کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا عروہ بن مضرس بن حارثہ بن لام طائی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَامِرٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ، أَنَّه حَجَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ فَلَم يُدْرِكِ النَّاسَ إِلَّا لَيْلًا وَهُم بِجَمْعٍ، فَانْطَلَقَ إِلَى عَرَفَاتٍ لَيْلًا فَأَفَاضَ مِنْهَا، ثُمّ رَجَعَ إِلَى جَمْعٍ فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَعْمَلْتُ نَفْسِي وَأَنْصَبْتُ رَاحِلَتِي فَهَل لِي مِن حَجٍّ؟ فَقَالَ: «مَنْ صَلَّى مَعَنَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِجَمْعٍ وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّى نُفِيضَ وَقَدْ أَفَاضَ مِن عَرَفَاتٍ قَبْلَ ذَلِك لَيْلًا أَو نَهَارًا فَقَدْ تَمَّ وَقَضَى تَفَثَهُ»
ترجمہ
…وہ رات کو عرفات کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں سے واپس لوٹے، پھر مزدلفہ آئے، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: میں نے اپنے آپ کو تھکا دیا اور اپنی سواری کو مشقت میں ڈال دیا، تو کیا میرا حج ہو گیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ہمارے ساتھ مزدلفہ میں فجر کی نماز پڑھے اور ہمارے ساتھ اس وقت تک وقوف کرے جب تک ہم روانہ نہ ہوں، اور اس سے پہلے وہ رات یا دن میں عرفات سے واپس ہو چکا ہو، تو اس کا حج پورا ہو گیا اور اس نے اپنی میل کچیل کا حق ادا کر دیا۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، ثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ مُضَرِّسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامَ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتَيْتُكَ السَّاعَةَ مِن جَبَلَيْ طَيِّئٍ وَقَدْ أَكْلَلْتُ رَاحِلَتِي وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي فَهَل لِي مِن حَجٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «مَنْ شَهِدَ مَعَنَا هَذِه الصَّلَاةَ وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّى نُفِيضَ وَقَدْ كَانَ وَقَفَ ذَلِك بِعَرَفَةَ لَيْلًا أَو نَهَارًا، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ»
ترجمہ
…میں اسی وقت طی کے دونوں پہاڑوں سے آیا ہوں، میں نے اپنی سواری کو تھکا دیا اور اپنے آپ کو مشقت میں ڈال دیا، تو کیا میرا حج ہو گیا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو ہمارے ساتھ یہ نماز ادا کرے اور ہمارے ساتھ اس وقت تک وقوف کرے جب تک ہم روانہ نہ ہوں، اور اس سے پہلے وہ عرفہ میں رات یا دن کو وقوف کر چکا ہو، تو اس کا حج پورا ہو گیا اور اس نے اپنی میل کچیل کا حق ادا کر دیا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ قَالَا: ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ وَهُو بِجَمْعٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هل لِي مِن حَجٍّ؟ فَقَالَ: «مَنْ صَلَّى مَعَنَا هَذِه الصَّلَاةَ وَوَقَفَ مَعَنَا هَذَا الْمَوْقِفَ وأفَاضَ مِن عَرَفَاتٍ قَبْلَ ذَلِك لَيْلًا أَو نَهَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ
ترجمہ
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ اس وقت مزدلفہ میں تھے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میرا حج ہو گیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ہمارے ساتھ یہ نماز پڑھے اور ہمارے ساتھ اس مقام پر وقوف کرے، اور اس سے پہلے وہ رات یا دن میں عرفات سے واپس ہو چکا ہو، تو اس کا حج پورا ہو گیا اور اس نے اپنی میل کچیل کا حق ادا کر دیا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعْبَةَ بْنِ جَوَانٍ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَل لِي مِن حَجٍّ؟ فَقَالَ: «مَنْ صَلَّى مَعَنَا هَذِه الصَّلَاةَ وَوَقَفَ مَعَنَا هَذِه الْمَوَاقِفَ وَأَفَاضَ مِن عَرَفَاتٍ قَبْلَ ذَلِك لَيْلًا أَو نَهَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ»
ترجمہ
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میرا حج ہو گیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ہمارے ساتھ یہ نماز پڑھے اور ہمارے ساتھ ان مقامات پر وقوف کرے، اور اس سے پہلے وہ رات یا دن میں عرفات سے واپس ہو چکا ہو، تو اس کا حج پورا ہو گیا اور اس نے اپنی میل کچیل کا حق ادا کر دیا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ قَالَا: ثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ يَزِيدَ الْأَوْدِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ الطَّائِيِّ أَنَّه أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ بِجَمْعٍ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، طَوَيْتُ الْجَبَلَيْنِ وَلَقِيتُ شِدَّةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «مَنْ أَدْرَكَ إِفَاضَتَنَا أَدْرَكَ الْحَجَّ»
وَزَادَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ زَحْمَوَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «أَفْرِحْ رُوعَك، مَنْ أَدْرَكَ إِفَاضَتَنَا هَذِه أَدْرَكَ الْحَجَّ»
وَزَادَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ زَحْمَوَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «أَفْرِحْ رُوعَك، مَنْ أَدْرَكَ إِفَاضَتَنَا هَذِه أَدْرَكَ الْحَجَّ»
ترجمہ
…سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ مزدلفہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ کے روانہ ہونے سے پہلے، جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے دونوں پہاڑ طے کیے اور سخت مشقت اٹھائی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ہمارا یہ روانہ ہونا پا لیا اس نے حج پا لیا۔“
عبداللہ بن احمد نے اپنی روایت میں، زحمویہ کے حوالے سے، یہ اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا دل خوش کر لو، جس نے ہمارا یہ روانہ ہونا پا لیا اس نے حج پا لیا۔“
عبداللہ بن احمد نے اپنی روایت میں، زحمویہ کے حوالے سے، یہ اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا دل خوش کر لو، جس نے ہمارا یہ روانہ ہونا پا لیا اس نے حج پا لیا۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ بْن عُيَيْنَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ وَاقِفًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فَقَالَ: «مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا هَذِه ثُمّ أَفَاضَ مَعَنَا وَقَدْ وَقَفَ قَبْلَ ذَلِك بِعَرَفَةَ لَيْلًا أَو نَهَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ»
ترجمہ
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو مزدلفہ میں وقوف کرتے دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ہماری یہ نماز پڑھے، پھر ہمارے ساتھ روانہ ہو، اور اس سے پہلے عرفہ میں رات یا دن کو وقوف کر چکا ہو، تو اس کا حج پورا ہو گیا۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ح وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ قَالَا أَنَا خَالِدٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ، أَنَّه أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتْعَبْتُ وَأَنْصَبْتُ وأَحْفَيْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «مَنْ أَدْرَكَ جَمْعًا مَع النَّاسِ والْإِمامَ قَبْلَ أَنْ يُفِيضُوا فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ، وَمَنْ لَم يُدْرِكْ النَّاسَ والإِمامَ بِجَمْعٍ حَتَّى يُفِيضُوا فَلَم يُدْرِكِ الْحَجَّ»
ترجمہ
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں تھک گیا، مشقت اٹھائی اور چلتے چلتے پاؤں گھس گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو لوگوں اور امام کے ساتھ مزدلفہ میں، ان کے روانہ ہونے سے پہلے، پہنچ جائے اس نے حج پا لیا، اور جو لوگوں اور امام کو مزدلفہ میں ان کے روانہ ہونے سے پہلے نہ پا سکے اس نے حج نہیں پایا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: قَدْ أَحْفَيْتُ وَأَنْصَبْتُ وَفَعَلْتُ وَفَعَلْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «مَنْ أَدْرَكَ جَمْعًا فَوَقَفَ مَع النَّاسِ حَتَّى يُفِيضَ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ، وَمَنْ لَم يُدْرِكْ ذَلِك فَلَا حَجَّ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: میں تھک گیا، مشقت اٹھائی اور ایسے ایسے کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو مزدلفہ پہنچے اور لوگوں کے ساتھ وقوف کرے یہاں تک کہ وہ روانہ ہوں، اس نے حج پا لیا، اور جو یہ نہ پائے اس کا حج نہیں ہوا۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامَ الطَّائِيَّ، يَقُولُ " أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، جِئْتُ مِن جَبَلَيْ طَيِّئٍ وَاللهِ مَا جِئْتُ حَتَّى أَتْعَبْتُ نَفْسِي فَأَكْلَلْتُ رَاحِلَتِي فَمَا نَزَلَتُ جِبَالًا إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «مَنْ شَهِدَ مَعَنَا هَذِه الصَّلَاةَ وَقَدْ كَان وَقَفَ بِعَرَفَةَ قَبْلَ ذَلِك لَيْلًا أَو نَهَارًا، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ»
ترجمہ
…میں طی کے دونوں پہاڑوں سے آیا ہوں، اللہ کی قسم! میں نے یہاں آنے تک اپنے آپ کو تھکا دیا اور اپنی سواری کو نڈھال کر دیا، اور جس پہاڑ پر بھی اترا وہاں وقوف کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو ہمارے ساتھ یہ نماز حاضر ہو اور اس سے پہلے عرفہ میں رات یا دن کو وقوف کر چکا ہو، تو اس کا حج پورا ہو گیا اور اس نے اپنی میل کچیل کا حق ادا کر دیا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا عَمِّي، ثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامَ الطَّائِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ فِي الْمَوْقِفِ مِن جَمْعٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، جِئْتُكَ مِن جَبَلِ طَيِّئٍ أنْصَبْتُ مَطِيَّتِي وَأتْعَبْتُ نَفْسِي، وَاللهِ إنْ نَزَلَتُ مِن جَبَلٍ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْه فَهَلْ لِي مِن حَجٍّ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَال َرَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى مَعَنَا الْغَدَاةَ بِجَمْعٍ وَقَدْ أَتَى عَرَفَاتٍ قَبْلَ ذَلِك لَيْلًا أَو نَهَارًا فَقَدْ قَضَى تَفَثَهُ وَتَمَّ حَجُّهُ»
ترجمہ
…میں آپ کے پاس طی کے پہاڑ سے آیا ہوں، میں نے اپنی سواری کو مشقت میں ڈالا اور اپنے آپ کو تھکا دیا، اللہ کی قسم! جس پہاڑ پر بھی اترا وہاں وقوف کیا، تو کیا میرا حج ہو گیا، یا رسول اللہ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو ہمارے ساتھ صبح کی نماز مزدلفہ میں پڑھے اور اس سے پہلے رات یا دن میں عرفات آ چکا ہو، تو اس نے اپنی میل کچیل کا حق ادا کر دیا اور اس کا حج پورا ہو گیا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطَوَانِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ الطَّائِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ وَهُو وَاقِفٌ بِجَمْعٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقْبَلَتُ مِن جَبَلِ طَيِّئٍ وَأَذْلَلْتُ مَطِيَّتِي، وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي، وَاللهِ مَا نَزَلَتُ مِن جَبَلٍ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ فَهَل لِي مِن حَجٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «مَنْ أَدْرَكَ مَعَنَا هَذِه الصَّلَاةَ وَقَدْ أَتَى عَرَفَاتٍ قَبْلَ ذَلِك لَيْلًا أَو نَهَارًا فَقَدْ قَضَى تَفَثَهُ وَتَمَّ حَجُّهُ»
ترجمہ
…میں طی کے پہاڑ سے آیا، میں نے اپنی سواری کو نڈھال کر دیا اور اپنے آپ کو تھکا دیا، اللہ کی قسم! جس پہاڑ پر بھی اترا وہاں وقوف کیا، تو کیا میرا حج ہو گیا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو ہمارے ساتھ یہ نماز پائے اور اس سے پہلے رات یا دن میں عرفات آ چکا ہو، تو اس نے اپنی میل کچیل کا حق ادا کر دیا اور اس کا حج پورا ہو گیا۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، ثَنَا عَامِرٌ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ الطَّائِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا عروہ بن مضرس طائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، پھر (سابقہ حدیث کی طرح) اسی طرح کی روایت بیان کی۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ نَحْوَه
ترجمہ
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے بھی اسی جیسی حدیث بیان کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ دَاوُدَ الصَّوَّافُ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُزَيْغٍ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ الطَّائِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ وَهُو بِالْمَوْقِفِ بِجَمْعٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقْبَلَتُ مِن جَبَلَيْ طَيِّئٍ فَأَكْلَلْتُ نَفْسِي وَأَتْعَبْتُ رَاحِلَتِي وَاللهِ مَا نَزَلْتُ جَبَلًا إِلَّا وَقَدْ وَقَفْتُ عَلَيْه فَهَل لِي مِن حَجٍّ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى مَعَنَا هَذِه الصَّلَاةَ وَقَدْ أَتَى عَرَفَةَ لَيْلًا أَو نَهَارًا فَقَدْ قَضَى تَفَثَهُ وَتَمّ حَجُّهُ»
ترجمہ
…میں طی کے دونوں پہاڑوں سے آیا، میں نے اپنے آپ کو نڈھال کر دیا اور اپنی سواری کو تھکا دیا، اللہ کی قسم! جس پہاڑ پر بھی اترا وہاں وقوف کیا، تو کیا میرا حج ہو گیا، یا رسول اللہ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو ہمارے ساتھ یہ نماز پڑھے اور رات یا دن میں عرفہ آ چکا ہو، تو اس نے اپنی میل کچیل کا حق ادا کر دیا اور اس کا حج پورا ہو گیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَخْرَمُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الْمُؤَدِّبُ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ وَهُو بِجَمْعٍ وَالنَّاسُ حَوْلَهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إنِّي امْرُؤٌ مِنْ طَيِّئِ الْجَبَلَيْنِ، وَإِنِّي قَدْ أَذْلَلْتُ رَاحِلَتِي وَاللهِ مَا نَزَلُتُ جَبَلًا وَقَفْتُمْ بِهِ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْه فَهَل لِي مِن حَجٍّ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «مَنْ شَهِدَ مَعَنَا هَذِه الصَّلَاةَ فَقَدْ تَمّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ»
ترجمہ
…میں طی کے دونوں پہاڑوں کا ایک آدمی ہوں، میں نے اپنی سواری کو نڈھال کر دیا، اللہ کی قسم! میں کسی ایسے پہاڑ پر نہیں اترا جہاں تم نے وقوف کیا ہو مگر میں نے بھی وہاں وقوف کیا، تو کیا میرا حج ہو گیا، یا رسول اللہ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو ہمارے ساتھ یہ نماز حاضر ہو، اس کا حج پورا ہو گیا اور اس نے اپنی میل کچیل کا حق ادا کر دیا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ ،
ترجمہ
(اس سند کے بعد کوئی متن محفوظ نہیں ملا؛ ماخذ میں یہ اندراج ادھورا ہے۔)
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عُمَرَ الْقَزَّازُ الْبَصْرِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الزِّيَادِيُّ، ثَنَا سَعْدُ بْنُ عَامِرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زَيْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ، قَالَ " أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ بِجَمْعٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَل لِي مِن حَجٍّ؟ فَقَالَ: «مَنْ صَلَّى مَعَنَا هَذِه الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَكَانِ وَقَدْ أَفَاضَ قَبْلَ ذَلِك مِن عَرَفَاتٍ لَيْلًا أَو نَهَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ»
ترجمہ
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں مزدلفہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میرا حج ہو گیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ہمارے ساتھ یہ نماز اس مقام پر پڑھے، اور اس سے پہلے رات یا دن میں عرفات سے واپس ہو چکا ہو، تو اس کا حج پورا ہو گیا اور اس نے اپنی میل کچیل کا حق ادا کر دیا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ قَالَا: ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ، ثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ بِجَمْعٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إنِّي جِئْتُ مِن جَبَلَيْ طَيِّئٍ لَم أَدَعْ جَبَلًا إِلَّا قَدْ وَقَفْتُ عَلَيْه فَهَل لِي مِن حَجٍّ؟ فَقَالَ: «مَنْ صَلَّى هَذِه الصَّلَاةَ مَعَنَا وَقَدْ أَفَاضَ مِن عَرَفَةَ لَيْلًا أَو نَهَارًا فَقَدْ تَمّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ»
ترجمہ
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں مزدلفہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں طی کے دونوں پہاڑوں سے آیا ہوں، کوئی پہاڑ ایسا نہیں چھوڑا جہاں وقوف نہ کیا ہو، تو کیا میرا حج ہو گیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ہمارے ساتھ یہ نماز پڑھے اور رات یا دن میں عرفہ سے واپس ہو چکا ہو، تو اس کا حج پورا ہو گیا اور اس نے اپنی میل کچیل کا حق ادا کر دیا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْحَرِيشِ الْأَهْوَازِيُّ، ثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمَرْءُ مَع مَنْ أَحَبَّ»
ترجمہ
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“