❮
❯
حدیث نمبر: 14450
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، ثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ مُضَرِّسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامَ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتَيْتُكَ السَّاعَةَ مِن جَبَلَيْ طَيِّئٍ وَقَدْ أَكْلَلْتُ رَاحِلَتِي وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي فَهَل لِي مِن حَجٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «مَنْ شَهِدَ مَعَنَا هَذِه الصَّلَاةَ وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّى نُفِيضَ وَقَدْ كَانَ وَقَفَ ذَلِك بِعَرَفَةَ لَيْلًا أَو نَهَارًا، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ»
ترجمہ

امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عروہ بن مضرس بن حارثہ بن لام رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس مزدلفہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اسی وقت طی کے دونوں پہاڑوں سے آیا ہوں، میں نے اپنی سواری کو تھکا دیا اور اپنے آپ کو مشقت میں ڈال دیا، تو کیا میرا حج ہو گیا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو ہمارے ساتھ یہ نماز ادا کرے اور ہمارے ساتھ اس وقت تک وقوف کرے جب تک ہم روانہ نہ ہوں، اور اس سے پہلے وہ عرفہ میں رات یا دن کو وقوف کر چکا ہو، تو اس کا حج پورا ہو گیا اور اس نے اپنی میل کچیل کا حق ادا کر دیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14450
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 149، حدیث 378