المعجم الكبير للطبراني
باب اللام— حرف لام سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
وكيع بن حدس، ويقال عدس، عن أبي رزين باب: وکیع بن حدس، جنہیں عدس بھی کہا جاتا ہے، کی سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 16515
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُذُوعِيُّ الْقَاضِي، ثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ، عَنْ أبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَكُلُّنَا نَرَى رَبَّنَا؟، قَالَ: «نَعَمْ» ، قُلْتُ: وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟، قَالَ: «أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَنْظُرُ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟، وَإِنَّمَا هُوَ خَلْقٌ مِنْ خَلَقِ اللهِ، وَاللهُ أَعْظَمُ وَأَجَلُّ»ترجمہ
سیدنا ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا ہم سب اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے عرض کیا: اس کی کیا نشانی ہے جو اس کی مخلوق میں پائی جاتی ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم سب چودھویں رات کے چاند کو نہیں دیکھتے؟ حالانکہ وہ تو اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے، اور اللہ اس سے کہیں بڑا اور عظیم تر ہے۔“