کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: وکیع بن حدس، جنہیں عدس بھی کہا جاتا ہے، کی سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ وَكِيعَ بْنَ عُدُسٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمِّهِ أبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مِثْلَ النَّحْلَةِ لَا تَأْكُلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَلَا تَضَعُ إِلَّا طَيِّبًا»
ترجمہ
سیدنا ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کی مثال شہد کی مکھی جیسی ہے، وہ صرف پاکیزہ چیز کھاتی ہے اور صرف پاکیزہ چیز ہی نکالتی ہے۔“
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ عِمْرَانَ السَّدُوسِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْجُوبَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أبِي رَزِينٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مِثْلَ النَّحْلَةِ لَا يَأْكُلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَلَا يَضَعُ إِلَّا طَيِّبًا»
ترجمہ
سیدنا ابو رزین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کی مثال شہد کی مکھی جیسی ہے، وہ صرف پاکیزہ چیز کھاتی ہے اور صرف پاکیزہ چیز ہی نکالتی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا شُعْبَةُ، وَهُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنْ أَرْبَعِينَ جُزْءًا أَوْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، وَهِيَ عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ فَإِذَا عُبِّرَتْ وَقَعَتْ» . قَالَ شُعْبَةُ فِي حَدِيثِهِ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: «لَا يَقِعْهَا إِلَّا عَلَى وَادٍّ أَوْ ذِي رَأْيٍ»
ترجمہ
سیدنا ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خواب نبوت کے چالیس یا چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزو ہے، اور وہ ایک پرندے کے پاؤں پر لٹکا ہوتا ہے، جب اس کی تعبیر بیان کر دی جائے تو وہ واقع ہو جاتا ہے۔“ شعبہ کہتے ہیں: اپنی روایت میں، اور میرا خیال ہے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”اسے صرف کسی محبت رکھنے والے یا سمجھدار شخص کے سامنے ہی بیان کیا جائے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ أَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، وَهِيَ عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ يُحَدِّثْ، فَإِذَا حَدَّثَ بِهَا وَقَعَتْ»
ترجمہ
سیدنا ابو رزین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مومن کا خواب نبوت کے چالیس اجزاء میں سے ایک جزو ہے، اور وہ ایک پرندے کے پاؤں پر ہوتا ہے جب تک وہ بیان نہ کیا جائے، جب اسے بیان کر دیا جائے تو وہ واقع ہو جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، وَالرُّؤْيَا مُعَلَّقَةٌ بِرِجْلِ طَائِرٍ حَتَّى يُحَدِّثَ بِهَا صَاحِبُهَا، فَإِذَا حَدَّثَ بِهَا وَقَعَتْ، فَلَا يُحَدِّثْ بِهَا إِلَّا عَالِمًا أَوْ نَاصِحًا أَوْ حَبِيبًا»
ترجمہ
سیدنا ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزو ہے، اور خواب ایک پرندے کے پاؤں سے لٹکا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اسے بیان کرے، جب وہ اسے بیان کر دے تو وہ واقع ہو جاتا ہے، تو اسے صرف کسی جاننے والے، خیرخواہ یا محبوب شخص ہی کے سامنے بیان کرے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعَبَّرْ، فَإِذَا عُبِّرَتْ وَقَعَتْ»
وَقَالَ: «الرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ» ، وَأَحْسَبُهُ قَالَ: «وَلَا يَقُصَّهَا إِلَّا عَلَى وَادٍّ أَوْ ذِي رَأْيٍ»
وَقَالَ: «الرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ» ، وَأَحْسَبُهُ قَالَ: «وَلَا يَقُصَّهَا إِلَّا عَلَى وَادٍّ أَوْ ذِي رَأْيٍ»
ترجمہ
سیدنا ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”خواب ایک پرندے کے پاؤں پر ہوتا ہے جب تک اس کی تعبیر نہ کی جائے، جب اس کی تعبیر کر دی جائے تو وہ واقع ہو جاتا ہے۔“
اور فرمایا: ”خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔“ اور میرا خیال ہے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”اسے صرف کسی محبت رکھنے والے یا سمجھدار شخص کے سامنے ہی بیان کرے۔“
اور فرمایا: ”خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔“ اور میرا خیال ہے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”اسے صرف کسی محبت رکھنے والے یا سمجھدار شخص کے سامنے ہی بیان کرے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، عَنْ أبِي رَزِينٍ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ أَكُلُّنَا يَرَى رَبَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟، وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟، قَالَ: «أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ مَجْلِيًّا بِهِ؟» ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَاللهُ أَعْظَمُ»
ترجمہ
سیدنا ابو رزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم سب قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے، اور اس کی کیا نشانی ہے جو اس کی مخلوق میں پائی جاتی ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم سب چاند کو صاف ظاہر ہوتے نہیں دیکھتے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اللہ اس سے بھی بڑا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُذُوعِيُّ الْقَاضِي، ثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ، عَنْ أبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَكُلُّنَا نَرَى رَبَّنَا؟، قَالَ: «نَعَمْ» ، قُلْتُ: وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟، قَالَ: «أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَنْظُرُ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟، وَإِنَّمَا هُوَ خَلْقٌ مِنْ خَلَقِ اللهِ، وَاللهُ أَعْظَمُ وَأَجَلُّ»
ترجمہ
سیدنا ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا ہم سب اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے عرض کیا: اس کی کیا نشانی ہے جو اس کی مخلوق میں پائی جاتی ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم سب چودھویں رات کے چاند کو نہیں دیکھتے؟ حالانکہ وہ تو اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے، اور اللہ اس سے کہیں بڑا اور عظیم تر ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ وَهُوَ لَقِيطُ بْنُ عَامِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّا " كُنَّا نَذْبَحُ فِي رَجَبٍ ذَبَائِحَ فَنَأْكُلُ مِنْهَا وَنُطْعِمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا بَأْسَ بِذَلِكَ» ، وَقَالَ وَكِيعٌ: «لَا أَدَعُهَا أَبَدًا»
ترجمہ
سیدنا ابو رزین رضی اللہ عنہ، جن کا نام لقیط بن عامر ہے، کہتے ہیں: ہم رجب میں جانور ذبح کیا کرتے تھے، پھر ان میں سے کھاتے اور کھلاتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں۔“ اور وکیع (راوی) نے کہا: میں اسے کبھی نہیں چھوڑوں گا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ " أَيْنَ كَانَ رَبُّنَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ؟، قَالَ: «كَانَ فِي عَمَاءٍ مَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ، ثُمَّ خَلَقَ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ»
ترجمہ
سیدنا ابو رزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارا رب آسمان و زمین پیدا کرنے سے پہلے کہاں تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایک بادل (عماء) میں تھا، جس کے نہ نیچے ہوا تھی نہ اوپر ہوا، پھر اس نے اپنا عرش پانی پر پیدا کیا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، عَنْ أبِي رَزِينٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «ضَحِكَ اللهُ تَعَالَى مِنْ قُنُوطِ عِبَادِهِ وَقُرْبِ غِيَرِهِ» ، قَالَ أَبُو رَزِينٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَيَضْحَكُ الرَّبُّ؟، قَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَ: لَنْ نُعْدَمَ مِنْ رَبٍّ يَضْحَكُ خَيْرًا
ترجمہ
سیدنا ابو رزین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مایوسی اور رحمت میں تبدیلی کے قریب ہونے پر ہنستا ہے۔“ ابو رزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا رب ہنستا بھی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: ایسے رب سے جو ہنستا ہے، ہم بھلائی سے محروم نہیں رہ سکتے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ يُحْيِي اللهُ الْمَوْتَى؟، قَالَ: «أَوَمَا مَرَرْتَ بِوَادِي قَوْمِكَ قَحْلًا، ثُمَّ مَرَرْتَ بِهِ خَضْرَاءَ، ثُمَّ مَرَرْتَ بِهِ قَحْلًا، ثُمَّ مَرَرْتَ بِهِ خَضْرَاءَ؟، كَذَلِكَ يُحْيِي اللهُ الْمَوْتَى»
ترجمہ
سیدنا ابو رزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اپنی قوم کی وادی سے کبھی خشک حالت میں نہیں گزرے، پھر اس سے سرسبز حالت میں گزرے، پھر خشک حالت میں گزرے، پھر سرسبز حالت میں گزرے؟ اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرے گا۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ، عَنْ أبِي رَزِينٍ، قَالَ: قُلْتَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيْنَ أُمِّي؟، قَالَ: «أُمُّكَ فِي النَّارِ» ، قَالَ: فَأَيْنَ مَنْ مَضَى مِنْ أَهْلِكَ؟، قَالَ: «أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ أُمُّكَ مَعَ أُمِّي؟»
ترجمہ
سیدنا ابو رزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری والدہ کہاں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری والدہ آگ میں ہیں۔“ اس نے عرض کیا: پھر میرے جو گھر والے گزر چکے ہیں وہ کہاں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تجھے یہ پسند نہیں کہ تیری والدہ میری والدہ کے ساتھ ہوں؟“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ الْمَسَائِلَ وَيَعِيبُهَا، فَإِذَا سَأَلَهُ أَبُو رَزِينٍ أَجَابَهُ وَأَعْجَبَهُ ذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا ابو رزین رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ بہت زیادہ سوالات کرنے کو ناپسند فرماتے اور ان پر عیب لگاتے تھے، لیکن جب ابو رزین رضی اللہ عنہ سوال کرتے تو آپ ﷺ انہیں جواب دیتے اور یہ بات آپ ﷺ کو پسند آتی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْقَزَّازُ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالُوا: ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَشْكُرِيِّ، عَنْ أبِيهِ، قَالَ: قَدِمْتُ الْكُوفَةَ وَصَاحِبٌ لِي لِنَجْلِبَ مِنْهَا نِعَالًا، فَغَدَوْنَا إِلَى السُّوقِ وَلَمْ يَقُمْ بَعْدُ، فَقُلْتُ لِصَاحِبِي: لَوْ دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ، وَالْمَسْجِدُ يَوْمَئِذٍ فِي أَصْحَابِ التَّمْرِ، فَدَخَلْنَا فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْمُنْتَفِقِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: وُصِفَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجُلِّيَ لِي، فَطَلَبْتُهُ بِمَكَّةَ فَقِيلَ لِي هُوَ بِمِنًى، وَطَلَبْتُهُ بِمِنًى فَقِيلَ لِي هُوَ بِعَرَفَاتٍ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ فِي رَكِبٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقِيلَ لِي: تَنَحَّ عَنْ طَرِيقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعُوا الرَّجُلَ، أَرِبَ مَا لَهُ؟» ، فَدَنَوْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ أَوْ بِخِطَامِهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَسْأَلُكَ عَمَّا يُنَجِّينِي مِنَ النَّارِ وَعَمَّا يُبَلِّغُنِي الْجَنَّةَ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ نَكَسَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلِيَّ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " لَئِنْ كُنْتَ أَوْجَزْتَ الْمَسْأَلَةَ، لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ عَظِيمٍ طَوِيلٍ فَاحْفَظْ عَنِّي: اعْبُدِ اللهَ وَلَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا، وَأَقِمِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَأَدِّ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَصُمْ رَمَضَانَ، وَمَا تُحِبُّ أَنْ يَفْعَلَهُ النَّاسُ بِكَ فَافْعَلْهُ بِهِمْ، وَمَا تَكْرَهُ أَنْ يَفْعَلَهُ النَّاسُ بِكَ فَذَرِ النَّاسَ مِنْهُ، خَلِّ سَبِيلَ النَّاقَةِ أَوِ الرَّاحِلَةِ "، قَالَ هَمَّامٌ: «وَأَمَّا الْحَجُّ فَقَدْ حَجَّ حَيْثُ سَأَلَهُ»
ترجمہ
(لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) میں آپ ﷺ کے پاس پہنچا جبکہ آپ ﷺ اپنے صحابہ کے ایک قافلے میں تھے، تو مجھ سے کہا گیا: رسول اللہ ﷺ کے راستے سے ہٹ جاؤ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس آدمی کو چھوڑو، اسے کیا حاجت ہے؟“ تو میں قریب ہوا یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی اونٹنی کی نکیل یا مہار پکڑ لی، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ سے وہ چیز پوچھتا ہوں جو مجھے آگ سے نجات دلائے اور جنت تک پہنچائے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا، پھر جھکایا، پھر میری طرف اپنا چہرہ متوجہ کر کے فرمایا: ”اگرچہ تو نے سوال مختصر کیا ہے، لیکن تو نے ایک بہت بڑی اور طویل بات کا سوال کیا ہے، تو مجھ سے یاد رکھ: اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، فرض نماز قائم کر، فرض زکوٰۃ ادا کر، رمضان کے روزے رکھ، اور جو تو چاہتا ہے کہ لوگ تیرے ساتھ کریں وہ ان کے ساتھ کر، اور جو تو ناپسند کرتا ہے کہ لوگ تیرے ساتھ کریں اس سے لوگوں کو چھوڑ دے، اونٹنی یا سواری کا راستہ چھوڑ دو۔“ ہمام (راوی) کہتے ہیں: رہا حج، تو جب اس نے آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے اس کا بھی ذکر فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ زَمِيلٍ، لَهُ يُخْبِرُ عَنْ أبِيهِ، وَكَانَ يُكْنَى أَبَا الْمُنْتَفِقِ، قَالَ: أَتَيْتُ مَكَّةَ فَسَأَلْتُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا بِعَرَفَةَ فَأَتَيْتُهُ فَذَهَبْتُ أَدْنُو مِنْهُ حَتَّى اجْتَازَ عُنُقُ رَاحِلَتِي عُنُقَ رَاحِلَتِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ عَلِّمْنِي بِمَا يُنَجِّينِي مِنْ عَذَابِ اللهِ وَيُدْخِلُنِي جَنَّتَهُ، فَقَالَ: «اعْبُدِ اللهَ وَلَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا، وَأَقِمِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَأَدِّ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَحِجَّ وَاعْتَمِرْ» ، وَأَظُنُّهُ قَالَ: «وَصُمْ رَمَضَانَ، وَانْظُرْ مَا تُحِبُّ لِلنَّاسِ أَنْ يَأْتُوهُ إِلَيْكَ فَافْعَلْهُ بِهِمْ، وَمَا تَكْرَهُ أَنْ يَأْتُوهُ إِلَيْكَ فَذَرْهُمْ مِنْهُ» . «اضْطَرَبَ ابْنُ عَوْنٍ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَضْبِطْهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، وَضَبَطَهُ هَمَّامٌ» .
ترجمہ
(راوی کہتے ہیں:) لوگوں نے کہا: عرفہ میں (رسول اللہ ﷺ ہیں)، تو میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور قریب ہونے لگا یہاں تک کہ میری سواری کی گردن آپ ﷺ کی سواری کی گردن سے آگے بڑھ گئی، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے وہ چیز سکھائیے جو مجھے اللہ کے عذاب سے نجات دلائے اور مجھے اس کی جنت میں داخل کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، فرض نماز قائم کر، فرض زکوٰۃ ادا کر، حج اور عمرہ کر“، اور میرا خیال ہے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”رمضان کے روزے رکھ، اور دیکھ جو تو چاہتا ہے کہ لوگ تیرے ساتھ کریں وہ ان کے ساتھ کر، اور جو تو ناپسند کرتا ہے کہ وہ تیرے ساتھ کریں اس سے انہیں چھوڑ دے۔“ طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن عون اس حدیث کی سند میں الجھن کا شکار ہوئے، اور اسے محمد بن جحادہ سے صحیح طرح یاد نہ رکھ سکے، جبکہ ہمام نے اسے صحیح یاد رکھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَمُوسَى بْنُ هَارُونَ، قَالَا: ثنا أَبُو مُوسَى الْهَرَوِيُّ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أبِيهِ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ الْمُنْتَفِقِ، وَذَكَرَهُ
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے والد کہتے ہیں: میں ابن المنتفق کے پاس پہنچا... پھر راوی نے حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عِيسَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مَرَّةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَحْزَمِ، عَنْ أبِيهِ، أَوْ عَنْ عَمِّهِ، يَشُكُّ الْأَعْمَشُ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَهُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
مغیرہ بن سعید کے والد، یا ان کے چچا — اعمش کو اس میں شک ہے — کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، میں آپ سے سوال کرنا چاہتا تھا، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّقْرِ الْعَسْكَرِيُّ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ حِزَامٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَيَّاشٍ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الْمِسْمَعِيُّ، عَنْ دَلْهَمِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطٍ، أَنَّ لَقِيطَ بْنَ عَامِرٍ، خَرَجَ وَافِدًا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ يُقَالُ لَهُ: نَهِيكُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْمُنْتَفِقِ، قَالَ لَقِيطٌ: خَرَجَ فَخَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبِي حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ لِانْسِلَاخِ رَجَبٍ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَقَامَ فِي النَّاسِ خَطِيبًا، فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكُمْ صَوْتِي مُنْذُ أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ لِأَسْمَعَكُمُ الْيَوْمَ، أَلَا فَهَلْ مِنِ امْرِئٍ بَعَثَهُ قَوْمُهُ؟» ، فَقَالُوا: أَعُلِمَ لَنَا مَا يَقُولُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، «أَلَا ثُمَّ لَعَلَّهُ أَنْ يُلْهِيَهُ حَدِيثُ نَفْسِهِ أَوْ حَدِيثُ صَاحِبٍ لَهُ أَوْ يُلْهِيَهُ الضُّلَّالُ، أَلَا إِنِّي مَسْؤُولٌ، هَلْ بَلَّغَتُ؟، أَلَا فَاسْمَعُوا تَعِيشُوا، أَلَا فَاسْمَعُوا تَعِيشُوا، أَلَا اجْلِسُوا» ، قَالَ: فَجَلَسَ النَّاسُ وَقُمْتُ أَنَا وَصَاحِبِي حَتَّى إِذَا فَرَغَ لَنَا فُؤَادُهُ وَبَصَرُهُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا عِنْدَكَ مِنْ عِلْمِ الْغَيْبِ؟ ، فَضَحِكَ لَعَمْرِ اللهِ وَهَزَّ رَأْسَهُ وَعَلِمَ أَنِّي أَبْتَغِي سَقْطَهُ، فَقَالَ: «ضَنَّ رَبُّكَ بِخَمْسٍ مِنَ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا هُوَ» ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ، فَقُلْتُ: مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «عِلْمُ الْمَنِيَّةِ، مَتَى مَنِيَّةُ أَحَدِكُمْ وَلَا تَعْلَمُونَهُ، وَعِلْمُ الْمَنِيِّ حِينَ يَكُونُ فِي الرَّحِمِ قَدْ عَلِمَ وَلَا تَعْلَمُونَهُ، وَعِلْمُ مَا فِي غَدٍ قَدْ عَلِمَ مَا أَنْتَ طَاعِمٌ غَدًا وَلَا تَعْلَمُهُ، وَعِلْمُ يَوْمِ الْغَيْبِ يُشْرِفُ عَلَيْكُمْ آزِلِينَ مُشْفِقِينَ، وَيَظَلُّ رَبُّكَ يَضْحَكُ قَدْ عَلِمَ أَنَّ عَوْدَتَكُمْ قَرِيبٌ» ، قَالَ لَقِيطٌ: قُلْتُ: لَنْ نُعْدَمَ مِنْ رَبٍّ يَضْحَكُ خَيْرًا، «وَعِلْمُ يَوْمِ السَّاعَةِ»
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ حَاجَتِي فَلَا تَعْجَلْنِي، قَالَ: «سَلْ عَمَّا شِئْتَ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ عَلِّمْنَا مَا تَعْلَمُ النَّاسُ وَمَا نَعْلَمُ، فَإِنَّا مِنْ قَبِيلٍ لَا يُصَدِّقُونَ تَصْدِيقَنَا أَحَدٌ مِنْ مَذْحِجٍ الَّتِي تَعْلُو عَلَيْنَا، وَخَثْعَمَ الَّتِي تُوَازِينَا، تُوَالِينَا، وَعَشِيرَتِنَا الَّتِي نَحْنُ مِنْهَا، قَالَ: " تَلْبَثُونَ مَا لَبِثْتُمْ ثُمَّ تُبْعَثُ الصَّيْحَةُ، لَعَمْرُ إِلَهِكَ مَا يَدَعُ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ شَيْءٍ إِلَّا مَاتَ، وَالْمَلَائِكَةُ الَّذِينَ مَعَ رَبِّكَ، وَأَصْبَحَ رَبُّكَ يَتَطَوَّفُ فِي الْأَرْضِ وَخَلَتْ عَلَيْهِ الْبِلَادُ، فَأَرْسَلَ رَبُّكَ السَّمَاءَ بِهَضْبٍ مِنْ عِنْدِ الْعَرْشِ، فَلَعَمْرُ إِلَهِكَ مَا يَدَعُ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ قَتِيلٍ وَلَا مَدْفَنِ مَيِّتٍ إِلَّا شُقَّتِ الْقَبْرُ عَنْهُ وَيَخْلُقُهُ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ فَيَسْتَوِي جَالِسًا، يَقُولُ رَبُّكَ: مَهْيَمْ؟، لِمَا كَانَ فِيهِ، يَقُولُ: يَا رَبُّ أَمْسَ الْيَوْمِ - لِعَهْدِهِ بِالْحَيَاةِ يَحْسَبُهُ حَدِيثًا "
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ يَجْمَعُنَا بَعْدَمَا تُمَزِّقُنَا الرِّيَاحُ وَالْبِلَى وَالسِّبَاعُ؟، قَالَ: " أُنَبِّئُكَ بِمِثْلِ ذَلِكَ فِي آلَاءِ اللهِ: الْأَرْضُ أَشْرَفْتَ عَلَيْهَا وَهِيَ مُدَرَّرَةٌ بَالِيَةٌ فَقُلْتَ لَا تَحْيَا أَبَدًا، ثُمَّ أَرْسَلَ عَلَيْهَا رَبُّكَ السَّمَاءَ فَلَمْ يَلْبَثْ عَلَيْهَا إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى أَشْرَفْتَ عَلَيْهَا فَإِذَا هِيَ شَرْبَةٌ وَاحِدَةٌ، وَلَعَمْرُ إِلَهِكَ لَهُوَ أَقْدَرُ عَلَى أَنْ يَجْمَعَكُمْ مِنَ الْمَاءِ عَلَى أَنْ يَجْمَعَ نَبَاتَ الْأَرْضِ فَتَخْرُجُونَ مِنَ الْأَضْوَاءِ وَمِنْ مَصَارِعِكُمْ فَتَنْظُرُونَ إِلَيْهِ سَاعَةً وَيَنْظُرُ إِلَيْكُمْ "
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ وَنَحْنُ مِلْءَ الْأَرْضِ وَهُوَ شَخْصٌ وَاحِدٌ يَنْظُرُ إِلَيْنَا وَنَنْظُرُ إِلَيْهِ؟، قَالَ : " أُنَبِّئُكَ بِمِثْلِ ذَلِكَ فِي آلَاءِ اللهِ: الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آيَةٌ مِنْهُ صَغِيرَةٌ تَرَوْنَهُمَا سَاعَةً وَاحِدَةً وَيَرَيَانِكُمْ وَلَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا، وَلَعَمْرُ إِلَهِكَ لَهُوَ أَقْدَرُ عَلَى أَنْ يَرَاكُمْ وَتَرَوْهُ مِنْهُمَا أَنْ تَرَوْهُمَا وَيَرَيَانِكُمْ "
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ فَمَا يَفْعَلُ بِنَا رَبُّنَا إِذَا لَقِينَاهُ؟، قَالَ: " تُعْرَضُونَ عَلَيْهِ بَادِيَةً صَفَحَاتُكُمْ لَا يَخْفَى عَلَيْهِ مِنْكُمْ خَافِيَةٌ، فَيَأْخُذُ رَبُّكَ بِيَدِهِ غَرْفَةً مِنَ الْمَاءِ فَيَنْضَحُ بِهَا قبلكمْ، فَلَعَمْرُ إِلَهِكَ مَا يُخْطِئُ وَجْهَ وَاحِدٍ مِنْكُمْ قَطْرَةٌ، فَأَمَّا الْمُسْلِمُ فَتَدَعُ وَجْهَهُ مِثْلَ الرَّيْطَةِ الْبَيْضَاءِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيَجْعَلُهُ مِثْلَ الْحُمَمِ الْأَسْوَدِ، أَلَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ عَنْكُمْ، وَيَتَفَرَّقُ عَلَى أَثَرِهَ الصَّالِحُونَ فَيَسْلُكُونَ جِسْرًا مِنَ النَّارِ يَطَأُ أَحَدُكُمْ عَلَى الْجَمْرَةِ، فَيَقُولُ: حَسِّ، فَيَقُولُ رَبُّكَ: أَوَانُهُ، أَلَا فَيَظْلَعُونَ عَلَى حَوْضِ الرَّسُولِ لَا يَظْمَأُ وَاللهِ بِأَهْلِهِ، فَلَعَمْرُ إِلَهِكَ مَا يَبْسُطُ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَدَهُ إِلَّا وَقَعَ عَلَيْهَا قَدَحٌ يُطَهِّرُهُ مِنَ الطَّوَافِ وَالْبَوْلِ وَالْأَذَى، وَتُحْبَسُ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ فَلَا تَرَوْنَ مِنْهُمَا وَاحِدًا "
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ فَبِمَ نُبْصِرُ؟، قَالَ: «مِثْلَ بَصُرِ سَاعَتِكَ هَذِهِ، وَذَلِكَ مَعَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فِي يَوْمٍ أَشْرَقَتِ الْأَرْضُ وَوَاجَهَتْهُ الْجِبَالُ»
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ فَبِمَ نُجْزَى مِنْ سَيِّئَاتِنَا وَحَسَنَاتِنَا؟، قَالَ: «الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَالسَّيِّئَةُ بِمِثْلِهَا أَوْ يَغْفِرُ»
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ فَمَا الْجَنَّةُ وَالنَّارُ؟، قَالَ: «لَعَمْرُ إِلَهِكَ، إِنَّ لِلنَّارِ لَسَبْعَةَ أَبْوَابٍ مَا مِنْهُنَّ بَابٌ إِلَّا يَسِيرُ الرَّاكِبُ بَيْنَهُمَا سَبْعِينَ عَامًا، وَإِنَّ لِلْجَنَّةِ ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ مَا مِنْهُمَا بَابَانِ إِلَّا يَسِيرُ الرَّاكِبُ بَيْنَهُمَا سَبْعِينَ عَامًا»
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ فَعَلَى مَا نَطَّلِعُ مِنَ الْجَنَّةِ؟، قَالَ: «عَلَى أَنْهَارٍ مِنْ عَسَلٍ مُصَفًّى، وَأَنْهَارٍ مِنْ كَأْسٍ مَا بِهَا مِنْ صُدَاعٍ وَلَا نَدَامَةٍ، وَأَنْهَارٍ مِنْ لَبَنٍ لَمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ وَمَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ، وَفَاكِهَةٍ لَعَمْرُ إِلَهِكَ مَا تَعْلَمُونَ، وَخَيْرٍ مِنْ مِثْلِهِ مَعَهُ وَأَزْوَاجٍ مُطَّهَرَةٍ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوَلَنَا فِيهَا أَزْوَاجٌ أَوَ مِنْهُنَّ مُصْلِحَاتٌ؟، قَالَ: «الصَّالِحَاتُ لِلصَّالِحِينَ تَلَذُّونَهُنَّ مِثْلَ لَذَّاتِكُمْ فِي الدُّنْيَا وَتَلَذُّونَكُمْ غَيْرَ أَنْ لَا تَوَالُدَ» ، قَالَ لَقِيطٌ: قُلْتُ: مَا أَفْضَلَ مَا نَحْنُ بَالِغُونَ مُنْتَهُونَ إِلَيْهِ
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ عَلَى مَا أُبَايِعُكَ؟، فَبَسَطَ يَدَهُ وَقَالَ: «عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَزِيَالِ الشِّرْكِ، لَا تُشْرِكْ بِاللهِ إِلَهًا غَيْرَهُ»
قَالَ: قُلْتُ لَهُ: فَمَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ؟، قَالَ: وَقَبَضَ وَبَسَطَ أَصَابِعَهُ وَظَنَّ أَنِّي مُشْتَرِطٌ شَيْئًا لَا يُعْطِيَنِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: نَحِلُّ مِنْهَا حَيْثُ شِئْنَا، وَلَا يَجْنِي امْرُؤٌ إِلَّا نَفْسَهُ فَبَسَطَ يَدَهُ وَقَالَ: «فَلَكَ، حِلَّ حَيْثُ شِئْتَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْكَ إِلَّا نَفْسَكَ» ، قَالَ: فَانْصَرَفْنَا عَنْهُ، وَقَالَ: «هَا إِنَّ ذَيْنِ، هَا إِنَّ ذَيْنِ لَمِنْ نَفَرٍ، لَعَمْرُو إِلَهِكَ إِنَّهُمْ مِنْ أَتْقَى النَّاسِ رَبَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» ، فَقَالَ لَهُ كَعْبُ بْنُ الْخُدَارِيَّةِ، أَحَدُ بَنِي أَبِي بَكْرِ بْنِ كِلَابٍ: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «بَنُو الْمُنْتَفِقِ» ، قَالَ: بَنُو الْمُنْتَفِقِ أَهْلُ ذَلِكَ مِنْهُمْ، أَهْلُ ذَلِكَ مِنْهُمْ، فَانْصَرَفْتُ وَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لِأَحَدٍ مِمَّنْ مَضَى قَبْلَنَا مِنْ خَيْرٍ فِي جَاهِلِيَّتِهِمْ؟، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ عُرْضِ قُرَيْشٍ: وَاللهِ إِنَّ أَبَاكَ الْمُنْتَفِقَ لَفِي النَّارِ، قَالَ: فَكَأَنَّهُ وَقَعَ حَرٌّ بَيْنَ جِلْدِ وَجْهِي وَلَحْمِهِ بِمَا قَالَ عَلَى رُءُوسِ النَّاسِ، وَهَمَمْتُ أَنْ أَقُولَ: أَيْنَ أَبُوكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟، فَإِذَا الْأُخْرَى أَجْمَلُ قُلْتُ، أَوْ أَهْلُكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: " وَأَهْلِي، مَا أَتَيْتَ عَلَيْهِ مِنْ قَبْرِ عَامِرِيٍّ أَوْ قُرَشِيٍّ مِنْ مُشْرِكٍ فَقُلْ: أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْشِرْ بِمَا يَسُوؤُكَ، تُجَرُّ عَلَى وَجْهِكَ وَبَطْنِكَ فِي النَّارِ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا فَعَلَ ذَلِكَ بِهِمْ وَكَانُوا عَلَى عَمَلٍ لَا يُحْسِنُونَ إِلَّا إِيَّاهُ، وَكَانُوا يَحْسَبُونَهُمْ مُصْلِحِينَ؟، قَالَ: «ذَلِكَ فَإِنَّ اللهَ بَعَثَ فِي آخِرِ كُلِّ سَبْعِ أُمَمٍ نَبِيًّا، فَمَنْ أَطَاعَ نَبِيَّهُ كَانَ مِنَ الْمُهْتَدِينَ، وَمَنْ عَصَاهُ كَانَ مِنَ الضَّالِّينَ»
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ حَاجَتِي فَلَا تَعْجَلْنِي، قَالَ: «سَلْ عَمَّا شِئْتَ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ عَلِّمْنَا مَا تَعْلَمُ النَّاسُ وَمَا نَعْلَمُ، فَإِنَّا مِنْ قَبِيلٍ لَا يُصَدِّقُونَ تَصْدِيقَنَا أَحَدٌ مِنْ مَذْحِجٍ الَّتِي تَعْلُو عَلَيْنَا، وَخَثْعَمَ الَّتِي تُوَازِينَا، تُوَالِينَا، وَعَشِيرَتِنَا الَّتِي نَحْنُ مِنْهَا، قَالَ: " تَلْبَثُونَ مَا لَبِثْتُمْ ثُمَّ تُبْعَثُ الصَّيْحَةُ، لَعَمْرُ إِلَهِكَ مَا يَدَعُ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ شَيْءٍ إِلَّا مَاتَ، وَالْمَلَائِكَةُ الَّذِينَ مَعَ رَبِّكَ، وَأَصْبَحَ رَبُّكَ يَتَطَوَّفُ فِي الْأَرْضِ وَخَلَتْ عَلَيْهِ الْبِلَادُ، فَأَرْسَلَ رَبُّكَ السَّمَاءَ بِهَضْبٍ مِنْ عِنْدِ الْعَرْشِ، فَلَعَمْرُ إِلَهِكَ مَا يَدَعُ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ قَتِيلٍ وَلَا مَدْفَنِ مَيِّتٍ إِلَّا شُقَّتِ الْقَبْرُ عَنْهُ وَيَخْلُقُهُ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ فَيَسْتَوِي جَالِسًا، يَقُولُ رَبُّكَ: مَهْيَمْ؟، لِمَا كَانَ فِيهِ، يَقُولُ: يَا رَبُّ أَمْسَ الْيَوْمِ - لِعَهْدِهِ بِالْحَيَاةِ يَحْسَبُهُ حَدِيثًا "
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ يَجْمَعُنَا بَعْدَمَا تُمَزِّقُنَا الرِّيَاحُ وَالْبِلَى وَالسِّبَاعُ؟، قَالَ: " أُنَبِّئُكَ بِمِثْلِ ذَلِكَ فِي آلَاءِ اللهِ: الْأَرْضُ أَشْرَفْتَ عَلَيْهَا وَهِيَ مُدَرَّرَةٌ بَالِيَةٌ فَقُلْتَ لَا تَحْيَا أَبَدًا، ثُمَّ أَرْسَلَ عَلَيْهَا رَبُّكَ السَّمَاءَ فَلَمْ يَلْبَثْ عَلَيْهَا إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى أَشْرَفْتَ عَلَيْهَا فَإِذَا هِيَ شَرْبَةٌ وَاحِدَةٌ، وَلَعَمْرُ إِلَهِكَ لَهُوَ أَقْدَرُ عَلَى أَنْ يَجْمَعَكُمْ مِنَ الْمَاءِ عَلَى أَنْ يَجْمَعَ نَبَاتَ الْأَرْضِ فَتَخْرُجُونَ مِنَ الْأَضْوَاءِ وَمِنْ مَصَارِعِكُمْ فَتَنْظُرُونَ إِلَيْهِ سَاعَةً وَيَنْظُرُ إِلَيْكُمْ "
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ وَنَحْنُ مِلْءَ الْأَرْضِ وَهُوَ شَخْصٌ وَاحِدٌ يَنْظُرُ إِلَيْنَا وَنَنْظُرُ إِلَيْهِ؟، قَالَ : " أُنَبِّئُكَ بِمِثْلِ ذَلِكَ فِي آلَاءِ اللهِ: الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آيَةٌ مِنْهُ صَغِيرَةٌ تَرَوْنَهُمَا سَاعَةً وَاحِدَةً وَيَرَيَانِكُمْ وَلَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا، وَلَعَمْرُ إِلَهِكَ لَهُوَ أَقْدَرُ عَلَى أَنْ يَرَاكُمْ وَتَرَوْهُ مِنْهُمَا أَنْ تَرَوْهُمَا وَيَرَيَانِكُمْ "
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ فَمَا يَفْعَلُ بِنَا رَبُّنَا إِذَا لَقِينَاهُ؟، قَالَ: " تُعْرَضُونَ عَلَيْهِ بَادِيَةً صَفَحَاتُكُمْ لَا يَخْفَى عَلَيْهِ مِنْكُمْ خَافِيَةٌ، فَيَأْخُذُ رَبُّكَ بِيَدِهِ غَرْفَةً مِنَ الْمَاءِ فَيَنْضَحُ بِهَا قبلكمْ، فَلَعَمْرُ إِلَهِكَ مَا يُخْطِئُ وَجْهَ وَاحِدٍ مِنْكُمْ قَطْرَةٌ، فَأَمَّا الْمُسْلِمُ فَتَدَعُ وَجْهَهُ مِثْلَ الرَّيْطَةِ الْبَيْضَاءِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيَجْعَلُهُ مِثْلَ الْحُمَمِ الْأَسْوَدِ، أَلَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ عَنْكُمْ، وَيَتَفَرَّقُ عَلَى أَثَرِهَ الصَّالِحُونَ فَيَسْلُكُونَ جِسْرًا مِنَ النَّارِ يَطَأُ أَحَدُكُمْ عَلَى الْجَمْرَةِ، فَيَقُولُ: حَسِّ، فَيَقُولُ رَبُّكَ: أَوَانُهُ، أَلَا فَيَظْلَعُونَ عَلَى حَوْضِ الرَّسُولِ لَا يَظْمَأُ وَاللهِ بِأَهْلِهِ، فَلَعَمْرُ إِلَهِكَ مَا يَبْسُطُ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَدَهُ إِلَّا وَقَعَ عَلَيْهَا قَدَحٌ يُطَهِّرُهُ مِنَ الطَّوَافِ وَالْبَوْلِ وَالْأَذَى، وَتُحْبَسُ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ فَلَا تَرَوْنَ مِنْهُمَا وَاحِدًا "
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ فَبِمَ نُبْصِرُ؟، قَالَ: «مِثْلَ بَصُرِ سَاعَتِكَ هَذِهِ، وَذَلِكَ مَعَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فِي يَوْمٍ أَشْرَقَتِ الْأَرْضُ وَوَاجَهَتْهُ الْجِبَالُ»
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ فَبِمَ نُجْزَى مِنْ سَيِّئَاتِنَا وَحَسَنَاتِنَا؟، قَالَ: «الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَالسَّيِّئَةُ بِمِثْلِهَا أَوْ يَغْفِرُ»
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ فَمَا الْجَنَّةُ وَالنَّارُ؟، قَالَ: «لَعَمْرُ إِلَهِكَ، إِنَّ لِلنَّارِ لَسَبْعَةَ أَبْوَابٍ مَا مِنْهُنَّ بَابٌ إِلَّا يَسِيرُ الرَّاكِبُ بَيْنَهُمَا سَبْعِينَ عَامًا، وَإِنَّ لِلْجَنَّةِ ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ مَا مِنْهُمَا بَابَانِ إِلَّا يَسِيرُ الرَّاكِبُ بَيْنَهُمَا سَبْعِينَ عَامًا»
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ فَعَلَى مَا نَطَّلِعُ مِنَ الْجَنَّةِ؟، قَالَ: «عَلَى أَنْهَارٍ مِنْ عَسَلٍ مُصَفًّى، وَأَنْهَارٍ مِنْ كَأْسٍ مَا بِهَا مِنْ صُدَاعٍ وَلَا نَدَامَةٍ، وَأَنْهَارٍ مِنْ لَبَنٍ لَمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ وَمَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ، وَفَاكِهَةٍ لَعَمْرُ إِلَهِكَ مَا تَعْلَمُونَ، وَخَيْرٍ مِنْ مِثْلِهِ مَعَهُ وَأَزْوَاجٍ مُطَّهَرَةٍ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوَلَنَا فِيهَا أَزْوَاجٌ أَوَ مِنْهُنَّ مُصْلِحَاتٌ؟، قَالَ: «الصَّالِحَاتُ لِلصَّالِحِينَ تَلَذُّونَهُنَّ مِثْلَ لَذَّاتِكُمْ فِي الدُّنْيَا وَتَلَذُّونَكُمْ غَيْرَ أَنْ لَا تَوَالُدَ» ، قَالَ لَقِيطٌ: قُلْتُ: مَا أَفْضَلَ مَا نَحْنُ بَالِغُونَ مُنْتَهُونَ إِلَيْهِ
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ عَلَى مَا أُبَايِعُكَ؟، فَبَسَطَ يَدَهُ وَقَالَ: «عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَزِيَالِ الشِّرْكِ، لَا تُشْرِكْ بِاللهِ إِلَهًا غَيْرَهُ»
قَالَ: قُلْتُ لَهُ: فَمَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ؟، قَالَ: وَقَبَضَ وَبَسَطَ أَصَابِعَهُ وَظَنَّ أَنِّي مُشْتَرِطٌ شَيْئًا لَا يُعْطِيَنِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: نَحِلُّ مِنْهَا حَيْثُ شِئْنَا، وَلَا يَجْنِي امْرُؤٌ إِلَّا نَفْسَهُ فَبَسَطَ يَدَهُ وَقَالَ: «فَلَكَ، حِلَّ حَيْثُ شِئْتَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْكَ إِلَّا نَفْسَكَ» ، قَالَ: فَانْصَرَفْنَا عَنْهُ، وَقَالَ: «هَا إِنَّ ذَيْنِ، هَا إِنَّ ذَيْنِ لَمِنْ نَفَرٍ، لَعَمْرُو إِلَهِكَ إِنَّهُمْ مِنْ أَتْقَى النَّاسِ رَبَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» ، فَقَالَ لَهُ كَعْبُ بْنُ الْخُدَارِيَّةِ، أَحَدُ بَنِي أَبِي بَكْرِ بْنِ كِلَابٍ: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «بَنُو الْمُنْتَفِقِ» ، قَالَ: بَنُو الْمُنْتَفِقِ أَهْلُ ذَلِكَ مِنْهُمْ، أَهْلُ ذَلِكَ مِنْهُمْ، فَانْصَرَفْتُ وَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لِأَحَدٍ مِمَّنْ مَضَى قَبْلَنَا مِنْ خَيْرٍ فِي جَاهِلِيَّتِهِمْ؟، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ عُرْضِ قُرَيْشٍ: وَاللهِ إِنَّ أَبَاكَ الْمُنْتَفِقَ لَفِي النَّارِ، قَالَ: فَكَأَنَّهُ وَقَعَ حَرٌّ بَيْنَ جِلْدِ وَجْهِي وَلَحْمِهِ بِمَا قَالَ عَلَى رُءُوسِ النَّاسِ، وَهَمَمْتُ أَنْ أَقُولَ: أَيْنَ أَبُوكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟، فَإِذَا الْأُخْرَى أَجْمَلُ قُلْتُ، أَوْ أَهْلُكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: " وَأَهْلِي، مَا أَتَيْتَ عَلَيْهِ مِنْ قَبْرِ عَامِرِيٍّ أَوْ قُرَشِيٍّ مِنْ مُشْرِكٍ فَقُلْ: أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْشِرْ بِمَا يَسُوؤُكَ، تُجَرُّ عَلَى وَجْهِكَ وَبَطْنِكَ فِي النَّارِ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا فَعَلَ ذَلِكَ بِهِمْ وَكَانُوا عَلَى عَمَلٍ لَا يُحْسِنُونَ إِلَّا إِيَّاهُ، وَكَانُوا يَحْسَبُونَهُمْ مُصْلِحِينَ؟، قَالَ: «ذَلِكَ فَإِنَّ اللهَ بَعَثَ فِي آخِرِ كُلِّ سَبْعِ أُمَمٍ نَبِيًّا، فَمَنْ أَطَاعَ نَبِيَّهُ كَانَ مِنَ الْمُهْتَدِينَ، وَمَنْ عَصَاهُ كَانَ مِنَ الضَّالِّينَ»
ترجمہ
لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (وفد) روانہ ہوا تو میں اور میرا ساتھی بھی نکلے یہاں تک کہ ہم رجب کے اختتام پر مدینہ پہنچے، تو ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس اس وقت آئے جب آپ ﷺ فجر کی نماز سے فارغ ہو کر پلٹے، تو آپ ﷺ لوگوں میں خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! خبردار، میں نے چار دن سے اپنی آواز تمہارے لیے سنبھال رکھی ہے تاکہ آج تمہیں سنا سکوں، خبردار، کیا کوئی ایسا شخص ہے جسے اس کی قوم نے بھیجا ہو؟“ لوگوں نے کہا: کیا ہمیں معلوم کر دیا جائے کہ رسول اللہ ﷺ کیا فرما رہے ہیں؟ ”خبردار! پھر ممکن ہے اسے اپنی ذاتی سوچ یا کسی ساتھی کی بات مشغول کر دے، یا گمراہ کن باتیں مشغول کر دیں، خبردار! مجھ سے پوچھا جائے گا کہ کیا میں نے پہنچا دیا؟ خبردار! سنو تاکہ زندہ رہو، خبردار! سنو تاکہ زندہ رہو، خبردار! بیٹھ جاؤ۔“ کہتے ہیں: تو لوگ بیٹھ گئے اور میں اور میرا ساتھی کھڑے ہو گئے، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ کا دل اور نظر ہماری طرف متوجہ ہوئی، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کے پاس غیب کا کیا علم ہے؟ آپ ﷺ ہنس پڑے، اللہ کی قسم، اور اپنا سر ہلایا، اور جان گئے کہ میں آپ کو لغزش دلانا چاہتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے رب نے غیب کی پانچ باتیں اپنے پاس رکھی ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا“، اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ میں نے عرض کیا: وہ کیا ہیں، اے اللہ کے رسول؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”موت کا علم، تم میں سے کسی کی موت کب آئے گی، یہ تمہیں معلوم نہیں۔ اور نطفے کا علم، جب وہ رحم میں ہوتا ہے تو اللہ کو معلوم ہوتا ہے، تمہیں معلوم نہیں۔ اور کل کا علم، اللہ کو معلوم ہے کہ کل تم کیا کھاؤ گے، تمہیں معلوم نہیں۔ اور قیامت کے دن کا علم، وہ تم پر اس حال میں آ پڑے گا کہ تم بھوکے اور ڈرے ہوئے ہو گے، اور تمہارا رب مسکرا رہا ہو گا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ تمہاری واپسی قریب ہے۔“ لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: ایسے رب سے جو ہنستا ہے، ہم بھلائی سے محروم نہیں رہ سکتے۔ ”اور قیامت کی گھڑی کا علم۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ سے اپنی ضرورت کا سوال کرنے والا ہوں، مجھے جلدی نہ کیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چاہو پوچھو۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں وہ سکھائیے جو لوگ جانتے ہیں اور جو ہم جانتے ہیں، کیونکہ ہم ایسے قبیلے سے ہیں کہ مذحج، جو ہم پر برتری رکھتا ہے، اور خثعم، جو ہمارے برابر اور ہمارا حلیف ہے، اور ہماری اپنی برادری بھی، ہماری بات کی تصدیق نہیں کرتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم جتنا چاہو ٹھہرو گے، پھر چنگھاڑ بھیجی جائے گی، تیرے معبود کی قسم، وہ زمین کی پیٹھ پر کسی چیز کو زندہ نہیں چھوڑے گی، سوائے ان فرشتوں کے جو تیرے رب کے ساتھ ہیں، اور تیرا رب زمین میں گھومنے لگے گا اور شہر اس کے سامنے خالی پڑے ہوں گے، پھر تیرا رب آسمان کو عرش کی طرف سے ایک بارش کے ساتھ بھیجے گا، تو تیرے معبود کی قسم، وہ زمین کی پیٹھ پر کسی مقتول یا دفن شدہ میت کو نہیں چھوڑے گا مگر اس کی قبر چیر دی جائے گی اور وہ اسے اس کے سر کی طرف سے پیدا کرے گا یہاں تک کہ وہ بیٹھ جائے گا، تیرا رب فرمائے گا: کیا معاملہ ہے؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! کل کی بات — کیونکہ اسے زندگی کا آخری احساس یاد ہو گا، وہ اسے ابھی کی بات سمجھے گا۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جب ہوائیں، فرسودگی اور درندے ہمیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے، تو وہ ہمیں دوبارہ کیسے جمع کرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تجھے اللہ کی نشانیوں میں سے اسی جیسی ایک مثال بتاتا ہوں: زمین، جسے تو دیکھتا ہے کہ وہ خشک اور بنجر ہے، تو کہتا ہے کہ یہ کبھی زندہ نہیں ہو گی، پھر تیرا رب اس پر آسمان بھیجتا ہے، تو تھوڑی ہی دیر میں تو اسے دیکھتا ہے کہ وہ ایک ہی رونق میں ہری بھری ہو گئی، تو تیرے معبود کی قسم، وہ تمہیں پانی سے جمع کرنے پر اس سے زیادہ قادر ہے جتنا وہ زمین کی روئیدگی کو جمع کرنے پر قادر ہے، تو تم روشنیوں سے اور اپنے گرنے کی جگہوں سے نکل آؤ گے اور اسے ایک لمحے کے لیے دیکھو گے اور وہ تمہیں دیکھے گا۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیسے ہو گا جبکہ ہم زمین بھر ہوں گے اور وہ ایک ہی ذات ہے، وہ ہمیں دیکھے گا اور ہم اسے دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تجھے اللہ کی نشانیوں میں سے اسی جیسی ایک اور مثال بتاتا ہوں: سورج اور چاند اس کی ایک چھوٹی سی نشانی ہیں، تم انہیں ایک ہی وقت میں دیکھتے ہو اور وہ بھی تمہیں دیکھتے ہیں، اور انہیں دیکھنے میں تمہیں کوئی تنگی محسوس نہیں ہوتی، تو تیرے معبود کی قسم، وہ اس سے زیادہ قادر ہے کہ تم اسے دیکھو اور وہ تمہیں دیکھے، بہ نسبت اس کے کہ تم سورج اور چاند کو دیکھو اور وہ تمہیں دیکھیں۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جب ہم اپنے رب سے ملیں گے تو وہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں اس کے سامنے اس طرح پیش کیا جائے گا کہ تمہارے چہرے ظاہر ہوں گے، تم میں سے کوئی بات اس سے پوشیدہ نہیں رہے گی، تو تیرا رب اپنے ہاتھ سے پانی کی ایک چلو لے کر تمہارے سامنے چھڑکے گا، تو تیرے معبود کی قسم، تم میں سے کسی کے بھی چہرے پر ایک قطرہ چوکنے نہیں پائے گا، پس جو مسلمان ہو گا اس کا چہرہ سفید کپڑے کی طرح روشن ہو جائے گا، اور جو کافر ہو گا اس کا چہرہ کالے کوئلے کی طرح سیاہ ہو جائے گا۔ خبردار! پھر وہ تم سے پلٹے گا اور نیک لوگ اس کے پیچھے چل کر ایک پل عبور کریں گے جو آگ پر ہو گا، تم میں سے ہر ایک انگارے پر قدم رکھے گا تو کہے گا: آہ! تو تیرا رب فرمائے گا: اسی کا وقت ہے۔ خبردار! پھر وہ حوض پر پہنچ کر لنگڑاتے ہوئے نکلیں گے، اللہ کی قسم، اس کے پینے والوں کو پھر کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ تو تیرے معبود کی قسم، تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ نہیں بڑھائے گا مگر اس پر ایک پیالہ آ گرے گا جو اسے دنیا کے پھیرے، پیشاب اور تکلیف کے اثرات سے پاک کر دے گا، اور سورج اور چاند روک لیے جائیں گے تو تم ان دونوں میں سے کسی کو نہیں دیکھو گے۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! پھر ہم کس چیز سے دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسی طرح جیسے تم ابھی اس وقت دیکھ رہے ہو، اور یہ سورج طلوع ہونے کے ساتھ اس دن ہو گا جب زمین روشن ہو جائے گی اور پہاڑ اس کے سامنے ہوں گے۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہماری برائیوں اور نیکیوں کا بدلہ کیسے دیا جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نیکی کا بدلہ اس کی دس گنا مثل ملے گا، اور برائی کا بدلہ اس کے برابر ملے گا، یا معاف کر دیا جائے گا۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جنت اور جہنم کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے معبود کی قسم، جہنم کے سات دروازے ہیں، ان میں سے ہر دو دروازوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ سوار ستر سال میں طے کرے، اور جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ان میں سے ہر دو دروازوں کے درمیان بھی اتنا ہی فاصلہ ہے کہ سوار ستر سال میں طے کرے۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم جنت میں کن چیزوں پر نظر ڈالیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صاف شفاف شہد کی نہروں پر، اور شراب کی نہروں پر جس میں نہ سر درد ہو نہ ندامت، اور دودھ کی نہروں پر جس کا ذائقہ نہیں بدلتا، اور صاف پانی کی نہروں پر، اور پھلوں پر — تیرے معبود کی قسم، جن کے بارے میں تمہیں کچھ علم نہیں — اور اس جیسی اور بھی بہترین چیزوں پر، اور پاکیزہ بیویوں پر۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہمارے لیے وہاں بیویاں ہوں گی، یا ان میں سے نیک بیویاں ہمیں ملیں گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نیک عورتیں نیک مردوں کے لیے ہوں گی، تم انہیں ایسے ہی لذت پاؤ گے جیسے دنیا میں لذت پاتے تھے، اور وہ تم سے لذت پائیں گی، سوائے اس کے کہ وہاں اولاد نہیں ہو گی۔“ لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اس سے بہتر اور کیا چیز ہو سکتی ہے جس تک ہم پہنچنے والے ہیں۔
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں کس بات پر آپ کی بیعت کروں؟ تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور فرمایا: ”نماز قائم کرنے، زکوٰۃ دینے، اور شرک سے کنارہ کش رہنے پر — اللہ کے ساتھ کسی کو معبود نہ بنانا۔“ کہتے ہیں: میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا: پھر مشرق اور مغرب کے درمیان کیا حکم ہے؟ کہتے ہیں: تو آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں بند اور کھول دیں، اور سمجھے کہ میں کوئی ایسی شرط لگانا چاہتا ہوں جو آپ مجھے نہیں دیں گے۔ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: ہم اس میں جہاں چاہیں حلال تجارت کر سکتے ہیں، اور کوئی شخص صرف اپنی ہی جان پر بوجھ ڈالتا ہے۔ تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ پھیلا دیا اور فرمایا: ”تیرے لیے یہی ہے، جہاں چاہو حلال روزی تلاش کرو، اور تجھ پر تیرے سوا کوئی اور بوجھ نہیں ڈال سکتا۔“ کہتے ہیں: پھر ہم آپ ﷺ سے رخصت ہوئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ دونوں، یہ دونوں ایک ایسی قوم سے ہیں کہ تیرے معبود کی قسم، وہ دنیا اور آخرت میں اپنے رب سے سب سے زیادہ ڈرنے والے لوگوں میں سے ہیں۔“ تو بنو ابی بکر بن کلاب کے ایک فرد، کعب بن خداریہ نے آپ ﷺ سے عرض کیا: وہ کون ہیں، اے اللہ کے رسول؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بنو منتفق۔“ اس نے کہا: بنو منتفق تو اسی لائق ہیں، اسی لائق ہیں۔ تو میں پلٹا اور آپ ﷺ کی طرف متوجہ ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں سے کسی کو ان کی جاہلیت میں کچھ بھلائی حاصل تھی؟ تو قریش کے عام لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ کی قسم، تیرا باپ منتفق تو آگ ہی میں ہے۔ کہتے ہیں: گویا اس کی اس بات پر، جو اس نے سب لوگوں کے سامنے کہی، میرے چہرے کی کھال اور گوشت کے درمیان گرمی سی پھیل گئی، اور میں نے چاہا کہ کہوں: اے اللہ کے رسول! آپ کا باپ کہاں ہے؟ لیکن دوسری بات زیادہ اچھی معلوم ہوئی، تو میں نے کہا: یا آپ کے گھر والے، اے اللہ کے رسول؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے گھر والے بھی، تو جس مشرک عامری یا قرشی کی قبر کے پاس سے تجھے گزر ہو تو کہہ دے: مجھے محمد ﷺ نے تیری طرف بھیجا ہے، تو تجھے اس بات کی خوشخبری ہو جو تجھے ناگوار گزرے — تو آگ میں اپنے چہرے اور پیٹ کے بل گھسیٹا جائے گا۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ان کے ساتھ ایسا کیوں کیا گیا حالانکہ وہ ایسے عمل پر تھے جس کے سوا کچھ اچھا نہیں جانتے تھے، اور وہ خود کو نیکوکار سمجھتے تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اس لیے کہ اللہ نے ہر سات امتوں کے آخر میں ایک نبی بھیجا، تو جس نے اپنے نبی کی اطاعت کی وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہوا، اور جس نے اس کی نافرمانی کی وہ گمراہ لوگوں میں سے ہوا۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ سے اپنی ضرورت کا سوال کرنے والا ہوں، مجھے جلدی نہ کیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چاہو پوچھو۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں وہ سکھائیے جو لوگ جانتے ہیں اور جو ہم جانتے ہیں، کیونکہ ہم ایسے قبیلے سے ہیں کہ مذحج، جو ہم پر برتری رکھتا ہے، اور خثعم، جو ہمارے برابر اور ہمارا حلیف ہے، اور ہماری اپنی برادری بھی، ہماری بات کی تصدیق نہیں کرتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم جتنا چاہو ٹھہرو گے، پھر چنگھاڑ بھیجی جائے گی، تیرے معبود کی قسم، وہ زمین کی پیٹھ پر کسی چیز کو زندہ نہیں چھوڑے گی، سوائے ان فرشتوں کے جو تیرے رب کے ساتھ ہیں، اور تیرا رب زمین میں گھومنے لگے گا اور شہر اس کے سامنے خالی پڑے ہوں گے، پھر تیرا رب آسمان کو عرش کی طرف سے ایک بارش کے ساتھ بھیجے گا، تو تیرے معبود کی قسم، وہ زمین کی پیٹھ پر کسی مقتول یا دفن شدہ میت کو نہیں چھوڑے گا مگر اس کی قبر چیر دی جائے گی اور وہ اسے اس کے سر کی طرف سے پیدا کرے گا یہاں تک کہ وہ بیٹھ جائے گا، تیرا رب فرمائے گا: کیا معاملہ ہے؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! کل کی بات — کیونکہ اسے زندگی کا آخری احساس یاد ہو گا، وہ اسے ابھی کی بات سمجھے گا۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جب ہوائیں، فرسودگی اور درندے ہمیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے، تو وہ ہمیں دوبارہ کیسے جمع کرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تجھے اللہ کی نشانیوں میں سے اسی جیسی ایک مثال بتاتا ہوں: زمین، جسے تو دیکھتا ہے کہ وہ خشک اور بنجر ہے، تو کہتا ہے کہ یہ کبھی زندہ نہیں ہو گی، پھر تیرا رب اس پر آسمان بھیجتا ہے، تو تھوڑی ہی دیر میں تو اسے دیکھتا ہے کہ وہ ایک ہی رونق میں ہری بھری ہو گئی، تو تیرے معبود کی قسم، وہ تمہیں پانی سے جمع کرنے پر اس سے زیادہ قادر ہے جتنا وہ زمین کی روئیدگی کو جمع کرنے پر قادر ہے، تو تم روشنیوں سے اور اپنے گرنے کی جگہوں سے نکل آؤ گے اور اسے ایک لمحے کے لیے دیکھو گے اور وہ تمہیں دیکھے گا۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیسے ہو گا جبکہ ہم زمین بھر ہوں گے اور وہ ایک ہی ذات ہے، وہ ہمیں دیکھے گا اور ہم اسے دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تجھے اللہ کی نشانیوں میں سے اسی جیسی ایک اور مثال بتاتا ہوں: سورج اور چاند اس کی ایک چھوٹی سی نشانی ہیں، تم انہیں ایک ہی وقت میں دیکھتے ہو اور وہ بھی تمہیں دیکھتے ہیں، اور انہیں دیکھنے میں تمہیں کوئی تنگی محسوس نہیں ہوتی، تو تیرے معبود کی قسم، وہ اس سے زیادہ قادر ہے کہ تم اسے دیکھو اور وہ تمہیں دیکھے، بہ نسبت اس کے کہ تم سورج اور چاند کو دیکھو اور وہ تمہیں دیکھیں۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جب ہم اپنے رب سے ملیں گے تو وہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں اس کے سامنے اس طرح پیش کیا جائے گا کہ تمہارے چہرے ظاہر ہوں گے، تم میں سے کوئی بات اس سے پوشیدہ نہیں رہے گی، تو تیرا رب اپنے ہاتھ سے پانی کی ایک چلو لے کر تمہارے سامنے چھڑکے گا، تو تیرے معبود کی قسم، تم میں سے کسی کے بھی چہرے پر ایک قطرہ چوکنے نہیں پائے گا، پس جو مسلمان ہو گا اس کا چہرہ سفید کپڑے کی طرح روشن ہو جائے گا، اور جو کافر ہو گا اس کا چہرہ کالے کوئلے کی طرح سیاہ ہو جائے گا۔ خبردار! پھر وہ تم سے پلٹے گا اور نیک لوگ اس کے پیچھے چل کر ایک پل عبور کریں گے جو آگ پر ہو گا، تم میں سے ہر ایک انگارے پر قدم رکھے گا تو کہے گا: آہ! تو تیرا رب فرمائے گا: اسی کا وقت ہے۔ خبردار! پھر وہ حوض پر پہنچ کر لنگڑاتے ہوئے نکلیں گے، اللہ کی قسم، اس کے پینے والوں کو پھر کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ تو تیرے معبود کی قسم، تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ نہیں بڑھائے گا مگر اس پر ایک پیالہ آ گرے گا جو اسے دنیا کے پھیرے، پیشاب اور تکلیف کے اثرات سے پاک کر دے گا، اور سورج اور چاند روک لیے جائیں گے تو تم ان دونوں میں سے کسی کو نہیں دیکھو گے۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! پھر ہم کس چیز سے دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسی طرح جیسے تم ابھی اس وقت دیکھ رہے ہو، اور یہ سورج طلوع ہونے کے ساتھ اس دن ہو گا جب زمین روشن ہو جائے گی اور پہاڑ اس کے سامنے ہوں گے۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہماری برائیوں اور نیکیوں کا بدلہ کیسے دیا جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نیکی کا بدلہ اس کی دس گنا مثل ملے گا، اور برائی کا بدلہ اس کے برابر ملے گا، یا معاف کر دیا جائے گا۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جنت اور جہنم کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے معبود کی قسم، جہنم کے سات دروازے ہیں، ان میں سے ہر دو دروازوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ سوار ستر سال میں طے کرے، اور جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ان میں سے ہر دو دروازوں کے درمیان بھی اتنا ہی فاصلہ ہے کہ سوار ستر سال میں طے کرے۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم جنت میں کن چیزوں پر نظر ڈالیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صاف شفاف شہد کی نہروں پر، اور شراب کی نہروں پر جس میں نہ سر درد ہو نہ ندامت، اور دودھ کی نہروں پر جس کا ذائقہ نہیں بدلتا، اور صاف پانی کی نہروں پر، اور پھلوں پر — تیرے معبود کی قسم، جن کے بارے میں تمہیں کچھ علم نہیں — اور اس جیسی اور بھی بہترین چیزوں پر، اور پاکیزہ بیویوں پر۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہمارے لیے وہاں بیویاں ہوں گی، یا ان میں سے نیک بیویاں ہمیں ملیں گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نیک عورتیں نیک مردوں کے لیے ہوں گی، تم انہیں ایسے ہی لذت پاؤ گے جیسے دنیا میں لذت پاتے تھے، اور وہ تم سے لذت پائیں گی، سوائے اس کے کہ وہاں اولاد نہیں ہو گی۔“ لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اس سے بہتر اور کیا چیز ہو سکتی ہے جس تک ہم پہنچنے والے ہیں۔
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں کس بات پر آپ کی بیعت کروں؟ تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور فرمایا: ”نماز قائم کرنے، زکوٰۃ دینے، اور شرک سے کنارہ کش رہنے پر — اللہ کے ساتھ کسی کو معبود نہ بنانا۔“ کہتے ہیں: میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا: پھر مشرق اور مغرب کے درمیان کیا حکم ہے؟ کہتے ہیں: تو آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں بند اور کھول دیں، اور سمجھے کہ میں کوئی ایسی شرط لگانا چاہتا ہوں جو آپ مجھے نہیں دیں گے۔ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: ہم اس میں جہاں چاہیں حلال تجارت کر سکتے ہیں، اور کوئی شخص صرف اپنی ہی جان پر بوجھ ڈالتا ہے۔ تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ پھیلا دیا اور فرمایا: ”تیرے لیے یہی ہے، جہاں چاہو حلال روزی تلاش کرو، اور تجھ پر تیرے سوا کوئی اور بوجھ نہیں ڈال سکتا۔“ کہتے ہیں: پھر ہم آپ ﷺ سے رخصت ہوئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ دونوں، یہ دونوں ایک ایسی قوم سے ہیں کہ تیرے معبود کی قسم، وہ دنیا اور آخرت میں اپنے رب سے سب سے زیادہ ڈرنے والے لوگوں میں سے ہیں۔“ تو بنو ابی بکر بن کلاب کے ایک فرد، کعب بن خداریہ نے آپ ﷺ سے عرض کیا: وہ کون ہیں، اے اللہ کے رسول؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بنو منتفق۔“ اس نے کہا: بنو منتفق تو اسی لائق ہیں، اسی لائق ہیں۔ تو میں پلٹا اور آپ ﷺ کی طرف متوجہ ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں سے کسی کو ان کی جاہلیت میں کچھ بھلائی حاصل تھی؟ تو قریش کے عام لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ کی قسم، تیرا باپ منتفق تو آگ ہی میں ہے۔ کہتے ہیں: گویا اس کی اس بات پر، جو اس نے سب لوگوں کے سامنے کہی، میرے چہرے کی کھال اور گوشت کے درمیان گرمی سی پھیل گئی، اور میں نے چاہا کہ کہوں: اے اللہ کے رسول! آپ کا باپ کہاں ہے؟ لیکن دوسری بات زیادہ اچھی معلوم ہوئی، تو میں نے کہا: یا آپ کے گھر والے، اے اللہ کے رسول؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے گھر والے بھی، تو جس مشرک عامری یا قرشی کی قبر کے پاس سے تجھے گزر ہو تو کہہ دے: مجھے محمد ﷺ نے تیری طرف بھیجا ہے، تو تجھے اس بات کی خوشخبری ہو جو تجھے ناگوار گزرے — تو آگ میں اپنے چہرے اور پیٹ کے بل گھسیٹا جائے گا۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ان کے ساتھ ایسا کیوں کیا گیا حالانکہ وہ ایسے عمل پر تھے جس کے سوا کچھ اچھا نہیں جانتے تھے، اور وہ خود کو نیکوکار سمجھتے تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اس لیے کہ اللہ نے ہر سات امتوں کے آخر میں ایک نبی بھیجا، تو جس نے اپنے نبی کی اطاعت کی وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہوا، اور جس نے اس کی نافرمانی کی وہ گمراہ لوگوں میں سے ہوا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ أبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّيْدِ يَتَوَارَى عَنْ صَاحِبِهِ، قَالَ: «لَعَلَّ هَوَامَّ الْأَرْضِ هِيَ قَتَلَتْهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن ابی رزین رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس شکار کے بارے میں، جو اپنے شکاری سے چھپ جائے، فرمایا: ”شاید زمین کے کیڑے مکوڑوں نے اسے مار ڈالا ہو۔“