حدیث نمبر: 11325
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ صَدَقَةَ أَبُو حَمَّادٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى يَوْمَ التَّرْوِيَةِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، ثُمَّ بَاتَ بِهَا الصُّبْحَ يَوْمَ عَرَفَةَ، ثُمَّ غَدَا إِلَى عَرَفَةَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَفَاضَ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا لَيْسَ بَيْنَهُمَا تَطَوُّعٌ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ یومِ ترویہ کو زوالِ آفتاب کے وقت مکہ سے منیٰ کی طرف روانہ ہوئے، وہاں ظہر، عصر، مغرب اور عشاء پڑھی، پھر رات وہیں گزاری، عرفہ کے دن فجر پڑھی، پھر عرفہ کی طرف روانہ ہوئے، وہاں زوالِ آفتاب کے وقت ظہر اور عصر پڑھی، پھر مزدلفہ کی طرف روانہ ہوئے، وہاں مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھیں، ان کے درمیان کوئی نفل نماز نہیں پڑھی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11325
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 164، حدیث 11373