حدیث نمبر: 1155
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا مسلم بن إبراهيم وسليمانُ بن حرب، قالا: حدثنا جرير بن حازم، عن قيس بن سعد، عن عطاء: أنه كان يُوتِر بثلاثٍ لا يجلس فيهنَّ ولا يتشهدُ إلّا في آخرِهنَّ (2).
حافظ طلحہ بابر
عطاء رحمہ اللہ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ تین رکعت وتر پڑھتے تھے، ان میں (درمیان میں) نہیں بیٹھتے تھے اور نہ ہی تشہد پڑھتے تھے سوائے ان کے آخر میں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. عطاء: هو ابن أبي رباح، أبو محمد المكي.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ عطاء بن ابی رباح مکی اس کے راوی ہیں۔
وأخرجه البيهقي 3/ 455 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (455/3) نے امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ عطاء بن ابی رباح مکی اس کے راوی ہیں۔
وأخرجه البيهقي 3/ 455 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (455/3) نے امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1155 سے ماخوذ ہے۔