المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عروة بن مضرس بن حارثة بن لام الطائي باب: سیدنا عروہ بن مضرس بن حارثہ بن لام طائی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 14466
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ قَالَا: ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ، ثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ بِجَمْعٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إنِّي جِئْتُ مِن جَبَلَيْ طَيِّئٍ لَم أَدَعْ جَبَلًا إِلَّا قَدْ وَقَفْتُ عَلَيْه فَهَل لِي مِن حَجٍّ؟ فَقَالَ: «مَنْ صَلَّى هَذِه الصَّلَاةَ مَعَنَا وَقَدْ أَفَاضَ مِن عَرَفَةَ لَيْلًا أَو نَهَارًا فَقَدْ تَمّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ»ترجمہ
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں مزدلفہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں طی کے دونوں پہاڑوں سے آیا ہوں، کوئی پہاڑ ایسا نہیں چھوڑا جہاں وقوف نہ کیا ہو، تو کیا میرا حج ہو گیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ہمارے ساتھ یہ نماز پڑھے اور رات یا دن میں عرفہ سے واپس ہو چکا ہو، تو اس کا حج پورا ہو گیا اور اس نے اپنی میل کچیل کا حق ادا کر دیا۔“