المعجم الكبير للطبراني
باب اللام— حرف لام سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
وكيع بن حدس، ويقال عدس، عن أبي رزين باب: وکیع بن حدس، جنہیں عدس بھی کہا جاتا ہے، کی سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ زَمِيلٍ، لَهُ يُخْبِرُ عَنْ أبِيهِ، وَكَانَ يُكْنَى أَبَا الْمُنْتَفِقِ، قَالَ: أَتَيْتُ مَكَّةَ فَسَأَلْتُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا بِعَرَفَةَ فَأَتَيْتُهُ فَذَهَبْتُ أَدْنُو مِنْهُ حَتَّى اجْتَازَ عُنُقُ رَاحِلَتِي عُنُقَ رَاحِلَتِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ عَلِّمْنِي بِمَا يُنَجِّينِي مِنْ عَذَابِ اللهِ وَيُدْخِلُنِي جَنَّتَهُ، فَقَالَ: «اعْبُدِ اللهَ وَلَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا، وَأَقِمِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَأَدِّ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَحِجَّ وَاعْتَمِرْ» ، وَأَظُنُّهُ قَالَ: «وَصُمْ رَمَضَانَ، وَانْظُرْ مَا تُحِبُّ لِلنَّاسِ أَنْ يَأْتُوهُ إِلَيْكَ فَافْعَلْهُ بِهِمْ، وَمَا تَكْرَهُ أَنْ يَأْتُوهُ إِلَيْكَ فَذَرْهُمْ مِنْهُ» . «اضْطَرَبَ ابْنُ عَوْنٍ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَضْبِطْهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، وَضَبَطَهُ هَمَّامٌ» .(راوی کہتے ہیں:) لوگوں نے کہا: عرفہ میں (رسول اللہ ﷺ ہیں)، تو میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور قریب ہونے لگا یہاں تک کہ میری سواری کی گردن آپ ﷺ کی سواری کی گردن سے آگے بڑھ گئی، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے وہ چیز سکھائیے جو مجھے اللہ کے عذاب سے نجات دلائے اور مجھے اس کی جنت میں داخل کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، فرض نماز قائم کر، فرض زکوٰۃ ادا کر، حج اور عمرہ کر“، اور میرا خیال ہے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”رمضان کے روزے رکھ، اور دیکھ جو تو چاہتا ہے کہ لوگ تیرے ساتھ کریں وہ ان کے ساتھ کر، اور جو تو ناپسند کرتا ہے کہ وہ تیرے ساتھ کریں اس سے انہیں چھوڑ دے۔“ طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن عون اس حدیث کی سند میں الجھن کا شکار ہوئے، اور اسے محمد بن جحادہ سے صحیح طرح یاد نہ رکھ سکے، جبکہ ہمام نے اسے صحیح یاد رکھا۔