حدیث نمبر: 1149
حدثنا عبد الباقي بن قانع الحافظ، حدثنا زياد بن الخليل التُّستَري، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزامي، حدثنا محمد بن فُلَيح، عن أبيه، عن هلال بن علي، عن عبد الرحمن بن أبي عَمْرة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا أصبَحَ أحدُكم ولم يُوتِر فليُوتِر" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1136 - على شرطهماحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی صبح (فجر کے وقت) بیدار ہو اور اس نے وتر نہ پڑھے ہوں، تو اسے چاہیے کہ وہ وتر پڑھ لے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن، فليح - وهو ابن سليمان - والد محمد بن فليح، حديثه حسن في المتابعات والشواهد.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "حسن" ہے؛ فلیح بن سلیمان کی حدیث متابعات و شواہد میں حسن ہوتی ہے۔
وأخرجه البيهقي 2/ 478 عن أبي عبد الله الحكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (478/2) نے امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وله شاهد بإسناد صحيح، سلف برقم (1140) من حديث أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله ﷺ: "من نام عن وتره أو نسيه فليصله إذا أصبح أو ذكره".
متابعات و شواہد: اس کا ایک شاہد صحیح سند کے ساتھ پہلے نمبر (1140) پر حضرت ابوسعید خدری کی حدیث سے گزر چکا ہے کہ: "جو وتر پڑھنا بھول جائے یا سوتا رہ جائے، وہ صبح ہونے پر یا یاد آنے پر اسے پڑھ لے"۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "حسن" ہے؛ فلیح بن سلیمان کی حدیث متابعات و شواہد میں حسن ہوتی ہے۔
وأخرجه البيهقي 2/ 478 عن أبي عبد الله الحكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (478/2) نے امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وله شاهد بإسناد صحيح، سلف برقم (1140) من حديث أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله ﷺ: "من نام عن وتره أو نسيه فليصله إذا أصبح أو ذكره".
متابعات و شواہد: اس کا ایک شاہد صحیح سند کے ساتھ پہلے نمبر (1140) پر حضرت ابوسعید خدری کی حدیث سے گزر چکا ہے کہ: "جو وتر پڑھنا بھول جائے یا سوتا رہ جائے، وہ صبح ہونے پر یا یاد آنے پر اسے پڑھ لے"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1149 سے ماخوذ ہے۔