المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عروة بن مضرس بن حارثة بن لام الطائي باب: سیدنا عروہ بن مضرس بن حارثہ بن لام طائی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 14463
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَخْرَمُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الْمُؤَدِّبُ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ وَهُو بِجَمْعٍ وَالنَّاسُ حَوْلَهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إنِّي امْرُؤٌ مِنْ طَيِّئِ الْجَبَلَيْنِ، وَإِنِّي قَدْ أَذْلَلْتُ رَاحِلَتِي وَاللهِ مَا نَزَلُتُ جَبَلًا وَقَفْتُمْ بِهِ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْه فَهَل لِي مِن حَجٍّ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «مَنْ شَهِدَ مَعَنَا هَذِه الصَّلَاةَ فَقَدْ تَمّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ»ترجمہ
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا جبکہ آپ ﷺ مزدلفہ میں تھے اور لوگ آپ ﷺ کے ارد گرد تھے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں طی کے دونوں پہاڑوں کا ایک آدمی ہوں، میں نے اپنی سواری کو نڈھال کر دیا، اللہ کی قسم! میں کسی ایسے پہاڑ پر نہیں اترا جہاں تم نے وقوف کیا ہو مگر میں نے بھی وہاں وقوف کیا، تو کیا میرا حج ہو گیا، یا رسول اللہ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو ہمارے ساتھ اس نماز میں حاضر ہو، اس کا حج پورا ہو گیا اور اس نے اپنی میل کچیل کا حق ادا کر دیا۔“