حدیث نمبر: 1144
فأخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المَحْبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سفيان بن حسين، عن الزُّهري، عن عطاء بن يزيد، عن أبي أيوب قال: قال رسول الله ﷺ: "أوتِرْ بخَمْسٍ، فإن لم تستطع فبثلاثٍ، فإن لم تستطع فبواحدةٍ، فإن لم تستطع فأَوْمِ إيماءً" (1). وأما حديث معمر:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ رکعت وتر پڑھو، اگر نہ کر سکو تو تین، اگر نہ کر سکو تو ایک، اور اگر (وہ بھی) نہ کر سکو تو پھر اشارے سے (وتر) ادا کر لو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، سفيان بن حسين في روايته عن الزهري مقال، لكنه متابع. سعيد بن مسعود: هو ابن عبد الرحمن المروزي.
درجۂ حدیث: (1) یہ "حدیث صحیح" ہے؛ سفیان بن حسین کی زہری سے روایت میں کلام ہے مگر وہ متابع ہیں۔
وأخرجه أحمد 38/ (23545) عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (23545/38) نے یزید بن ہارون کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقوله فيه: "فإن لم تستطع فأوم إيماءً" تابع سفيانَ بنَ حسين فيه عن الزهريِّ أشعثُ بنُ سوار عند الطبراني (3964)، وأشعث ضعيف، وليس في حديث غيرهما عن الزهري.
سندی اختلاف: "اگر نہ کر سکو تو اشارہ کرو" والے الفاظ صرف سفیان بن حسین اور اشعث بن سوار (جو ضعیف ہیں) کی روایت میں ہیں، زہری کے کسی اور شاگرد نے یہ ذکر نہیں کیے۔
درجۂ حدیث: (1) یہ "حدیث صحیح" ہے؛ سفیان بن حسین کی زہری سے روایت میں کلام ہے مگر وہ متابع ہیں۔
وأخرجه أحمد 38/ (23545) عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (23545/38) نے یزید بن ہارون کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقوله فيه: "فإن لم تستطع فأوم إيماءً" تابع سفيانَ بنَ حسين فيه عن الزهريِّ أشعثُ بنُ سوار عند الطبراني (3964)، وأشعث ضعيف، وليس في حديث غيرهما عن الزهري.
سندی اختلاف: "اگر نہ کر سکو تو اشارہ کرو" والے الفاظ صرف سفیان بن حسین اور اشعث بن سوار (جو ضعیف ہیں) کی روایت میں ہیں، زہری کے کسی اور شاگرد نے یہ ذکر نہیں کیے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1144 سے ماخوذ ہے۔