حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا نَافِعٌ أَبُو هُرْمُزٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحْتَجِمُ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، فَقُلْتُ: هَذَا الْيَوْمَ تَحْتَجِمُ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَمَنْ وَافَقَ مِنْكُمْ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ لَيْلَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ مَضَتْ منَ الشَّهْرِ فَلَا يُجَاوِزُ حَتَّى يَحْتَجِمُ فَاحْتَجِمُوا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا تو آپ ﷺ منگل کے دن پچھنے لگوا رہے تھے، میں نے عرض کیا: آج کے دن آپ پچھنے لگوا رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اور تم میں سے جس کا منگل کا دن مہینے کی سترہویں شب کے موافق آئے تو وہ اس تاریخ سے آگے نہ بڑھے جب تک پچھنے نہ لگوا لے، لہٰذا پچھنے لگواؤ۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثنا نَافِعٌ أَبُو هُرْمُزٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مَا مَرَرْتُ عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا أَمَرُونِي بِالْحِجَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس رات مجھے معراج کرائی گئی، میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے بھی گزرا انہوں نے مجھے پچھنے لگوانے کی تاکید کی۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثنا نَافِعٌ أَبُو هُرْمُزٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ لِإِبْلِيسَ مَرَدَةً منَ الشَّيَاطِينِ يَقُولُ لَهُمْ: عَلَيْكُمْ بِالْحُجَّاجِ وَالْمُجَاهِدِينَ، فَأَضِلُّوهُمْ عَنِ السَّبِيلِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ابلیس کے پاس سرکش شیطان ہیں، وہ انہیں کہتا ہے: حاجیوں اور مجاہدین کو نشانہ بناؤ اور انہیں راستے سے بھٹکا دو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ يَحْيَى، ثنا نَافِعٌ، مَوْلَى يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کی کنجی طہارت ہے، اسے (دنیاوی امور سے) حرام کرنے والی تکبیر ہے، اور اسے حلال کرنے والا سلام ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عَطَاءٍ، وَمُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، وَلَيْسَ يَطْلُبُ عَدُوًّا وَلَا يَطْلُبُهُ عَدُوٌّ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کر کے پڑھتے تھے، جبکہ نہ آپ ﷺ کسی دشمن کے پیچھے ہوتے اور نہ کوئی دشمن آپ ﷺ کے پیچھے ہوتا۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ أَبُو النَّضْرِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ، ثنا عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَمِعْتُمُ الرَّعْدَ فَاذْكُرُوا اللهَ، فَإِنَّهُ لَا يُصِيبُ ذَاكِرًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم گرج سنو تو اللہ کا ذکر کرو، کیونکہ یہ ذکر کرنے والے کو نہیں لگتی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْباعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي صَخْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْخَمْرُ أُمُّ الْفَوَاحِشِ وَأَكْبَرُ الْكَبَائِرِ مَنْ شَرِبَهَا وَقَعَ عَلَى أُمِّهِ وَخَالَتِهِ وَعَمَّتِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”شراب بے حیائیوں کی جڑ اور سب سے بڑا کبیرہ گناہ ہے، جو اسے پیتا ہے وہ بدحواسی میں اپنی ماں، خالہ اور پھوپھی پر بھی گر سکتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ صَدَقَةَ أَبُو حَمَّادٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى يَوْمَ التَّرْوِيَةِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، ثُمَّ بَاتَ بِهَا الصُّبْحَ يَوْمَ عَرَفَةَ، ثُمَّ غَدَا إِلَى عَرَفَةَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَفَاضَ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا لَيْسَ بَيْنَهُمَا تَطَوُّعٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ یومِ ترویہ کو زوالِ آفتاب کے وقت مکہ سے منیٰ کی طرف روانہ ہوئے، وہاں ظہر، عصر، مغرب اور عشاء پڑھی، پھر رات وہیں گزاری، عرفہ کے دن فجر پڑھی، پھر عرفہ کی طرف روانہ ہوئے، وہاں زوالِ آفتاب کے وقت ظہر اور عصر پڑھی، پھر مزدلفہ کی طرف روانہ ہوئے، وہاں مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھیں، ان کے درمیان کوئی نفل نماز نہیں پڑھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنِ ابْنِ أَرْقَمَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَعَفَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَغْسِلْ عَنْهُ الدَّمَ، ثُمَّ لِيُعِدْ وُضُوءَهُ وَلْيَسْتَقْبِلْ صَلَاتَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی نماز میں ناک سے خون بہہ جائے تو وہ نماز چھوڑ کر جائے، خون دھوئے، پھر نیا وضو کرے اور نماز نئے سرے سے شروع کرے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ الْعِجْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُزَنِيُّ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ الْأَشْعَثِ، أَمِيرٌ كَانَ عَلَيْنَا بِوَاسِطَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «طَافَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوَافَ الصَّدْرِ لَيْلًا أَوْ بِلَيْلٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے طوافِ صدر (رخصتی کا طواف) رات کے وقت کیا۔
حَدَّثَنَا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَمِّي سَعِيدُ بْنُ عِيسَى بْنِ تَلِيدٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَشْرَسَ، ح، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ، كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ للمروةِ: «هَذِهِ الْمَنْحَرُ، وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ وَطُرُقِهَا مَنْحَرٌ فِي الْعُمْرَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مروہ کے متعلق فرمایا: ”یہ بھی قربان گاہ ہے، اور مکہ کی تمام گلیاں اور راستے عمرے میں قربان گاہ ہیں۔“
حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَمْ يُقَاتِلِ الْمَلَائِكَةُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا يَوْمَ بَدْرٍ وَكَانَتْ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ إِمدادًا، وَلَمْ يَكُنْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخَيْلِ إِلَّا فَرَسَانِ أَحَدُهُمَا لِلْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، وَالْآخَرُ لِأَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: فرشتوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ صرف بدر کے دن جنگ کی، اس کے علاوہ وہ صرف کمک کے طور پر آتے رہے، اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے، ایک مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کا اور دوسرا ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ کا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الرَّهَاوِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَشْرَبُوا كَشُرْبِ الْبَعِيرِ، وَاشْرَبُوا اثْنَيْنِ وَثَلَاثًا، وَسَمُّوا اللهَ إِذَا شَرِبْتُمْ، وَاحْمَدُوا اللهَ إِذَا رَفَعْتُمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اونٹ کی طرح ایک ہی سانس میں مت پیو، بلکہ دو یا تین سانسوں میں پیو، جب پینا شروع کرو تو اللہ کا نام لو، اور جب برتن اٹھاؤ تو اللہ کی حمد کرو۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «رَخَّصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا لَيْلًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چرواہوں کو اجازت دی کہ وہ رات کے وقت جمرات کی رمی کر لیں۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَمْسَحُ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنا ہاتھ اس وقت تک نہ پونچھے جب تک اسے خود چاٹ نہ لے یا کسی اور سے چٹوا نہ لے۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «إِنَّمَا سَعَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے صفا اور مروہ کے درمیان تیز چلنا صرف مشرکین کو اپنی طاقت دکھانے کے لیے کیا تھا۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَيْسَ الْمُحَصَّبُ شَيْءٌ، إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: محصب کوئی خاص شرعی چیز نہیں، یہ تو بس ایک پڑاؤ تھا جہاں رسول اللہ ﷺ نے قیام کیا تھا۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ لِمَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ مَيْتَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا عَلَى أَهْلِ هَذِهِ لَوْ أَخَذُوا إِهَابَهَا فَدَبَغُوهُ فَانْتَفَعُوا بِهِ؟» فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهَا مَيْتَةُ قَالَ: «إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا گزر سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی ایک باندی کی مری ہوئی بکری کے پاس سے ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان لوگوں پر کیا حرج ہے اگر وہ اس کی کھال لے لیں، اسے دباغت دیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں؟“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ تو مردار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صرف اس کا کھانا حرام کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَاتَتْ شَاةٌ عِنْدَ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا دَبَغْتُمْ إِهَابَهَا فَاتَّخَذْتُمُوهُ شَنًّا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی کسی زوجہ کے ہاں ایک بکری مر گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال دباغت کیوں نہ دی کہ اسے مشکیزہ بنا لیتے؟“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: قَرَأْنَا عَلَى مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ منْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے کمزور گھر والوں کو رات کے وقت مزدلفہ سے پہلے بھیج دیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ خَالِدٍ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حالتِ روزہ و احرام میں پچھنے لگوائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، وَعَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حالتِ احرام میں پچھنے لگوائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: " {وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ} [البقرة: ١٨٤] قَالَ: «يُكَلَّفُونَهُ» ، {فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ} [البقرة: ١٨٤] «وَاحِدٍ» ، {فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا} [البقرة: ١٨٤] «فَزَادَ طَعَامَ مِسْكِينٍ آخَرَ لَيْسَتْ بِمَنْسُوخَةٍ» ، {فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ} [البقرة: ١٨٤] «لَا يُرَخَّصُ فِي هَذَا إِلَّا لِلْكَبِيرِ الَّذِي لَا يُطِيقُ الصِّيَامَ أَوْ مَرِيضٍ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُشْفَى»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”اور جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہیں“ [سورۃ البقرہ: 184] فرمایا: یعنی جن پر روزہ مشکل سے واجب کیا گیا ہو۔ ”ایک مسکین کو کھانا کھلانا فدیہ ہے“ [سورۃ البقرہ: 184] یعنی ایک مسکین کا کھانا۔ ”پھر جو کوئی اپنی خوشی سے زیادہ نیکی کرے“ [سورۃ البقرہ: 184] یعنی ایک اور مسکین کا کھانا بڑھا دے، یہ حکم منسوخ نہیں ہوا۔ ”تو یہ اس کے لیے بہتر ہے“ [سورۃ البقرہ: 184] یہ رخصت صرف اس بوڑھے کو ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، یا ایسے مریض کو جسے یقین ہو کہ وہ شفا نہیں پائے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْباعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَهَى عَنِ الاغتيالِ، ثُمَّ قَالَ: «لَوْ ضَرَّ أَحَدًا لِضَرَّ فَارِسَ وَالرُّومَ» . قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ: " وَالِاغْتِيَالُ: أَنْ يَطَأَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تُرْضِعُ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے 'اغتیال' سے منع فرمایا، پھر فرمایا: ”اگر یہ کسی کو نقصان پہنچاتا تو فارس اور روم کو ضرور پہنچاتا۔“
ابن بکیر کہتے ہیں: اغتیال سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی سے اس حال میں مباشرت کرے جبکہ وہ بچے کو دودھ پلا رہی ہو۔
ابن بکیر کہتے ہیں: اغتیال سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی سے اس حال میں مباشرت کرے جبکہ وہ بچے کو دودھ پلا رہی ہو۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَشَاءِ لَيْلَةً، ثُمَّ خَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً فَقَالَ: «لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَحْبَبْتُ أَنْ تُصَلَّى هَذِهِ الصَّلَاةُ لِهَذَا الْوَقْتِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز میں تاخیر کی، پھر باہر تشریف لائے، آپ ﷺ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں پسند کرتا کہ یہ نماز اسی وقت پڑھی جائے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ الصَّلَاةَ حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ فَخَرَجَ عُمَرُ فَنَادَاهُ: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللهِ، رَقَدَ النِّسَاءُ وَالْوَالِدَانُ فَخَرَجَ وَالْمَاءُ يَقْطُرُ مِنْ شِقِّهِ، وَهُوَ يَمْسَحُ الْمَاءَ عَنْ شِقِّهِ وَيَقُولُ: «إِنَّهُ الْوَقْتُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي»
ترجمہ
… ایک رات نماز میں اتنی تاخیر ہوئی کہ رات کا کافی حصہ گزر گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ باہر نکلے اور پکارا: نماز، یا رسول اللہ! عورتیں اور بچے سو گئے ہیں۔ تو آپ ﷺ باہر تشریف لائے، آپ ﷺ کے پہلو سے پانی ٹپک رہا تھا، آپ ﷺ اپنے پہلو سے پانی پونچھتے ہوئے فرما رہے تھے: ”یہی اصل وقت ہے، اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَاعَ طَعَامًا، فَلَا يَبِيعُهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ» . هَكَذَا رَوَاهُ قَبِيصَةُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، وَرَوَاهُ أَصْحَابُ حَمَّادٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَصْحَابُ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَهُوَ الصَّوَابُ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کوئی غلہ خریدے تو وہ اسے آگے نہ بیچے جب تک اسے پورا اپنے قبضے میں نہ لے لے۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے قبیصہ نے حماد بن سلمہ سے، عمرو سے، عطاء سے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ حماد کے دیگر شاگردوں نے اسے حماد سے، عمرو سے، طاوس سے روایت کیا ہے، اور عمرو بن دینار کے شاگردوں نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے، اور یہی درست ہے۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے قبیصہ نے حماد بن سلمہ سے، عمرو سے، عطاء سے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ حماد کے دیگر شاگردوں نے اسے حماد سے، عمرو سے، طاوس سے روایت کیا ہے، اور عمرو بن دینار کے شاگردوں نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے، اور یہی درست ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَزَعَ ثَنِيَّتَهُ، «فَأَهْدَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» . هَكَذَا رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهِمَ فِيهِ وَرَوَاهُ أَصْحَابُ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَصْحَابُ عَطَاءٍ وَهُوَ الصَّوَابُ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ایک آدمی نے دوسرے آدمی کا ہاتھ دانتوں سے کاٹ لیا، اس نے اپنا ہاتھ چھڑایا تو کاٹنے والے کا اگلا دانت ٹوٹ گیا، نبی کریم ﷺ نے اسے لغو (بلا تاوان) قرار دیا۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سعید بن عمرو نے اسے سفیان سے، عمرو سے، عطاء سے، ابن عباس سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں غلطی کی ہے، جبکہ ابن عیینہ کے شاگردوں نے اسے ابن عیینہ سے، عمرو سے، عطاء سے، صفوان بن یعلی بن امیہ سے، ان کے والد سے روایت کیا ہے، اور عطاء کے شاگردوں نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے، اور یہی درست ہے۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سعید بن عمرو نے اسے سفیان سے، عمرو سے، عطاء سے، ابن عباس سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں غلطی کی ہے، جبکہ ابن عیینہ کے شاگردوں نے اسے ابن عیینہ سے، عمرو سے، عطاء سے، صفوان بن یعلی بن امیہ سے، ان کے والد سے روایت کیا ہے، اور عطاء کے شاگردوں نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے، اور یہی درست ہے۔
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْأُبُلِّيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «تَوَضَّأَ مَرَّةً»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک ایک بار اعضاء دھو کر وضو کیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْأَذَنِيُّ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا الْمُسَيِّبُ بْنُ وَاضِحٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَرَ بِلَعْقِ الصَّحْفَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پیالہ چاٹنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ رَاشِدٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «افْتَرَضَ اللهُ عَلَيْهِمْ أَنْ يُقَاتِلَ الْوَاحِدُ الْعَشَرَةَ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، فَوَضَعَ ذَلِكَ عَنْهُمْ، فَرُدَّ إِلَى أَنْ يُقَاتِلُوا الْعَدُوَّ إِذَا كَانُوا ضِعْفَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر فرض کیا تھا کہ ایک آدمی دس دشمنوں کا مقابلہ کرے، یہ ان پر گراں گزرا تو اللہ نے یہ حکم ان سے ہٹا دیا اور یہ کر دیا کہ وہ دشمن سے اس وقت لڑیں جب دشمن ان سے دگنا ہو۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ رَاشِدٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى} [الأنفال: ٦٧] فَقَرَأَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ {عَذَابٌ عَظِيمٌ} [الأنفال: ٦٨] يَعْنِي: غَنَائِمَ بَدْرٍ قَبْلَ أَنْ يُحِلَّهَا لَهُمْ، يَقُولُ: «لَوْلَا أَنِّي لَا أُعَذِّبُ مَنْ عَصَانِي حَتَّى أَتَقَدَّمُ إِلَيْهِ» {لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [الأنفال: ٦٨]
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”کسی نبی کے لیے مناسب نہیں کہ اس کے قیدی ہوں“ [سورۃ الانفال: 67] پھر یہاں تک تلاوت کی: ”بڑا عذاب“ [سورۃ الانفال: 68] - یعنی بدر کی غنیمتیں، اس سے پہلے کہ اللہ انہیں ان کے لیے حلال کرتا، فرمایا: ”اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں کسی کو اس وقت تک سزا نہیں دیتا جب تک اسے پہلے سے آگاہ نہ کر دوں“ تو ”جو کچھ تم نے لیا اس پر تمہیں بڑا عذاب پہنچتا“ [سورۃ الانفال: 68]۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ رَاشِدٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {قُلْ لِمَنْ فِي أَيْدِيكُمْ مِنَ الْأَسْرَى} [الأنفال: ٧٠] حَتَّى بَلَغَ {أُخِذَ مِنْكُمْ} [الأنفال: ٧٠] قَالَ: كَانَ الْعَبَّاسُ يَقُولُ: «فِيَّ وَاللهِ أُنْزِلَتْ حِينَ أَخْبَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِسْلَامِي، وَسَأَلْتُهُ أَنْ يُحاسِبَني بِالْعِشْرِينَ أُوقِيَّةً الَّتِي وَجَدَ مَعِي فَأَبَى أَنْ يُحاسِبَني بِهَا فَأَعْطَانِي اللهُ بِالْعِشْرِينَ أُوقِيَّةً عِشْرِينَ عَبْدًا كُلُّهُمْ تَاجَرَ بِمَالِي فِي يَدِهِ مَعَ مَا أَرْجُو مِنْ مَغْفِرَةِ اللهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”قیدیوں میں سے جو تمہارے ہاتھ میں ہیں ان سے کہہ دیجیے“ [سورۃ الانفال: 70] یہاں تک کہ ”جو تم سے لیا گیا“ [سورۃ الانفال: 70] تک تلاوت کی، فرمایا: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: اللہ کی قسم! یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی، جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے اسلام لانے کی خبر دی اور آپ ﷺ سے درخواست کی کہ وہ بیس اوقیہ چاندی جو میرے پاس بطور فدیہ پائی گئی تھی اسے میرے فدیے میں شمار نہ کریں، مگر آپ ﷺ نے اسے شمار کرنے سے انکار کر دیا، پھر اللہ نے مجھے ان بیس اوقیہ کے بدلے بیس غلام عطا فرمائے جن میں سے ہر ایک میرے مال سے تجارت کرتا تھا، اس کے علاوہ مجھے اللہ کی مغفرت کی بھی امید ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَحْمَرِ النَّاقِدُ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ يَوْمَئِذٍ فِي أَصْحَابِهِ غَنَمًا، فَأَصَابَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ تَيْسًا، فَذَبَحَهُ عَنْ نَفْسِهِ، فَلَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ أَمَرَ رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ فَقَامَ تَحْتَ يَدَيْ نَاقَتِهِ وَكَانَ رَجُلًا صَيِّتًا فَقَالَ: اصْرُخْ أَيُّهَا النَّاسُ أَتَدْرُونَ أَيَّ شَهْرٍ هَذَا؟ فَصَرَخَ، فَقَالَ النَّاسُ: الشَّهْرُ الْحَرَامُ فَقَالَ: اصْرُخْ أَتَدْرُونَ أَيَّ بَلَدٍ هَذَا؟ قَالُوا: الْبَلَدُ الْحَرَامُ قَالَ: اصْرُخْ، هَلْ تَدْرُونَ أَيَّ يَوْمٍ هَذَا؟ قَالُوا: الْحَجُّ الْأَكْبَرُ، فَقَالَ: اصْرُخْ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ كَحُرْمَةِ شَهْرِكُمْ هَذَا، وَكَحُرْمَةِ بَلَدِكُمْ هَذَا، وَكَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا» فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّهً فَقَالَ حِينَ وَقَفَ بِعَرَفَةَ: «هَذَا الْمَوْقِفُ وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ» ، وَقَالَ حِينَ وَقَفَ عَلَى قُزَحٍ: «هَذَا الْمَوْقِفُ وَكُلُّ مُزْدَلِفَةَ مَوْقِفٌ»
ترجمہ
… اعلان کرو، کیا تمہیں معلوم ہے یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا شہر۔ فرمایا: اعلان کرو، کیا تمہیں معلوم ہے یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: حج اکبر کا دن۔ فرمایا: اعلان کرو کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ”بیشک اللہ عزوجل نے تم پر تمہارے خون اور تمہارے مال اسی طرح حرام کیے ہیں جیسے تمہارے اس مہینے کی حرمت، تمہارے اس شہر کی حرمت، اور تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا حج مکمل کیا اور جب عرفات میں وقوف کیا تو فرمایا: ”یہ جائے وقوف ہے اور پورا عرفات جائے وقوف ہے۔“ اور جب قُزَح پر وقوف کیا تو فرمایا: ”یہ جائے وقوف ہے اور پورا مزدلفہ جائے وقوف ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " نَسخَتْ هَذِهِ الْآيَةَ عِدَّتُهَا فِي أَهْلِهَا تَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {غَيْرَ إِخْرَاجٍ} [البقرة: ٢٤٠] " قَالَ عَطَاءٌ: إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ فِي أَهْلِهِ، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ لِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنِّ} "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اس آیت نے - کہ عورت اپنے گھر والوں میں عدت گزارے، جہاں چاہے عدت گزارے - اللہ عزوجل کے اس فرمان کو منسوخ کر دیا: ”نکالے بغیر“ [سورۃ البقرہ: 240]۔ عطاء نے فرمایا: اگر وہ چاہے تو اپنے گھر والوں میں عدت گزارے، اور اگر چاہے تو نکل جائے، اللہ عزوجل کے اس فرمان کی بنا پر: ”پھر اگر وہ خود نکل جائیں تو ان کے اپنی ذات کے بارے میں جو کچھ وہ کریں اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، صَاحِبُ الْمَغَازِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَبِي الْحَجَّاجِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ فِي سَفَرِهِ ذَلِكَ وَهُوَ حَرَامٌ، كَانَ الَّذِي زَوَّجَهُ إِيَّاهَا الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَأَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثًا، فَأَتَاهُ حُوَيْطِبُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ أَبِي قَيْسِ بْنِ عَبْدِ وَدِّ بْنِ نَصْرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ حَسَلٍ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فِي يَوْمِ الثَّالِثِ وَكَانَتْ قُرَيْشٌ قَدْ وَكَّلَتْهُ بِإِخْرَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ، فَقَالُوا: إِنَّهُ قَدِ انْقَضَى أَجَلُكَ فَاخْرُجْ عَنَّا، فَقَالَ لَهُمْ: «وَمَا عَلَيْكُمْ لَوْ تَرَكْتُمُونِي، فَأَعْرَسْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ وَصَنَعْنَا لَكُمْ طَعَامًا فحضرتموهُ» فَقَالُوا: لَا حَاجَةَ لَنَا فِي طَعَامِكَ فَاخْرُجْ عَنَّا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "
ترجمہ
… اور ان کے ساتھ قریش کے کچھ لوگ تیسرے دن آئے، قریش نے انہیں نبی کریم ﷺ کو مکہ سے نکالنے کے لیے مقرر کیا تھا، انہوں نے کہا: آپ کی مدت ختم ہو چکی ہے، ہمارے پاس سے نکل جائیے۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تمہارا کیا نقصان ہے اگر تم مجھے چھوڑ دو، میں تمہارے درمیان اپنی شادی کر لوں اور تمہارے لیے کھانا تیار کروں اور تم اس میں شریک ہو جاؤ؟“ انہوں نے کہا: ہمیں تمہارے کھانے کی کوئی حاجت نہیں، ہمارے پاس سے نکل جاؤ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ روانہ ہو گئے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «مَا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ، وَلَكِنَّهُ حِينَ دَخَلَ خَرَّ سَاجِدًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ دَعَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کے اندر نماز نہیں پڑھی، بلکہ جب اندر داخل ہوئے تو سجدے میں گر پڑے، پھر سر اٹھایا، پھر دعا کی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ الطَّائِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، ثنا أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي، حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِمْ تِسْعًا تِسْعًا، ثُمَّ سَبْعًا سَبْعًا، ثُمَّ أَرْبَعًا أَرْبَعًا حَتَّى لَحِقَ بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے شہداء کی نماز جنازہ پڑھائی، ابتدا میں نو نو تکبیریں کہیں، پھر سات سات، پھر چار چار، یہاں تک کہ اللہ عزوجل سے جا ملے۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لِلْبِكْرِ سَبْعًا، وَلِلثَّيِّبِ ثَلَاثًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کنواری دلہن کے لیے سات دن اور بیوہ/مطلقہ کے لیے تین دن ہیں۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، وَأَبُو الزِّنْباعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، وَأَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّونَ، قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْأُبُلِّيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ فِيمَا دَعَا بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «اللهُمَّ إِنَّكَ تَسْمَعُ كَلَامِي، وَتَرَى مَكَانِي، وَتَعْلَمُ سِرِّي وعلانيتِي، لَا يَخْفَى عَلَيْكَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِي، أَنَا الْبَائِسُ الْفَقِيرُ الْمُسْتَغِيثُ الْمُسْتَجِيرُ الْوَجِلُ الْمُشْفِقُ الْمُقِرُّ الْمُعْتَرِفُ بِذَنَبِهِ، أَسْأَلُكَ مَسْأَلَةَ الْمستكينِ وأَبْتَهِلُ إِلَيْكَ ابتهالَ الْمُذْنِبِ الذَّلِيلِ، وَأَدْعُوكَ دُعَاءَ الْخَائِفِ الضَّرِيرِ مَنْ خَضَعَتْ لَكَ رَقَبَتُهُ وَفَاضَتْ لَكَ عَيْنَاهُ وذلَّ جَسَدُهُ وَرَغِمَ أَنْفُهُ لَكَ، اللهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي بدُعائِكَ شَقِيًّا، وَكُنْ بِي دَوْمًا رَحِيمًا، يَا خَيْرَ الْمَسْئُولينَ وَيَا خَيْرَ الْمُعْطِينَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں جو دعائیں کیں ان میں یہ بھی تھی: ”اے اللہ! تو میری بات سنتا ہے، میری جگہ دیکھتا ہے، اور میرا پوشیدہ اور ظاہر جانتا ہے، میرے کسی معاملے کی کوئی بات تجھ سے پوشیدہ نہیں، میں بے بس، محتاج، فریاد رس چاہنے والا، پناہ مانگنے والا، ڈرنے والا، خوف کھانے والا، اپنے گناہ کا اقراری اور معترف ہوں، میں تجھ سے ایسے سوال کرتا ہوں جیسے تنگ دست بے بس سوال کرتا ہے، اور تیرے حضور ایسے گڑگڑاتا ہوں جیسے ذلیل گنہگار گڑگڑاتا ہے، اور تجھے ایسے پکارتا ہوں جیسے بے بس خوفزدہ پکارتا ہے، جس کی گردن تیرے آگے جھکی ہو، جس کی آنکھیں تیرے لیے بہہ رہی ہوں، جس کا جسم تیرے سامنے عاجز ہو اور جس کی ناک تیرے سامنے خاک آلود ہو۔ اے اللہ! مجھے اپنی دعا سے محروم نہ رکھ، اور ہمیشہ مجھ پر رحم فرما، اے سوال کیے جانے والوں میں سب سے بہتر اور اے عطا کرنے والوں میں سب سے بہتر!“
…