المعجم الكبير للطبراني
باب اللام— حرف لام سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
وكيع بن حدس، ويقال عدس، عن أبي رزين باب: وکیع بن حدس، جنہیں عدس بھی کہا جاتا ہے، کی سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 16514
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، عَنْ أبِي رَزِينٍ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ أَكُلُّنَا يَرَى رَبَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟، وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟، قَالَ: «أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ مَجْلِيًّا بِهِ؟» ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَاللهُ أَعْظَمُ»ترجمہ
سیدنا ابو رزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم سب قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے، اور اس کی کیا نشانی ہے جو اس کی مخلوق میں پائی جاتی ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم سب چاند کو صاف ظاہر ہوتے نہیں دیکھتے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اللہ اس سے بھی بڑا ہے۔“