أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد بن أبي عَرُوبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعيّ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يحيى - وهو ابن سعيد - عن سعيد. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المُثنَّى، حدثنا مُسَدَّد، حدثنا يزيد ابن زُرَيع، حدثنا سعيدٌ، عن قتادة، عن زُرَارةَ بن أَوفى، عن سَعْد بن هشام، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: "ركعتا الفجرِ خيرٌ من الدنيا جميعًا" (1). وفي حديث يزيد بن زُرَيع: "خيرٌ من الدنيا وما فيها".
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فجر کی دو (سنت) رکعتیں پوری دنیا سے بہتر ہیں۔“ اور یزید بن زریع کی روایت میں ہے کہ: ”دنیا اور جو کچھ اس میں ہے (ان سب) سے بہتر ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
حدثنا أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا تمِيم بن محمد، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا أبو خالد الأحمَر، حدثنا عثمان بن حَكيم، عن سعيد بن يَسَار، عن ابن عباسٍ قال: أكثرُ ما كان رسول الله ﷺ يقرأ في رَكعتَي الفجر: ﴿قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ﴾ إلى آخر الآية [البقرة: 136]، وفي الركعة الثانية: ﴿قُلْ يَاأَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ﴾ إلى قوله: ﴿اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ﴾ [آل عمران: 64] (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1152 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1152 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فجر کی دو (سنت) رکعتوں میں اکثر یہ آیت تلاوت فرماتے تھے: ﴿قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ﴾ ”تم کہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر بھی جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور جو ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف نازل کیا گیا“ [سورة البقرة: 136] آیت کے آخر تک، اور دوسری رکعت میں: ﴿قُلْ يَاأَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ﴾ ”آپ کہہ دیجیے کہ اے اہل کتاب! ایسی بات کی طرف آ جاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے“ اس قول تک: ﴿اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ﴾ ”تم گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں“ [سورة آل عمران: 64]۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
أخبرنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا عمرو بن عاصم، حدثنا همَّام، عن قتادة، عن النَّضْر بن أنس، عن بَشِير بن نَهِيك، عن أبي هريرة، أنَّ النبي ﷺ قال: "من نَسِي ركعتَي الفجر فليُصلِّهما إذا طَلَعَتِ الشمس" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1153 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1153 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کی فجر کی دو (سنت) رکعتیں رہ جائیں تو وہ انہیں سورج طلوع ہونے کے بعد پڑھ لے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو الحسن عليُّ بن عيسى بن إبراهيم، حدثنا أحمد بن نَجْدَة القُرَشي، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا وكيع، حدثنا صالح بن رُسْتُم. وحدثنا أبو علي الحسين بن عليٍّ الحافظ - واللفظ له - حدثنا عبد الله بن محمد بن محمود المروزي، حدثنا أبو عمَّار، حدثنا النَّضْر بن شُمَيل، عن أبي عامر الخزَّاز، عن ابن أبي مُلَيكةَ، عن ابن عباس، قال: أُقيمتِ الصلاةُ، فقمتُ أصلِّي الركعتين، فجَذَبني رسولُ الله ﷺ فقال: "أتُصلِّي الصبحَ أربعًا؟ " (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ (فجر کی) نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو میں (سنت کی) دو رکعتیں پڑھنے کے لیے کھڑا ہو گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنی طرف کھینچا اور فرمایا: ”کیا تم صبح کی نماز چار رکعت پڑھ رہے ہو؟“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو الفَضْل محمد بن إبراهيم المزكِّي، حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جريرٌ، عن عبد الملك بن عُمَير، عن محمد بن المُنتَشِر، عن حُمَيد بن عبد الرحمن بن عوف، عن أبي هريرة يَرفعُه إلى النبي ﷺ: أنه سُئِلَ: أيُّ الصلاة أفضلُ بعد المكتوبة؟ وأيُّ الصيام أفضلُ بعد شهر رمضان؟ فقال: "أفضلُ الصَّلاة بعد المكتوبة الصَّلاةُ في جوف الليل، وأفضلُ الصِّيام بعد شهرُ رمضان شهرُ الله المحرَّمُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے سوال کیا گیا: فرض کے بعد کون سی نماز افضل ہے؟ اور رمضان کے بعد کون سے روزے افضل ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کے درمیانی حصے کی نماز ہے، اور رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔