حدیث نمبر: 14449
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَامِرٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ، أَنَّه حَجَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ فَلَم يُدْرِكِ النَّاسَ إِلَّا لَيْلًا وَهُم بِجَمْعٍ، فَانْطَلَقَ إِلَى عَرَفَاتٍ لَيْلًا فَأَفَاضَ مِنْهَا، ثُمّ رَجَعَ إِلَى جَمْعٍ فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَعْمَلْتُ نَفْسِي وَأَنْصَبْتُ رَاحِلَتِي فَهَل لِي مِن حَجٍّ؟ فَقَالَ: «مَنْ صَلَّى مَعَنَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِجَمْعٍ وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّى نُفِيضَ وَقَدْ أَفَاضَ مِن عَرَفَاتٍ قَبْلَ ذَلِك لَيْلًا أَو نَهَارًا فَقَدْ تَمَّ وَقَضَى تَفَثَهُ»
ترجمہ

…وہ رات کو عرفات کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں سے واپس لوٹے، پھر مزدلفہ آئے، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: میں نے اپنے آپ کو تھکا دیا اور اپنی سواری کو مشقت میں ڈال دیا، تو کیا میرا حج ہو گیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ہمارے ساتھ مزدلفہ میں فجر کی نماز پڑھے اور ہمارے ساتھ اس وقت تک وقوف کرے جب تک ہم روانہ نہ ہوں، اور اس سے پہلے وہ رات یا دن میں عرفات سے واپس ہو چکا ہو، تو اس کا حج پورا ہو گیا اور اس نے اپنی میل کچیل کا حق ادا کر دیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14449
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 149، حدیث 377