حدیث نمبر: 16513
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعَبَّرْ، فَإِذَا عُبِّرَتْ وَقَعَتْ»
وَقَالَ: «الرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ» ، وَأَحْسَبُهُ قَالَ: «وَلَا يَقُصَّهَا إِلَّا عَلَى وَادٍّ أَوْ ذِي رَأْيٍ»
ترجمہ

سیدنا ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”خواب ایک پرندے کے پاؤں پر ہوتا ہے جب تک اس کی تعبیر نہ کی جائے، جب اس کی تعبیر کر دی جائے تو وہ واقع ہو جاتا ہے۔“
اور فرمایا: ”خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔“ اور میرا خیال ہے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”اسے صرف کسی محبت رکھنے والے یا سمجھدار شخص کے سامنے ہی بیان کرے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب اللام / حدیث: 16513
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 206، حدیث 464