حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب إملاءً، حدثنا محمد بن سِنَان القَزَّاز، حدثنا عبد الله بن حُمْرانَ (1)، حدثنا عبد الحميد بن جعفر بن عبد الله بن الحَكَم، حدثني أبي جعفرُ بن عبد الله، عن عبد الرحمن بن أبي عَمْرة النَّجّاري، أنه سأل عُبادةَ بن الصامت عن الوتر، فقال: أمرٌ حسنٌ جميلٌ، عَمِلَ به النبيُّ ﷺ والمسلمون من بعده، وليس بواجب (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شواهد، فمنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1117 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شواهد، فمنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1117 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
عبدالرحمن بن ابی عمرہ نجاری سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ ایک نہایت عمدہ اور خوبصورت عمل ہے جس پر نبی کریم ﷺ اور ان کے بعد مسلمانوں نے عمل کیا ہے، مگر یہ واجب نہیں ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کے شواہد بھی موجود ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کے شواہد بھی موجود ہیں۔
ما أخبرناه ميمون بن إسحاق الهاشميُّ ببغداد، حدثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدثنا أبو بكر بن عياش. وحدثنا أبو محمد بن عبد الله المزنيُّ، حدثنا محمد بن عبد الله الحضرميُّ، حدثنا أحمد بن يونس والعلاءُ بن عمرو الحنفيّ ومحمد بن يزيد الرِّفاعيّ وعبد الله بن سعيدٍ الكِنْدي، قالوا: حدثنا أبو بكر بن عياش، حدثنا أبو إسحاق، عن عاصم بن ضَمْرةَ، قال: قال عليٌّ: إِنَّ الوِتْر ليس بحَتْم كصلاتكم المكتوبة، ولكنَّ رسول الله ﷺ أوتَرَ ثم قال: "يا أهلَ القرآن أوتِروا، فإنَّ الله وِترٌ يحبُّ الوترَ" (1). ومن الشواهد لهذا الحديث:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بے شک وتر (کی نماز) تمہاری فرض نمازوں کی طرح لازم نہیں ہے، لیکن رسول اللہ ﷺ نے وتر پڑھے اور پھر فرمایا: ”اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو، کیونکہ اللہ وتر (ایک) ہے اور وہ وتر کو پسند فرماتا ہے۔“
اس حدیث کے کئی شواہد موجود ہیں۔
اس حدیث کے کئی شواہد موجود ہیں۔
ما حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن يونس الضَّبِّي، حدثنا أبو بَدْر شُجاع بن الوليد، حدثنا يحيى بن أبي حَيَّة، عن عِكرمة، عن ابن عباس، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "ثلاثٌ هنَّ عليَّ فرائضُ ولكم تطوُّع: النَّحْر، والوِتر، وركعتا الفجر" (2). قال الحاكم: الأصل في
هذا حديثُ (1) الإيمان وسؤال الأعرابيِّ النبيَّ ﷺ عن الصلوات الخمس: هل علي غيرُها؟ قال: "لا، إلّا أن تطوَّع" (2). وحديث سعيد بن يسار عن ابن عمر في الوتر على الراحلة (3)، وقد اتفق الشيخان على إخراجهما في "الصحيح".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1119 - ما تكلم الحاكم عليه وهو غريب منكر
هذا حديثُ (1) الإيمان وسؤال الأعرابيِّ النبيَّ ﷺ عن الصلوات الخمس: هل علي غيرُها؟ قال: "لا، إلّا أن تطوَّع" (2). وحديث سعيد بن يسار عن ابن عمر في الوتر على الراحلة (3)، وقد اتفق الشيخان على إخراجهما في "الصحيح".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1119 - ما تكلم الحاكم عليه وهو غريب منكر
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین چیزیں مجھ پر فرض ہیں اور تمہارے لیے نفل (رضاکارانہ) ہیں: قربانی، وتر اور فجر کی دو (سنت) رکعتیں۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس باب میں اصل بنیاد ایمان والی وہ حدیث ہے جس میں ایک اعرابی نے نبی کریم ﷺ سے پانچ نمازوں کے بارے میں پوچھا تھا کہ: کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ واجب ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، الا یہ کہ تم اپنی خوشی سے نفل پڑھو“، اور سیدنا سعید بن یسار کی ابن عمر سے مروی وہ حدیث بھی (اصل ہے) جس میں سواری پر وتر پڑھنے کا ذکر ہے، اور شیخین نے ان دونوں کو اپنی صحیح میں روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس باب میں اصل بنیاد ایمان والی وہ حدیث ہے جس میں ایک اعرابی نے نبی کریم ﷺ سے پانچ نمازوں کے بارے میں پوچھا تھا کہ: کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ واجب ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، الا یہ کہ تم اپنی خوشی سے نفل پڑھو“، اور سیدنا سعید بن یسار کی ابن عمر سے مروی وہ حدیث بھی (اصل ہے) جس میں سواری پر وتر پڑھنے کا ذکر ہے، اور شیخین نے ان دونوں کو اپنی صحیح میں روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا يحيى بن إسحاق السَّيْلَحِيني، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت، عن عبد الله بن رباح، عن أبي قتادة: أنَّ النبي ﷺ قال لأبي بكر: "متى تُوتِر؟ " قال: أُوتِرُ قبل أن أنام، وقال لعمر: "متى تُوتِر؟ "، قال: أنام ثم أُوتِرُ، فقال لأبي بكر: "أخذتَ بالحَزْم - أو بالوَثِيقة -"، وقال لعمر: "أخذتَ بالقُوّة" (4).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1120 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1120 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم وتر کب پڑھتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: میں سونے سے پہلے وتر پڑھ لیتا ہوں، اور آپ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم وتر کب پڑھتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: میں سو جاتا ہوں پھر (بیدار ہو کر) وتر پڑھتا ہوں، تو آپ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم نے احتیاط -یا پختگی- کو اختیار کیا“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم نے قوت (عزیمت) کو اختیار کیا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک صحیح سند کے ساتھ شاہد بھی موجود ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک صحیح سند کے ساتھ شاہد بھی موجود ہے۔
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ حدثنا الحسين بن محمد بن زياد. وحدثنا عليُّ بن عيسى، حدثنا الحسين بن إدريس الأنصاري؛ قالا: حدثنا محمد بن عبَّاد المكي (1)، حدثنا يحيى بن سُلَيم، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ قال لأبي بكر: "متى تُوتِرُ؟ "، قال: أُوتِر ثم أنام، قال: "بالحَزْم أخذتَ"، وسأل عمرَ قال: "متى تُوتِرُ؟ " قال: أنام ثم أقوم من الليل فأُوتر، قال: "فِعْلَ القويِّ فعلتَ" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1121 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1121 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم وتر کب پڑھتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: میں وتر پڑھ کر سوتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے پختہ ارادے کو اختیار کیا“، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم وتر کب پڑھتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: میں سو جاتا ہوں پھر رات کو اٹھ کر وتر پڑھتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے ایک قوی (مضبوط) شخص کا سا فعل کیا۔“
أخبرنا حمزة بن العباس العَقَبيُّ ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوريّ، حدثنا أبو عامر العَقَديّ، حدثنا علي بن المبارك، عن يحيى بن أبي كَثير، قال: حدثني أبو نَضْرة، أنَّ أبا سعيدٍ الخُدْري أخبرهم: أنهم سألوا النبيَّ ﷺ عن الوِتر، فقال: "أَوتِرُوا قبل الصُّبح" (3). تابعه معمر بن راشد عن يحيى بن أبي كثير:
حافظ طلحہ بابر
ابونضرہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ صحابہ نے نبی کریم ﷺ وتر کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”صبح (ہونے) سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔“
اس کی متابعت معمر بن راشد نے یحییٰ بن ابی کثیر سے کی ہے۔
اس کی متابعت معمر بن راشد نے یحییٰ بن ابی کثیر سے کی ہے۔
أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الأعلى، حدثنا مَعمَر، عن يحيى بن أبي كَثير، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري، أنَّ النبي ﷺ قال: "أَوتِروا قبلَ أن تُصبِحوا" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1123 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1123 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس سے پہلے کہ صبح ہو جائے، وتر پڑھ لیا کرو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک صحیح شاہد بھی ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک صحیح شاہد بھی ہے۔
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا هارون بن معروف، حدثنا ابن أبي زائدة، حدثني عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ: "بادِرُوا الصُّبحَ بالوِتر" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1124 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1124 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صبح (ہونے) سے پہلے وتر پڑھنے میں جلدی کرو۔“
أخبرني عَبْدان بن يزيد الدَّقّاق بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين الكِسَائي، حدثنا أبو سَلَمة موسى بن إسماعيل، حدثنا هشام بن أبي عبد الله، عن قتادة، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "مَن أدرَكَ الصُّبحَ ولم يُوتِرْ، فلا وِترَ له" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1125 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1125 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے صبح (فجر) پالی اور وتر نہیں پڑھے تھے، تو اس کے لیے (اس وقت) کوئی وتر نہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک صحیح سند کے ساتھ شاہد موجود ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک صحیح سند کے ساتھ شاہد موجود ہے۔
أخبرَنيه أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا محمد بن الفَرَج الأزرق، حدثنا حجاج بن محمد قال: قال ابن جريج: حدثني سليمان بن موسى، حدثنا نافع: أنَّ ابن عمر كان يقول: من صلَّى الليل فليجعل آخرَ صلاته وِترًا، فإنَّ رسول الله ﷺ أمَرَ بذلك، فإذا كان الفجرُ فقد ذهب كلُّ صلاة الليلِ والوترُ، فإنَّ رسول الله ﷺ قال: "أَوتِرُوا قبلَ الفَجْر" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1126 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1126 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: جو شخص رات کو نماز پڑھے اسے چاہیے کہ وہ اپنی آخری نماز وتر کو بنائے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اسی کا حکم دیا ہے، پس جب فجر طلوع ہو جائے تو رات کی تمام نمازوں اور وتر کا وقت ختم ہو گیا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”فجر سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔“
أخبرنا أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِميّ، حدثنا عثمان بن سعيد بن كَثِير بن دينار، حدثنا أبو غسان محمد بن مُطرِّف، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن أبي سعيدٍ قال: قال رسول الله ﷺ: "من نام عن وِتْرِه أو نَسِيَه، فليصلِّه إذا أصبَحَ أو ذَكَرَه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1127 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1127 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اپنے وتر سے سویا رہ جائے یا اسے بھول جائے، تو وہ اسے اس وقت پڑھ لے جب وہ صبح بیدار ہو یا اسے یاد آ جائے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔