المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عطاء، عن ابن عباس باب: عطاء کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَحْمَرِ النَّاقِدُ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ يَوْمَئِذٍ فِي أَصْحَابِهِ غَنَمًا، فَأَصَابَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ تَيْسًا، فَذَبَحَهُ عَنْ نَفْسِهِ، فَلَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ أَمَرَ رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ فَقَامَ تَحْتَ يَدَيْ نَاقَتِهِ وَكَانَ رَجُلًا صَيِّتًا فَقَالَ: اصْرُخْ أَيُّهَا النَّاسُ أَتَدْرُونَ أَيَّ شَهْرٍ هَذَا؟ فَصَرَخَ، فَقَالَ النَّاسُ: الشَّهْرُ الْحَرَامُ فَقَالَ: اصْرُخْ أَتَدْرُونَ أَيَّ بَلَدٍ هَذَا؟ قَالُوا: الْبَلَدُ الْحَرَامُ قَالَ: اصْرُخْ، هَلْ تَدْرُونَ أَيَّ يَوْمٍ هَذَا؟ قَالُوا: الْحَجُّ الْأَكْبَرُ، فَقَالَ: اصْرُخْ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ كَحُرْمَةِ شَهْرِكُمْ هَذَا، وَكَحُرْمَةِ بَلَدِكُمْ هَذَا، وَكَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا» فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّهً فَقَالَ حِينَ وَقَفَ بِعَرَفَةَ: «هَذَا الْمَوْقِفُ وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ» ، وَقَالَ حِينَ وَقَفَ عَلَى قُزَحٍ: «هَذَا الْمَوْقِفُ وَكُلُّ مُزْدَلِفَةَ مَوْقِفٌ»عطاء رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس دن اپنے صحابہ میں بکریاں تقسیم کیں، تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ایک بکرا ملا، انہوں نے اسے اپنی طرف سے ذبح کیا۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ نے عرفات میں وقوف کیا تو ربیعہ بن امیہ بن خلف کو حکم دیا، وہ آپ ﷺ کی اونٹنی کے ہاتھوں کے نیچے کھڑے ہو گئے، وہ بلند آواز والے آدمی تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: پکار کر کہو: اے لوگو! کیا تمہیں معلوم ہے یہ کون سا مہینہ ہے؟ تو انہوں نے پکارا، لوگوں نے کہا: حرمت والا مہینہ۔ فرمایا: پکارو، کیا تمہیں معلوم ہے یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا شہر۔ فرمایا: اعلان کرو، کیا تمہیں معلوم ہے یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: حج اکبر کا دن۔ فرمایا: اعلان کرو کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ”بیشک اللہ عزوجل نے تم پر تمہارے خون اور تمہارے مال اسی طرح حرام کیے ہیں جیسے تمہارے اس مہینے کی حرمت، تمہارے اس شہر کی حرمت، اور تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا حج مکمل کیا اور جب عرفات میں وقوف کیا تو فرمایا: ”یہ جائے وقوف ہے اور پورا عرفات جائے وقوف ہے۔“ اور جب قُزَح پر وقوف کیا تو فرمایا: ”یہ جائے وقوف ہے اور پورا مزدلفہ جائے وقوف ہے۔“