المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عطاء، عن ابن عباس باب: عطاء کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ رَاشِدٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {قُلْ لِمَنْ فِي أَيْدِيكُمْ مِنَ الْأَسْرَى} [الأنفال: ٧٠] حَتَّى بَلَغَ {أُخِذَ مِنْكُمْ} [الأنفال: ٧٠] قَالَ: كَانَ الْعَبَّاسُ يَقُولُ: «فِيَّ وَاللهِ أُنْزِلَتْ حِينَ أَخْبَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِسْلَامِي، وَسَأَلْتُهُ أَنْ يُحاسِبَني بِالْعِشْرِينَ أُوقِيَّةً الَّتِي وَجَدَ مَعِي فَأَبَى أَنْ يُحاسِبَني بِهَا فَأَعْطَانِي اللهُ بِالْعِشْرِينَ أُوقِيَّةً عِشْرِينَ عَبْدًا كُلُّهُمْ تَاجَرَ بِمَالِي فِي يَدِهِ مَعَ مَا أَرْجُو مِنْ مَغْفِرَةِ اللهِ»سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”قیدیوں میں سے جو تمہارے ہاتھ میں ہیں ان سے کہہ دیجیے“ [سورۃ الانفال: 70] یہاں تک کہ ”جو تم سے لیا گیا“ [سورۃ الانفال: 70] تک تلاوت کی، فرمایا: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: اللہ کی قسم! یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی، جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے اسلام لانے کی خبر دی اور آپ ﷺ سے درخواست کی کہ وہ بیس اوقیہ چاندی جو میرے پاس بطور فدیہ پائی گئی تھی اسے میرے فدیے میں شمار نہ کریں، مگر آپ ﷺ نے اسے شمار کرنے سے انکار کر دیا، پھر اللہ نے مجھے ان بیس اوقیہ کے بدلے بیس غلام عطا فرمائے جن میں سے ہر ایک میرے مال سے تجارت کرتا تھا، اس کے علاوہ مجھے اللہ کی مغفرت کی بھی امید ہے۔