حدیث نمبر: 1151
حدَّثَناه أبو عليٍّ الحافظ، أخبرنا عبد الله بن سليمان، حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثنا سليمان بن بلال، عن صالح بن كَيْسان، عن عبد الله بن الفَضْل، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن وعبد الرحمن الأعرج، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال: "لا تُوتِروا بثلاثٍ ولا تَشبَّهوا بصلاة المغرب، أوتِروا بخمسٍ، أو بسَبعٍ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1138 - على شرطهماحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین رکعت وتر نہ پڑھا کرو اور اس طرح نمازِ مغرب کے ساتھ مشابہت نہ کرو، بلکہ پانچ یا سات رکعت وتر پڑھا کرو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو علي الحافظ شيخ المصنف: هو الحسين بن علي، وعبد الله بن سليمان: هو ابن الأشعث السجستاني.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ حاکم کے شیخ ابوعلی الحافظ اور عبداللہ بن سلیمان (ابوداؤد کے بیٹے) ثقہ ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (2429) من طريق حرملة بن يحيى، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (2429) نے حرملہ بن یحییٰ عن ابن وہب کی سند سے روایت کیا ہے۔
وانظر ما قبله.
فنی نکتہ: پچھلی روایت بھی دیکھیں۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ حاکم کے شیخ ابوعلی الحافظ اور عبداللہ بن سلیمان (ابوداؤد کے بیٹے) ثقہ ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (2429) من طريق حرملة بن يحيى، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (2429) نے حرملہ بن یحییٰ عن ابن وہب کی سند سے روایت کیا ہے۔
وانظر ما قبله.
فنی نکتہ: پچھلی روایت بھی دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1151 سے ماخوذ ہے۔