حدیث نمبر: 11237
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا هُذَيْلُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، يُحَدِّثَانِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، أَتَاهُ فاستسقاهُ فَسُقِي نَبِيذًا فَقَالَ: مَا شَأْنُ إِخْوَانِكُمْ يَسْقُونَ الْعَسَلَ وَاللَّبَنَ وَتَسْقُونَ أَنْتُمُ النَّبِيذَ؟ فَقَالَ: أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا بُخْلٌ وَلَكِنِ «اسْتَسْقَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَقَيْنَاهُ نَبِيذًا» فَقَالَ: أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ هَكَذَا فَافْعَلُوا
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بدوی ان کے پاس آیا اور پانی مانگا تو اسے نبیذ پلائی گئی، اس نے کہا: تمہارے بھائیوں کا کیا معاملہ ہے کہ وہ شہد اور دودھ پلاتے ہیں اور تم لوگ نبیذ پلاتے ہو؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمارے ہاں بخل نہیں ہے، بلکہ (بات یہ ہے کہ) رسول اللہ ﷺ نے پانی مانگا تو ہم نے آپ ﷺ کو نبیذ پلائی تھی۔ اس نے کہا: تم نے اچھا اور خوبصورت کیا، اسی طرح کیا کرو۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11237
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 137، حدیث 11284