المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عطاء، عن ابن عباس باب: عطاء کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، وَأَبُو الزِّنْباعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، وَأَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّونَ، قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْأُبُلِّيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ فِيمَا دَعَا بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «اللهُمَّ إِنَّكَ تَسْمَعُ كَلَامِي، وَتَرَى مَكَانِي، وَتَعْلَمُ سِرِّي وعلانيتِي، لَا يَخْفَى عَلَيْكَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِي، أَنَا الْبَائِسُ الْفَقِيرُ الْمُسْتَغِيثُ الْمُسْتَجِيرُ الْوَجِلُ الْمُشْفِقُ الْمُقِرُّ الْمُعْتَرِفُ بِذَنَبِهِ، أَسْأَلُكَ مَسْأَلَةَ الْمستكينِ وأَبْتَهِلُ إِلَيْكَ ابتهالَ الْمُذْنِبِ الذَّلِيلِ، وَأَدْعُوكَ دُعَاءَ الْخَائِفِ الضَّرِيرِ مَنْ خَضَعَتْ لَكَ رَقَبَتُهُ وَفَاضَتْ لَكَ عَيْنَاهُ وذلَّ جَسَدُهُ وَرَغِمَ أَنْفُهُ لَكَ، اللهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي بدُعائِكَ شَقِيًّا، وَكُنْ بِي دَوْمًا رَحِيمًا، يَا خَيْرَ الْمَسْئُولينَ وَيَا خَيْرَ الْمُعْطِينَ»سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں جو دعائیں کیں ان میں یہ بھی تھی: ”اے اللہ! تو میری بات سنتا ہے، میری جگہ دیکھتا ہے، اور میرا پوشیدہ اور ظاہر جانتا ہے، میرے کسی معاملے کی کوئی بات تجھ سے پوشیدہ نہیں، میں بے بس، محتاج، فریاد رس چاہنے والا، پناہ مانگنے والا، ڈرنے والا، خوف کھانے والا، اپنے گناہ کا اقراری اور معترف ہوں، میں تجھ سے ایسے سوال کرتا ہوں جیسے تنگ دست بے بس سوال کرتا ہے، اور تیرے حضور ایسے گڑگڑاتا ہوں جیسے ذلیل گنہگار گڑگڑاتا ہے، اور تجھے ایسے پکارتا ہوں جیسے بے بس خوفزدہ پکارتا ہے، جس کی گردن تیرے آگے جھکی ہو، جس کی آنکھیں تیرے لیے بہہ رہی ہوں، جس کا جسم تیرے سامنے عاجز ہو اور جس کی ناک تیرے سامنے خاک آلود ہو۔ اے اللہ! مجھے اپنی دعا سے محروم نہ رکھ، اور ہمیشہ مجھ پر رحم فرما، اے سوال کیے جانے والوں میں سب سے بہتر اور اے عطا کرنے والوں میں سب سے بہتر!“