حدیث نمبر: 16522
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْقَزَّازُ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالُوا: ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَشْكُرِيِّ، عَنْ أبِيهِ، قَالَ: قَدِمْتُ الْكُوفَةَ وَصَاحِبٌ لِي لِنَجْلِبَ مِنْهَا نِعَالًا، فَغَدَوْنَا إِلَى السُّوقِ وَلَمْ يَقُمْ بَعْدُ، فَقُلْتُ لِصَاحِبِي: لَوْ دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ، وَالْمَسْجِدُ يَوْمَئِذٍ فِي أَصْحَابِ التَّمْرِ، فَدَخَلْنَا فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْمُنْتَفِقِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: وُصِفَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجُلِّيَ لِي، فَطَلَبْتُهُ بِمَكَّةَ فَقِيلَ لِي هُوَ بِمِنًى، وَطَلَبْتُهُ بِمِنًى فَقِيلَ لِي هُوَ بِعَرَفَاتٍ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ فِي رَكِبٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقِيلَ لِي: تَنَحَّ عَنْ طَرِيقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعُوا الرَّجُلَ، أَرِبَ مَا لَهُ؟» ، فَدَنَوْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ أَوْ بِخِطَامِهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَسْأَلُكَ عَمَّا يُنَجِّينِي مِنَ النَّارِ وَعَمَّا يُبَلِّغُنِي الْجَنَّةَ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ نَكَسَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلِيَّ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " لَئِنْ كُنْتَ أَوْجَزْتَ الْمَسْأَلَةَ، لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ عَظِيمٍ طَوِيلٍ فَاحْفَظْ عَنِّي: اعْبُدِ اللهَ وَلَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا، وَأَقِمِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَأَدِّ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَصُمْ رَمَضَانَ، وَمَا تُحِبُّ أَنْ يَفْعَلَهُ النَّاسُ بِكَ فَافْعَلْهُ بِهِمْ، وَمَا تَكْرَهُ أَنْ يَفْعَلَهُ النَّاسُ بِكَ فَذَرِ النَّاسَ مِنْهُ، خَلِّ سَبِيلَ النَّاقَةِ أَوِ الرَّاحِلَةِ "، قَالَ هَمَّامٌ: «وَأَمَّا الْحَجُّ فَقَدْ حَجَّ حَيْثُ سَأَلَهُ»
ترجمہ

(لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) میں آپ ﷺ کے پاس پہنچا جبکہ آپ ﷺ اپنے صحابہ کے ایک قافلے میں تھے، تو مجھ سے کہا گیا: رسول اللہ ﷺ کے راستے سے ہٹ جاؤ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس آدمی کو چھوڑو، اسے کیا حاجت ہے؟“ تو میں قریب ہوا یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی اونٹنی کی نکیل یا مہار پکڑ لی، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ سے وہ چیز پوچھتا ہوں جو مجھے آگ سے نجات دلائے اور جنت تک پہنچائے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا، پھر جھکایا، پھر میری طرف اپنا چہرہ متوجہ کر کے فرمایا: ”اگرچہ تو نے سوال مختصر کیا ہے، لیکن تو نے ایک بہت بڑی اور طویل بات کا سوال کیا ہے، تو مجھ سے یاد رکھ: اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، فرض نماز قائم کر، فرض زکوٰۃ ادا کر، رمضان کے روزے رکھ، اور جو تو چاہتا ہے کہ لوگ تیرے ساتھ کریں وہ ان کے ساتھ کر، اور جو تو ناپسند کرتا ہے کہ لوگ تیرے ساتھ کریں اس سے لوگوں کو چھوڑ دے، اونٹنی یا سواری کا راستہ چھوڑ دو۔“ ہمام (راوی) کہتے ہیں: رہا حج، تو جب اس نے آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے اس کا بھی ذکر فرمایا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب اللام / حدیث: 16522
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 209، حدیث 473