الفقيه ببُخارى، حدثنا صالح بن محمد بن حَبِيب الحافظ، حدثنا شَيبان بن أبي شَيبة، حدثنا أبان، عن قتادة، عن زُرَارة بن أَوفى، عن سعد بن هشام، عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يُوتِر بثلاثٍ لا يقعدُ إلا في آخرِهنَّ (1). وهذا وِترُ أمير المؤمنين عمرَ بن الخطاب ﵁، وعنه أخذه أهلُ المدينة:
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور صرف ان کے آخر میں قعدہ فرماتے تھے۔ اور یہی امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا وتر ہے اور اہل مدینہ نے انہی سے اسے اخذ کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الوتر / حدیث: 1153
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي، من أجل شيبان بن أبي شيبة: وهو شيبان بن فروخ، لكن أعلَّ البيهقي هذا الحديث بهذا اللفظ من هذه الطريق، بأنَّ حديث سعد بن هشام في وتر النبي ﷺ بتسع ثم بسبع- أبان: هو ابن يزيد العطار-» [ترقيم الرساله 1153] [ترقيم الشركة 1144]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده قوي من أجل شيبان بن أبي شيبة: وهو شيبان بن فروخ، لكن أعلَّ البيهقي هذا الحديث بهذا اللفظ من هذه الطريق، بأنَّ حديث سعد بن هشام في وتر النبي ﷺ بتسع ثم بسبع. أبان: هو ابن يزيد العطار.
درجۂ حدیث: (1) شیبان بن فروخ کی وجہ سے سند قوی ہے، مگر امام بیہقی نے اس کے الفاظ کو "خطاء" قرار دیا ہے کیونکہ سعد بن ہشام کی معروف روایت نو یا سات رکعت کے بارے میں ہے۔
وأخرجه البيهقي 3/ 28 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (28/3) نے امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وقال بإثره: كذا في هذه الرواية وقد روينا في حديث سعد بن هشام وتر النبي ﷺ بتسع ثم بسبع. ثم قال: ورواية أبان خطأ، والله أعلم.
علّت / فنی نکتہ: بیہقی فرماتے ہیں کہ ابان کی یہ روایت (پانچ رکعت والی) غلط ہے، کیونکہ سعد بن ہشام کی دوسری روایات اس کے خلاف ہیں۔
قلنا: لكن يشهد لها بهذا اللفظ حديث أُبي بن كعب عند النسائي (446)، وسيأتي بمعناه عند

المصنف برقم (3053).

متابعات و شواہد: تاہم ان الفاظ کا شاہد حضرت ابی بن کعب کی روایت (نسائی 446) میں موجود ہے، جو آگے نمبر (3053) پر آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1153 سے ماخوذ ہے۔