المعجم الكبير للطبراني
باب اللام— حرف لام سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
وكيع بن حدس، ويقال عدس، عن أبي رزين باب: وکیع بن حدس، جنہیں عدس بھی کہا جاتا ہے، کی سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 16510
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا شُعْبَةُ، وَهُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنْ أَرْبَعِينَ جُزْءًا أَوْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، وَهِيَ عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ فَإِذَا عُبِّرَتْ وَقَعَتْ» . قَالَ شُعْبَةُ فِي حَدِيثِهِ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: «لَا يَقِعْهَا إِلَّا عَلَى وَادٍّ أَوْ ذِي رَأْيٍ»ترجمہ
سیدنا ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خواب نبوت کے چالیس یا چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزو ہے، اور وہ ایک پرندے کے پاؤں پر لٹکا ہوتا ہے، جب اس کی تعبیر بیان کر دی جائے تو وہ واقع ہو جاتا ہے۔“ شعبہ کہتے ہیں: اپنی روایت میں، اور میرا خیال ہے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”اسے صرف کسی محبت رکھنے والے یا سمجھدار شخص کے سامنے ہی بیان کیا جائے۔“